بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ بھارت بدھ کے روز شہری دفاع کی فرضی مشقیں کرے گا کیونکہ بھارت کے غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر میں ہونے والے حملے کے بعد علاقائی تنازع کے خدشات بڑھ گئے ہیں جس کا الزام نئی دہلی نے پاکستان پر عائد کیا ہے۔
وزارت اطلاعات کے سینئر مشیر کنچن گپتا نے ایک بیان میں کہا کہ وزارت داخلہ نے کئی ریاستوں سے کہا ہے کہ وہ موثر شہری دفاع کے لئے فرضی مشقیں کریں۔
گپتا نے کہا کہ اس میں ”انخلاء کے منصوبے“ کی مشق کرنا اور ”شہری دفاع کے پہلوؤں پر شہریوں ، طلباء وغیرہ کی تربیت شامل ہوگی تاکہ دشمن کے حملے کی صورت میں خود کو بچایا جاسکے“۔
امریکہ نے پہلگام میں حملے کی مذمت کی، مقبوضہ کشمیر کے بارے میں کوئی موقف اختیار نہیں کیا۔
مشقوں میں فضائی حملوں کی وارننگ سائرن کا تجربہ بھی کیا جائے گا، بلیک آؤٹ کے لئے تیار کیا جائے گا اور اہم تنصیبات کو چھپانے کے لئے تیار کیا جائے گا۔
نئی دہلی نے 22 اپریل کو بھارت کے غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر میں سیاحتی مقام پہلگام میں شہریوں پر ہونے والے حملے کا الزام پاکستان پر عائد کیا ہے۔
پاکستان ان الزامات کو مسترد کرتا ہے اور بارہا واضح کر چکا ہے کہ وہ بھارت کی کسی بھی جارحیت کا طاقت سے جواب دے گا۔
پہلگام حملے کے بعد پاکستان اور بھارت اس کا حل نکال لیں گے: ٹرمپ
اسلام آباد نے پیر کے روز کہا تھا کہ اس نے زمین سے زمین تک مار کرنے والے میزائل کا دوسرا تجربہ کیا ہے جس کی رینج 120 کلومیٹر (75 میل) ہے۔
بھارتی فوج نے پیر کے روز کہا تھا کہ اس کے فوجیوں نے لائن آف کنٹرول کے اس پار متعدد مقامات پر پاکستانی فوجیوں کے ساتھ رات بھر فائرنگ کا تبادلہ کیا تھا، جس کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ یہ 24 اپریل سے ہر رات ہو رہا ہے۔






















Comments
Comments are closed.