اسٹاک ایکسچینج میں خریداری کا رجحان جاری، 100 انڈیکس 1300 پوائنٹس اضافے کے ساتھ بند
- ٹریڈنگ کے دوران ایک موقع پر 100 انڈیکس ایک لاکھ 20 ہزار کی بلند سطح عبور کرگیا تھا
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں منگل کے روز تیزی کا رجحان جاری رہا کیونکہ سرمایہ کاروں نے بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی معاہدے کا خیرمقدم کیا، جس کے نتیجے میں بینچ مارک کے ایس ای-100 انڈیکس تقریباً 1,300 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ بند ہوا۔
اسٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا آغاز زبردست تیزی کے ساتھ ہوا، ایک موقع پر ٹریڈنگ کے دوران کے ایس ای 100 انڈیکس تقریباً 2,800 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ انٹرا ڈے کی بلند ترین سطح 120,067.12 پوائنٹس تک پہنچ گیا۔
تاہم مارکیٹ کے تجزیہ کاروں نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ سرمایہ کاروں کی جانب سے منافع سمیٹنے کا رجحان بڑھ گیا جس کے نتیجے میں تیزی زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکی۔
کاروباری سیشن کے آخری لمحات میں خریداری کا رجحان واپس آیا، اور کاروبار کے اختتام پر بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 1,278.15 پوائنٹس یا 1.09% اضافے کے ساتھ 118,575.88 پوائنٹس پر بند ہوا۔
اہم پیش رفت میں وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے پیر کو رائٹرز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ کو اگلے تین سے چار ہفتوں میں حتمی شکل دے دی جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ بجٹ سے متعلق آئی ایم ایف سے بات چیت 14 مئی سے 23 مئی تک شیڈول ہے۔
پیر کو اسٹاک مارکیٹ میں زبردست بحالی دیکھنے میں آئی تھی، جس کی وجہ بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے اور آئی ایم ایف کی جانب سے اہم فنڈنگ کی منظوری سمیت متعدد مثبت پیشرفت تھیں۔
گزشتہ روز بینچ مارک کے ایس ای-100 انڈیکس میں تاریخ میں پہلی بار 10,123 پوائنٹس کا تاریخی اضافہ ہوا جس کے نتیجے میں 100 انڈیکس 117,297.73 پوائنٹس پر بند ہوا۔
ادھر بھارت کے بینچ مارک انڈیکس میں منگل کو ٹریڈنگ کا آغاز منفی زون میں ہوا، حالانکہ ویک اینڈ پر پاکستان کے ساتھ نازک جنگ بندی کے بعد انہوں نے گزشتہ 4 سال سے زائد کا بہترین دن گزارا تھا۔
بھارت کے معیاری وقت صبح 9:25 کے اعداد وشمار کے مطابق نِفٹی 50 24,784.95 پر 0.52% نیچے تھا اور BSE سینسیکس 81,900.2 پر 0.64% کھوگیا۔
صبح 9:25 بجے (بھارتی وقت) تک نفٹی 50 انڈیکس 0.52 فیصد کمی کے ساتھ 24,784.95 پر آ گیا،جبکہ بی ایس ای سینسیکس 0.64 فیصد کی گراوٹ کے ساتھ 81,900.2 پر بند ہوا۔
13 میں سے 8 بڑے شعبے مارکیٹ کھلتے ہی مندی کا شکار رہے جبکہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے حصص تقریباً 0.2 فیصد اضافے کے ساتھ ٹریڈ ہورہے ہیں۔
پیر کو نفٹی 50 اور سینسیکس میں تقریباً 4 فیصد کا زبردست اضافہ دیکھنے میں آیا جب بھارت اور پاکستان کے درمیان سرحدی جھڑپوں کے بعد جنگ بندی کا معاہدہ ہوا اور اُس پر عملدرآمد بھی برقرار رہا، جس کے باعث مارکیٹ میں مجموعی ریلیف ریلی دیکھنے کو ملی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق پیر کی ریلی کے بعد بینچ مارک انڈیکسز کے استحکام کا امکان ہے۔
عالمی سرمایہ کاروں کا اعتماد اُس وقت بڑھ گیا جب امریکہ اور چین نے عارضی طور پر ایک دوسرے پر عائد سخت متبادل ٹیرف میں کمی کرنے اور عالمی معیشت کو متاثر ہونے سے بچانے کے لیے تعاون کرنے پر اتفاق کیا۔
ایم ایس سی آئی کا ایشیا ایکس جاپان انڈیکس پیر کو 0.3 فیصد اضافے سے ٹریڈ ہوا جو کہ پچھلے سیشن میں 2 فیصد کے اضافے کے بعد تجارتی امیدوں کے باعث تھا۔
دریں اثنا انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں 0.04 فیصد کی کمی واقع ہوئی اور روپیہ 10 پیسے کمی کے بعد 281 روپے 61 پیسے پر بند ہوا۔
آل شئیرز انڈیکس پر حجم 684.29 ملین سے کم ہو کر 732.88 ملین ہوگیا ہے
شئیرز کی قیمت 30.38 بلین روپے سے بڑھ کر 52.59 بلین روپے ہو گئی۔
ورلڈ کال ٹیلی کام 41.73 ملین شئیرز کے ساتھ والیم لیڈر رہی۔ میپل لیف 41.05 ملین شئیرز کے ساتھ دوسرے اور سوئی سدرن گیس 35.77 ملین شئیرز کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہی۔
منگل کو 462 کمپنیوں کے شئیرز کے سودے ہوئے ۔221 کمپنیوں کے حصص میں اضافہ جبکہ 194 کے حصص میں کمی واقع ہوئی ہاور 47 کمپنیوں کے حصص مستحکم رہے۔
























Comments
Comments are closed.