اپنے قرضوں کی عالمی معیار کے مطابق ری اسٹرکچرنگ کررہے ہیں، وزیر خزانہ
- آپ جلد ملکی اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کیلئے متعدد جدید مالیاتی مصنوعات کے بارے میں سنیں گے، محمد اورنگزیب
پاکستان کے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے جمعہ کو کہا کہ ملک اپنے قرضوں کے انتظام کے عمل کو عالمی معیار کے مطابق ری اسٹرکچرنگ کرنے کے مرحلے میں ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ اس ضمن میں، آپ جلد ملکی اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے لیے متعدد جدید مالیاتی مصنوعات کے بارے میں سنیں گے۔
یہ بات انہوں نے پاکستان کے پہلے مقامی گرین سکوک کی تقریب رونمائی کے موقع پر کہی، جس کی مالیت 30 ارب روپے ہے۔ یہ اسلامی بانڈ ماحول دوست منصوبوں کے لیے سرمایہ فراہم کرے گا، اور یہ پاکستان کی مقامی قرضوں کی دوبارہ ترتیب کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔
ذرائع کے مطابق وزارت خزانہ اور اسٹیٹ بینک نے ایسے اقدامات کا آغاز کر دیا ہے جن کے تحت قلیل مدتی قرضوں کو طویل مدتی آلات میں تبدیل کیا جا رہا ہے، اور قرض پر بھاری سود کی ادائیگیوں کو کم کرکے ترقیاتی منصوبوں کے لیے مالی گنجائش پیدا کی جا رہی ہے۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ ہم ملائیشیا کے ماڈل کو فالو کرنا چاہتے ہیں… ہم ان سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں اور اس سمت میں آگے بڑھ سکتے ہیں۔تاہم انہوں نے اس ماڈل کی تفصیلات نہیں بتائیں۔
اسٹیٹ بینک کے گورنر جمیل احمد نے 2024 میں بتایا تھا کہ حکومتی قرض میں قلیل مدتی ٹی بلز کا تناسب 24 فیصد سے کم ہو کر 21 فیصد پر آ گیا ہے، اور 2025 کے اختتام تک یہ 20 فیصد سے بھی نیچے آ سکتا ہے۔
کلائمٹ فنانسنگ
محمد اورنگزیب نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلی پاکستان کے لیے ایک وجودی خطرہ ہے۔ ضروری مالیات دستیاب ہیں، لیکن ساتھ ہی ہمیں ماحولیاتی اصلاحات میں سنجیدگی لانا ہو گی۔
انہوں نے کہا کہ فنانسنگ کو یقینی تصور نہ کریں، اب گیند ہمارے کورٹ میں ہے کہ ہم بینک کے قابل منصوبے لائیں۔
2022 کے تباہ کن سیلاب کے بعد پاکستان ماحولیاتی مالیات حاصل کرنے کے لیے سرگرم ہوا ہے۔گزشتہ ہفتے، آئی ایم ایف نے 1.3 ارب ڈالر کی ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی (آر ایس ایف) کے تحت منظوری دی، جبکہ نومبر 2023 میں ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) سے 500 ملین ڈالر موصول ہوئے تھے۔
اس کے علاوہ، پاکستان نے عالمی بینک کے ساتھ 10 سالہ کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک پر دستخط کیے ہیں تاکہ ماحولیاتی خطرات سے نمٹا جا سکے۔
پی ایس ایکس کی چیئرپرسن ڈاکٹر شمشاد اختر نے کہا کہ پاکستان گرین سکوک اور گرین کنونشنل بانڈز دونوں جاری کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان کو 2030 تک ماحولیاتی موافقت کے لیے 348 ارب ڈالر درکار ہوں گے، جو روایتی مالیات سے ممکن نہیں۔
گرین سکوک کو 4 کھرب ڈالر کی اسلامی فنانس اور 2.5 کھرب ڈالر کے گرین بانڈ مارکیٹ تک رسائی کا ذریعہ تصور کیا جا رہا ہے۔
پاکستان کی توانائی کا 60 فیصد حصہ اب بھی فوسل فیول پر مشتمل ہے، اس لیے ماہرین سمجھتے ہیں کہ گرین سکوک قابل تجدید توانائی کی طرف منتقلی میں مدد دے سکتے ہیں۔
معاشی اشاریے بہتر
وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے بھی شرکا سے خطاب کیا اور معاشی بہتری کے آثار اجاگر کیے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کا قرض جی ڈی پی تناسب 74 فیصد سے کم ہو کر 65 فیصد پر آ گیا ہے، جبکہ ٹیکس کا تناسب 10.6 فیصد ہو چکا ہے، اور توقع ہے کہ مالی سال26 تک یہ 11 فیصد ہو جائے گا۔
خرم شہزاد نے بتایا کہ پاکستان 2025 کی آخری سہ ماہی تک پانڈا بانڈز جاری کرنے کا ارادہ رکھتا ہے تاکہ چینی کیپیٹل مارکیٹس تک رسائی حاصل کی جا سکے۔




















Comments
Comments are closed.