پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس ) میں پیر کے روز اتار چڑھاؤ کا ایک غیر یقینی سیشن دیکھا گیا جہاں بینچ مارک کے ایس ای-100 انڈیکس دن بھر اوپر نیچے جھولتا رہا اور آخر میں تقریباً ہموار سطح پر بند ہوا۔
کاروباری دن کا آغاز مثبت انداز میں ہوا، جس کے باعث انڈیکس انٹرا ڈے کی بلند ترین سطح 120,285.54 پوائنٹس تک پہنچ گیا۔ تاہم بعد ازاں منافع سمیٹنے کے رجحان نے زیادہ تر تیزی ختم کر دی اور انڈیکس کو نیچے دھکیل کر 119,250.67 پوائنٹس کی سطح تک لے آیا۔
کاروباری دن کے آخری گھنٹوں میں ایک بار پھر امید کی کرن نظر آئی، اور اختتام پر کے ایس ای-100 انڈیکس 40.49 پوائنٹس یا 0.03 فیصد اضافے کے ساتھ 119,689.63 پوائنٹس پر بند ہوا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سرمایہ کار آئی ایم ایف کی جانب سے آئندہ وفاقی بجٹ سے مشروط 11 نکات کے باعث محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔
ادھر آئی ایم ایف نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں پاکستان کی جی ڈی پی شرح نمو کو 2024-25 کے مالی سال کے لیے کم کر کے 2.6 فیصد کر دیا ہے جو کہ اکتوبر کی پیش گوئی 3.2 فیصد سے کم ہے۔ یہ کمی رواں مالی سال کی پہلی ششماہی میں کمزور معاشی سرگرمیوں اور عالمی سطح پر غیر یقینی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے کی گئی ہے۔
گزشتہ ہفتے کے دوران پی ایس ایکس میں زبردست تیزی دیکھی گئی، اور پانچ برسوں میں سب سے زیادہ ہفتہ وار اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس تیزی کی وجہ پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی کے اعلان کو قرار دیا جا رہا ہے جس نے مارکیٹ میں نئی جان ڈال دی۔
بینچ مارک کے ایس ای-100 انڈیکس میں ہفتہ وار بنیادوں پر 12,474 پوائنٹس یعنی 11.6 فیصد کا بڑا اضافہ دیکھنے میں آیا اور یہ 107,174.64 پوائنٹس سے بڑھ کر 119,649 پوائنٹس پر بند ہوا۔
دوسری جانب عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے اپنی تازہ رپورٹ میں مالی سال 25-2024 کے لیے پاکستان کی جی ڈی پی شرح نمو کو کم کر کے 2.6 فیصد کر دیا ہے، جبکہ اکتوبر میں 3.2 فیصد کی پیش گوئی کی گئی تھی۔ یہ کمی مالی سال کے پہلے نصف میں کمزور معاشی سرگرمیوں اور عالمی غیر یقینی صورتحال کے باعث ظاہر کی گئی ہے۔
گزشتہ ہفتے پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں زبردست بحالی دیکھی گئی، جہاں پانچ سال کی سب سے بڑی ہفتہ وار بہتری ریکارڈ کی گئی۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی کے اعلان کے بعد مارکیٹ میں زبردست تیزی دیکھی گئی، جس نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مضبوط کیا۔
کے ایس ای-100 انڈیکس میں ہفتہ وار بنیادوں پر 12,474 پوائنٹس یعنی 11.6 فیصد اضافہ ہوا، اور انڈیکس 119,649 پوائنٹس پر بند ہوا، جو پچھلے ہفتے کے 107,174.64 پوائنٹس سے نمایاں بہتری ہے۔
بین الاقوامی سطح پر پیر کو ایشیائی مارکیٹوں میں ملا جلا رجحان دیکھنے میں آیا، کیونکہ چینی معیشت کے تازہ اعداد و شمار سے ظاہر ہوا کہ ملکی معیشت کو مشکلات درپیش ہیں، جب کہ امریکی ٹیرف نے چینی برآمدات پر دباؤ ڈالا ہے۔ دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے تجارتی شراکت داروں پر دباؤ برقرار رکھا ہوا ہے۔
وال اسٹریٹ کے شیئر فیوچرز اور امریکی ڈالر میں بھی کمی دیکھی گئی، جب کہ ٹریژری بانڈز کی ییلڈز میں اضافہ ہوا، کیونکہ موڈیز کی جانب سے امریکہ کی کریڈٹ ریٹنگ میں کمی نے امریکی اقتصادی پالیسیوں کے بارے میں خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔
امریکی قرضہ جو اب 36 ٹریلین ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے، اس پر بھی تشویش بڑھ رہی ہے، خاص طور پر جب ریپبلکن پارٹی ایک بڑے ٹیکس کٹ پیکیج کی منظوری کی کوشش کر رہی ہے، جو ماہرین کے مطابق آئندہ دہائی میں 3 سے 5 ٹریلین ڈالر کے نئے قرض کا سبب بن سکتا ہے۔
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے اتوار کو ٹی وی انٹرویوز میں موڈیز کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر تجارتی شراکت داروں نے ”خلوص نیت“ کے ساتھ معاہدے نہ کیے تو انہیں زیادہ سے زیادہ ٹیرف کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اسکاٹ بیسنٹ رواں ہفتے جی 7 اجلاس میں شرکت کریں گے، جب کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور یورپی کمیشن کی صدر ارسلا وان ڈیر لیین نے اتوار کو تجارتی امور پر ملاقات کی۔
ٹیرف جنگ نے صارفین کے اعتماد پر منفی اثر ڈالا ہے، اور اس ہفتے ہوم ڈپو اور ٹارگٹ کمپنیوں کی آمدنی کی رپورٹس صارفین کے خرچ کے رجحانات پر روشنی ڈالیں گی۔
مارکیٹ میں، ایم ایس سی آئی کا جاپان سے باہر ایشیا پیسیفک شیئرز کا سب سے وسیع انڈیکس 0.2 فیصد نیچے آیا، جب کہ جاپان کا نکئی انڈیکس 0.6 فیصد گر گیا۔
چین کے بلیو چپ اسٹاکس میں 0.4 فیصد کمی دیکھی گئی، کیونکہ اپریل کی ریٹیل سیلز توقعات سے کم رہیں، جب کہ صنعتی پیداوار میں کمی بھی متوقع حد سے کم رہی۔
انٹربینک مارکیٹ میں پیر کے روز پاکستانی روپے کی قدر میں معمولی کمی دیکھی گئی۔ امریکی ڈالر کے مقابلے میں روپیہ کی قدر میں 0.04 تنزلی ہوئی اور کاروبار کے اختتام پر 11 پیسے کمی کے ساتھ 281.77 روپے پر بند ہوا۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں بھی کاروباری سرگرمیوں میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ آل شیئر انڈیکس پر کاروباری حجم کم ہو کر 425.37 ملین شیئرز رہ گیا، جو گزشتہ سیشن میں 572.29 ملین تھا۔
شیئرز کی مجموعی مالیت بھی کم ہو کر 22.27 ارب روپے رہ گئی، جبکہ گزشتہ سیشن میں یہ 29.03 ارب روپے تھی۔
فوجی فوڈز لمیٹڈ 60.60 ملین شیئرز کے ساتھ کاروباری حجم میں سرفہرست رہی، اس کے بعد کریسنٹ اسٹار انشورنس 32.29 ملین شیئرز اور الطہور لمیٹڈ 18.29 ملین شیئرز کے ساتھ نمایاں رہیں۔
پیر کے روز مجموعی طور پر 465 کمپنیوں کے شیئرز کا لین دین ہوا، جن میں سے 222 کے شیئرز کی قیمت میں اضافہ، 199 کے شیئرز کی قیمت میں کمی جبکہ 44 کمپنیوں کے شیئرز مستحکم رہے۔
























Comments
Comments are closed.