بھارتی میزائل حملوں میں شہادتوں کی تعداد 31 ہوگئی، ڈی جی آئی ایس پی آر
- مسلح افواج کو بھارتی جارحیت کا بروقت جواب دینے کا اختیار حاصل ہے، ترجمان پاک فوج
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے اپنی حالیہ پریس کانفرنس میں بتایا کہ بدھ کی علی الصبح بھارت کی جانب سے پاکستان کے 6 مقامات پر میزائل حملوں کے نتیجے میں کم از کم 31 افراد شہید اور 57 زخمی ہو گئے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارت کے ان بلااشتعال حملوں کے جواب کا حق پاکستان محفوظ رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت نے معصوم شہریوں اور بچوں کو نشانہ بنایا، جو دہشت گردی کے مترادف ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید بتایا کہ پاکستانی افواج نے بھارتی ڈرونز اور طیارے مار گرائے جبکہ تمام پاکستانی طیارے محفوظ رہے۔
انہوں نے کہا کہ قومی سلامتی کمیٹی کے اعلامیے نے مسلح افواج کو اختیار دیا ہے کہ وہ بھارتی حملوں کا وقت اور طریقہ کار خود طے کر کے جواب دیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے نشاندہی کی کہ بھارت کے یہ حملے شہری آبادی اور آبی انفراسٹرکچر پر تھے، جو بین الاقوامی قوانین، خصوصاً جنیوا کنونشنز کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جنیوا کنونشن کے تحت شہریوں اور اہم انفرا اسٹرکچر، جیسے ڈیمز، کو کسی تنازعے کے دوران نشانہ نہیں بنایا جا سکتا۔ بھارت نے ان پر حملہ کر کے بین الاقوامی انسانی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔
”دشمن کو اس کا خمیازہ بھگتنا ہوگا“
دوسری جانب، وزیراعظم شہباز شریف نے بدھ کے روز اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان اپنے شہداء کے خون کا حساب لے گا اور دشمن کو اس کا خمیازہ بھگتنا ہوگا۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے پہلگام حملے کی شفاف اور آزادانہ تحقیقات کی پیشکش کی، لیکن بھارت نے اس پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔
انہوں نے کہا کہ اس کے بجائے، انہوں نے ہماری سرزمین پر میزائل داغے، یہ سوچ کر کہ ہم پیچھے ہٹ جائیں گے اور جواب نہیں دیں گے۔
”پاکستان کا جواب ابھی باقی ہے“
ادھر، پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین اور سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے بھارت کو خبردار کیا کہ پاکستان کا جواب ابھی باقی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان جنگ کا حامی نہیں، لیکن حملے کے بعد جواب دینے کا حق رکھتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ آپ نے ہم پر حملہ کیا، معصوم شہریوں، بچوں اور ہماری زمین کو نشانہ بنایا … اب تیاری کریں کیونکہ پاکستان کا جواب ابھی آنا باقی ہے۔




















Comments
Comments are closed.