عمران خان کے بیٹوں کا غیر معمولی انٹرویو، جیل میں حالت زار، موروثی سیاست پر تنقید
ایک غیر معمولی انٹرویو کے دوران سابق کرکٹر اور پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کے بیٹوں نے جیل میں اپنے والد کی حالت پر حکام کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے اس بات زور دیتے ہوئے کہا کہ ان کے والد کو کمزور نہیں کیا جاسکتا۔ اس کے ساتھ انہوں نے پاکستان میں موروثی سیاسی نظام پر بھی بات چیت کی۔
28 سالہ سلیمان خان اور 26 سالہ قاسم خان نے ان ہتھکنڈوں کی مذمت کی جن کا مقصد عمران خان کو جیل میں توڑنا یا کمزور کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے والد کا حوصلہ اور ایمان ایسا نہیں ہونے دے گا۔
عمران خان اگست 2023 سے قید تنہائی میں ہیں اور 190 ملین پاؤنڈ کرپشن کیس میں اڈیالہ جیل کے اندر سزا کاٹ رہے ہیں۔ ان کیخلاف 9 مئی 2023 کے احتجاج کے سلسلے میں انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمات بھی زیرِ التوا ہیں۔
ایکس یعنی ٹوئٹر پر اثر رسوخ رکھنے والی شخصیت ماریو نوفال سے گفتگو کے دوران جب ان سے پوچھا گیا کہ انہوں نے اب بولنے کا فیصلہ کیوں کیا تو قاسم نے کہا کہ ہم قانونی راستے اختیار کر چکے ہیں۔ ہم نے ہر وہ راستہ اپنایا جو ہمیں لگا کہ اُن کی رہائی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم جو چاہتے ہیں وہ یہ ہے کہ اس وقت پاکستان پر بین الاقوامی دباؤ ڈالا جائے کیونکہ اس وقت وہ (عمران خان) غیر انسانی حالات میں زندگی گزار رہے ہیں۔ انہیں بنیادی انسانی حقوق نہیں دیے جا رہے۔ جو ہونا چاہیے، وہ اُس کے قریب قریب بھی نہیں ہو رہا۔ اور عمران خان کے حوالے سے عالمی دباؤ چاہتے ہیں۔
دونوں بھائیوں نے مزید بتایا کہ عمران خان نہیں چاہتے تھے کہ وہ پاکستان کی سیاست میں حصہ لیں، اور اس کی وجہ ملک میں موروثی سیاست کا غلبہ اور ”پاکستان کی دو بڑی جماعتوں“ کی اجارہ داری ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس انٹرویو کے لیے انہوں نے عمران خان سے باقاعدہ اجازت لی تھی۔
دونوں بھائی اب تک عوامی توجہ سے دور رہے ہیں جب کہ ان کی والدہ برطانوی صحافی اور اسکرین رائٹر جمیما گولڈ اسمتھ، بارہا واضح کر چکی ہیں کہ ان کے بیٹوں کا پاکستانی سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔




















Comments
Comments are closed.