پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین اور سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے بدھ کے روز بھارت کو حالیہ حملے کے جواب کے بارے میں خبردار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا جواب ابھی آنا باقی ہے۔
قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ پاکستان جنگ کے حق میں نہیں لیکن حملے کے بعد جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا ’’آپ نے ہم پر حملہ کیا، بے گناہ شہریوں، بچوں اور ہماری سرزمین پر حملہ کیا، اب آپ کو تیاری کرنی ہوگی کیونکہ پاکستان کا جواب ابھی آنا باقی ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت پاکستان کو کسی بھی جارحیت کا جواب دینے کا حق حاصل ہے۔
ان کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایک حالیہ حملے کے بعد خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے جس میں پاکستان نے دعویٰ کیا تھا کہ ایک بچے سمیت متعدد شہریوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
بلاول بھٹو نے ملک کے اتحاد اور عزم پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تمام صوبے اور عوام وزیراعظم اور مسلح افواج کے ساتھ کھڑے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم متحد اور تیار ہیں۔
بھارت کی معاشی اور بڑی آبادی کا اعتراف کرتے ہوئے پی پی پی کے چیئرمین نے جارحانہ لہجے میں کہا کہ بھارت بڑا اور امیر ہوسکتا ہے لیکن جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ جو جتنا بڑا ہوگا وہ اتنا ہی زیادہ نقصان اٹھائے گا۔
بلاول بھٹو زرداری نے شدید تنقید کرتے ہوئے بھارت پر ’وحشیانہ ’ رویہ اپنانے کا الزام عائد کیا اور اسے ’چڑیل ’ ریاست سے تشبیہ دی۔ انہوں نے پاکستان کے خلاف بھارت کی جانب سے دہشت گردی کے دیرینہ الزامات کو فرسودہ اور غیر موثر قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا۔
انہوں نے حالیہ پہلگام حملے میں پاکستان کو ملوث کرنے کے بھارتی دعووں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ 2021 یا 2023 نہیں ہے، اب کوئی بھی ملک دوسرے ملک پر دہشت گردی کا بے سروپا الزام نہیں لگا سکتا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ”سچائی، انصاف اور تاریخ ہمارے ساتھ ہے۔“
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اور کشمیری عوام کو دہشت گردی کا سہارا لینے کی ضرورت نہیں ہے۔ بین الاقوامی قانون کے مطابق ہم سچ کے ساتھ جبکہ بھارت جھوٹ کے سہارے کھڑا ہے۔
سرحد پار واقعے کی نوعیت کی مذمت کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے اسے بزدلانہ کارروائی قرار دیتے ہوئے کہا کہ حملہ رات کے وقت ہوا اور اس میں ایک بچے کو نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے کہا، ’اگر ان میں ہمت ہوتی تو وہ دن کی روشنی میں ہمارے فوجی جوانوں کا سامنا کرتے۔ لیکن انہوں نے اندھیرے کا انتخاب کیا اور اب پوری دنیا ان کی مذمت کر رہی ہے۔
سرحدی کشیدگی میں حالیہ اضافے کے ردعمل میں یہ اشتعال انگیز تقریر کسی سینئر پاکستانی سیاست دان کی جانب سے اب تک کا سب سے سخت رد عمل ہے۔



















Comments
Comments are closed.