کے ایس ای 100 انڈیکس میں ایک فیصد سے زائد کا اضافہ، تاریخ کی بلند ترین سطح پر بند
- بینچ مارک انڈیکس 1,425.39 پوائنٹس یا 1.2 فیصد کے اضافے کے ساتھ 119,961.91 پوائنٹس پر بند ہوا
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں جمعرات کے کاروباری روز خریداری کا رحجان غالب رہا ہے اور بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 1 فیصد سے زائد اضافے کے ساتھ تاریخ کی بلند ترین سطح 119,962 پوائنٹس پر بند ہوا ہے۔
مارکیٹ میں جمعرات کو پورے سیشن میں خریداری دیکھی گئی جس کے نتیجے میں کے ایس ای 100 انڈیکس انٹرا ڈے کی بلند ترین سطح 119,990.30 پوائنٹس تک پہنچ گیا تھا۔
کاروبار کے اختتام پر بینچ مارک انڈیکس 1,425.39 پوائنٹس یا 1.2 فیصد کے اضافے کے ساتھ 119,961.91 پوائنٹس پر بند ہوا۔

بروکریج ہاؤس ٹاپ لائن سیکورٹیز نے اپنی پوسٹ مارکیٹ رپورٹ میں کہا کہ آج مارکیٹ پر خریداری کا رحجان غالب رہا اور مارکیٹ نئی بلندیوں کی طرف چلی گئی اور اس کی وجہ آئندہ بجٹ کے اعلان سے متعلق اچھی امیدیں ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ریفائنری اسٹاکس نے شعبے کی مخصوص پیشرفت کی بدولت دن کا اختتام مثبت زون میں کیا۔ حکومت او ایم سیز اور ریفائنریز کے درمیان ایک قانونی فریم ورک کو حتمی شکل دینے پر کام کر رہی ہے، جس میں ’ٹیک اور پے‘ جیسے اہم شقیں شامل ہیں، جو مصنوعات کو اوپر اٹھانے اٹھانے اور ایچ ایس ڈی درآمدات پر جاری تنازعات کو حل کرنے سے متعلق ہیں — اس اقدام سے توقع ہے کہ سپلائی چین میں زیادہ وضاحت اور استحکام آئے گا۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ یو بی ایل، انگرو، ایچ یو بی سی، ای ایف ای آر ٹی، اور ایم ای بی ایل جیسی بڑی کمپنیوں نے مثبت رحجان میں اول دستے کا کردار ادا کیا اور مجموعی طور پر انڈیکس میں 656 پوائنٹس کا اضافہ کیا۔
ایک اہم پیش رفت میں اسٹیٹ بینک نے بدھ کو اعلان کیا کہ اسے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سے اسپیشل ڈرائنگ رائٹس (ایس ڈی آر) کی دوسری قسط موصول ہو گئی ہے، جو 760 ملین ایس ڈی آر کے برابر ہے، یعنی تقریباً 1.02 ارب امریکی ڈالر ہے۔
یہ رقم 16 مئی 2025 کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران اسٹیٹ بینک پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں شامل ہوجائیگی۔
مزید برآں پاور ڈویژن 15 اور 16 مئی 2025 کو بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کو سرکلر ڈیٹ کی صورتحال، سالانہ ری بیسنگ کے تخمینے، توانائی شعبے میں دی جانے والی سبسڈی کے حجم و ساخت، اور کاربن لیوی سے متعلق قانون سازی پر ورچوئل بریفنگ دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
وزیرِاعظم شہباز شریف کی حکومت نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سے پاکستان کے توانائی شعبے — جس میں بجلی اور گیس دونوں شامل ہیں — میں اصلاحات سے متعلق متعدد نئے وعدے کیے ہیں۔
یاد رہے کہ بدھ کو اسٹاک ایکسچینج میں اتار چڑھاؤ کے ساتھ کاروبار ہوا جس کی وجہ منافع سمیٹنے کا رجحان تھا۔ بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 39.36 پوائنٹس یا 0.03 فیصد کی معمولی کمی کے ساتھ 118,536 پوائنٹس پر بند ہوا۔
بین الاقوامی مارکیٹوں میں جمعرات کو غیر یقینی صورتحال کا غلبہ رہا، جب کہ ڈالر کی قدر میں بھی گراوٹ دیکھی گئی۔ ہفتے کے آغاز میں جو مثبت رجحانات دیکھنے میں آئے تھے، وہ ماند پڑ گئے اور سرمایہ کار اب امریکی اقتصادی اعداد و شمار کے منتظر ہیں تاکہ آئندہ کے لیے کوئی واضح سمت یا نیا محرک حاصل کیا جا سکے۔
امریکی ٹریژری بانڈز کی ییلڈز میں اضافہ دیکھا گیا اور بینچ مارک 10 سالہ ییلڈ ایک ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی جس کی بنیادی وجہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بجٹ پیکج سے متعلق خدشات ہیں جو امریکی قرضے میں کھربوں ڈالر کے اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔
سرمایہ کاروں کا اس ہفتے کے آغاز میں ایک طرفہ اچھی خبروں کی بھرمار کا سامنا کرنا پڑا، جو کہ امریکہ اور چین کے تجارتی جنگ کی عارضی بندش سے لے کر ٹرمپ کے خلیج کے دورے کے دوران مشرق وسطی سے آنے والے سرمایہ کاری کے کئی نمایاں معاہدوں تک تھا جس نے عالمی اسٹاک مارکیٹ میں نئی قوت بھر دی۔
لیکن جمعرات تک زیادہ تر پر امید ماحول ختم ہوگیا جس کے نتیجے میں ایم ایس سی آئی کا ایشیا-پیسیفک میں جاپان کے علاوہ سب سے وسیع انڈیکس تقریباً مستحکم رہا اور وال اسٹریٹ کے فیوچرز معمولی منافع کے بعد تھوڑے کم ہوگئے۔
دریں اثنا انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں 0.04 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور روپیہ 1 پیسے بڑھنے کے بعد 281 روپے 61 پیسے پر بند ہوا۔
آل شیئرز انڈیکس کا حجم گزشتہ روز کے 609.06 ملین سے بڑھ کر 698.96 ملین ہوگیا۔ تاہم حصص کی مالیت پچھلے سیشن کے 41.91 بلین روپے سے کم ہو کر 39.09 بلین روپے ہوگئی۔
پاک ریفائنری 50.82 ملین شیئرز کے ساتھ والیم لیڈر رہی۔ اس کے بعد سنرجیکو پی کے 47.57 ملین شیئرز کے ساتھ دوسرے اور کے-الیکٹرک لمیٹڈ 40.25 ملین شیئرز کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہی۔
جمعرات کو 458 کمپنیوں کے شیئرز کی تجارت ہوئی، جن میں سے 312 کے حصص میں اضافہ، 107 میں کمی ریکارڈ کی گئی جبکہ 39 کمپنیوں کے حصص میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی۔
























Comments
Comments are closed.