بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق، بھارت کے کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) نے ایشین کرکٹ کونسل (اے سی سی) کے تحت منعقد ہونے والے تمام ایونٹس سے علیحدگی اختیار کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس فیصلے کی وجہ پاکستان کے ساتھ بڑھتی ہوئی سیاسی کشیدگی کو قرار دیا گیا ہے۔
دی انڈین ایکسپریس کے مطابق، بی سی سی نے اے سی سی کو اپنے فیصلے سے باقاعدہ آگاہ کر دیا ہے، جس میں سری لنکا میں اگلے ماہ ہونے والے ویمنز ایمرجنگ ٹیمز ایشیا کپ اور ستمبر میں شیڈول مردوں کے دو سالہ ایشیا کپ سے دستبرداری کی تصدیق کی گئی ہے۔
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب چند ہفتے قبل پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین محسن نقوی نے اے سی سی کے صدر کا عہدہ سنبھالا تھا۔
بھارتی اخبار کے ذرائع کے مطابق، بی سی سی آئی کا یہ اقدام پاکستان کرکٹ کو سفارتی طور پر تنہا کرنے کی ایک کوشش ہے۔
ایک بی سی سی آئی عہدیدار نے کہا کہ بھارتی ٹیم ایسے کسی ٹورنامنٹ میں حصہ نہیں لے سکتی جسے اے سی سی آرگنائز کر رہی ہو اور اس کے سربراہ ایک پاکستانی وزیر ہوں۔ یہی جذبات تمام سطحوں پر پائے جا رہے ہیں۔
عہدیدار نے مزید کہا کہ اے سی سی ایونٹس میں مستقبل کی شرکت بھارتی حکومت کی ہدایات پر منحصر ہوگی، جس کے ساتھ بی سی سی آئی کا قریبی رابطہ ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ بی سی سی آئی اس بات سے آگاہ ہے کہ اس کی عدم شرکت سے بین الاقوامی کرکٹ کو خاصا کمرشل نقصان ہو سکتا ہے، کیونکہ کئی اہم اسپانسرز کا تعلق بھارت سے ہے۔
یاد رہے کہ 2007 کے بعد بھارت اور پاکستان کے درمیان کوئی دوطرفہ سیریز نہیں ہوئی، اور دونوں ٹیمیں صرف کثیرالملکی ٹورنامنٹس میں نیوٹرل مقامات پر ایک دوسرے کے مدمقابل آتی ہیں۔
گزشتہ سال بھی اسی نوعیت کی صورتحال میں پاکستان نے ایشیا کپ کی میزبانی کے لیے ایک ہائبرڈ ماڈل تجویز کیا تھا کیونکہ بھارت نے پاکستان آ کر کھیلنے سے انکار کر دیا تھا، جس کے نتیجے میں بھارت کے میچز غیر جانبدار مقامات پر کھیلے گئے تھے۔
رواں ماہ کے آغاز میں بھارتی ہیڈ کوچ گوتم گمبھیر نے پاکستان کے ساتھ ہر قسم کے کرکٹ تعلقات، بشمول اے سی سی اورآئی س سی ایونٹس، کے مکمل بائیکاٹ کا مطالبہ کیا تھا۔


























Comments
Comments are closed.