پاکستان کی معیشت نے پچھلے دو سالوں میں میکرو اکنامک معجزہ دکھایا، بیرنز
- مہنگائی کی شرح مئی 2023 میں 38 فیصد کی بلند ترین سطح سے اپریل 2025 میں 0.3 فیصد تک کم ہونے جیسے اہم اشارے شامل ہیں
امریکی ہفتہ وار جریدے بیرنز، جو ڈاؤ جونز اینڈ کمپنی کے ذریعے شائع ہوتا ہے، نے پاکستان کی حالیہ معاشی بحالی کو ایک ”قسم کا میکرو اکنامک معجزہ“ قرار دیتے ہوئے سراہا ہے، تاہم ساتھ ہی ملک کو درپیش نازک صورتحال اور گہرے ساختی خطرات پر بھی روشنی ڈالی ہے۔
منگل کو شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق، 25 کروڑ 50 لاکھ آبادی والا ملک گزشتہ دو برسوں میں ایک قسم کا میکرو اکنامک معجزہ کر چکا ہے، جس میں مہنگائی کی شرح مئی 2023 میں 38 فیصد کی بلند ترین سطح سے اپریل 2025 میں 0.3 فیصد تک کم ہونے جیسے اہم اشارے شامل ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ 2031 میں میچور ہونے والے یوروبانڈز 40 سینٹ فی ڈالر سے بڑھ کر 80 سینٹ تک پہنچ گئے ہیں۔ پاکستان اسٹاک ایکسچینج انڈیکس تین گنا ہو چکا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی حکومت نے گزشتہ ستمبر میں آئی ایم ایف کے ساتھ 7 ارب ڈالر کے مستحکم معاہدے پر دستخط کیے، جس میں سے 2 ارب ڈالر سے زائد کی رقم جاری کی جا چکی ہے۔“
سینڈ گلاس کیپٹل مینجمنٹ کی چیف انویسٹمنٹ آفیسر گینا لوزوسکی، نے بیرنز کو بتایا: پاکستان ایک اچھی کہانی ہے… اتنی اچھی کہ اب ہمارے لیے کافی رسکی بھی نہیں رہی۔
رپورٹ کے مطابق، بھارت کے ساتھ حالیہ مسلح تصادم کے باوجود پاکستان کی بحالی متاثر ہونے کا امکان نہیں۔ یہ خیال وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بھی ظاہر کیا، جنہوں نے رائٹرز کو بتایا کہ یہ ایک ”قلیل المدتی کشیدگی“ تھی جس کے مالی اثرات معمولی ہیں اور حکومت کے دستیاب مالیاتی دائرے میں پورے کیے جا سکتے ہیں۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ پاکستان اب بھی بین الاقوامی قرض دہندگان، خاص طور پر آئی ایم ایف پر انحصار کرتا ہے، اور اس کے بیل آؤٹ پروگرام کے تحت ہے۔
بیرنگز میں ابھرتی ہوئی مارکیٹس کے ماہر خالد سیلامی کے مطابق پاکستان تاریخی طور پر بوم اینڈ بسٹ سائیکل کا شکار رہا ہے، مگر ان کے بقول، اس بار کچھ مثبت علامات ہیں—مثلاً کرنٹ اکاؤنٹ بیلنس مثبت ہے اور بنیادی مالی خسارہ (یعنی سودی ادائیگیوں کے بغیر) سرپلس میں ہے، جو کئی سالوں سے نہیں دیکھا گیا۔
وولٹن کیپٹل مینجمنٹ کی چیف انویسٹمنٹ آفیسر ایلیسن گراہم نے کہا کہ 2023 میں سب کو لگتا تھا کہ پاکستان، سری لنکا کے ساتھ ڈیفالٹ کر جائے گا، مگر ایسا نہ ہوا۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے شرح سود کو 10 فیصد سے بڑھا کر 22 فیصد تک پہنچایا، جس سے مہنگائی پر قابو پانے میں مدد ملی۔ جون 2024 سے اب تک، مرکزی بینک نے شرح سود میں 1,100 بیسس پوائنٹس کی کمی کی ہے، جو اب تقریباً 11 فیصد ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان کے خودمختار قرض دہندگان—چین، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات—نے اپنے قرضے تو ری شیڈول کیے مگر نیا قرض نہیں دیا۔ ملک کی جی ڈی پی کی شرح نمو 2.5 فیصد تک واپس آ گئی ہے، اور اس کے مالیاتی حسابات غیرمعمولی طور پر متوازن ہو چکے ہیں۔
تاہم ، بیرنز نے خبردار کیا کہ پاکستان کو اب بھی کئی چیلنجز درپیش ہیں—جیسا کہ ٹیکس آمدن میں 50 فیصد اضافہ، بجلی کی سبسڈیز میں کٹوتی، اور دیگر سخت فیصلے جو آئی ایم ایف پروگرام کا حصہ ہیں۔
برآمدات کے حوالے سے بھی پاکستان کو کارکردگی بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔
خالد سیلامی کے مطابق کہ کپاس، گارمنٹس اور اناج پاکستان کی دو تہائی برآمدات پر مشتمل ہیں۔ اب ملک آہستہ آہستہ آئی ٹی آؤٹ سورسنگ کی طرف بڑھ رہا ہے، جہاں بیرونی آمدن حالیہ برسوں میں صفر سے بڑھ کر سالانہ 3 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے—جبکہ بھارت کی اسی شعبے سے آمدن 200 ارب ڈالر کے قریب ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ اگر پاکستان نے اپنی معیشت میں ویلیو ایڈڈ اقدامات نہ کیے تو سیاسی فیصلے اور بے دریغ اخراجات اسے ایک بار پھر بوم اینڈ بسٹ سائیکل کی طرف دھکیل سکتے ہیں۔
ایلیسن گراہم کے مطابق پاکستان اب بھی بیرونی جھٹکوں کے لیے انتہائی حساس ہے۔ اگر مارکیٹ میں ریلی ہو تو فائدہ تب ہی ہوگا جب وقت پر سرمایہ کاری کی جائے۔
خالد سیلامی پاکستانی یوروبانڈز پر مثبت رائے رکھتے ہیں، تاہم خبردار کرتے ہیں کہ پاکستان کے لیے بین الاقوامی مالی تعاون اب مشروط ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب سے پاکستان کی امریکہ کے لیے اسٹرٹیجک اہمیت کم ہوئی ہے، اس کے اتحادی جیسے چین اور خلیجی ممالک یہ واضح کر چکے ہیں کہ وہ بغیر شرائط کے مالی امداد نہیں دیں گے۔ حکومت جانتی ہے کہ اگر وہ توازن سے ہٹی تو بیرونی مالی تعاون نہیں ملے گا۔




















Comments
Comments are closed.