BR100 Increased By (0.12%)
BR30 Increased By (0.28%)
KSE100 Increased By (0.26%)
KSE30 Increased By (0.26%)
BAFL 58.16 Decreased By ▼ -1.57 (-2.63%)
BIPL 27.23 Increased By ▲ 0.23 (0.85%)
BOP 34.40 Increased By ▲ 0.29 (0.85%)
CNERGY 13.11 Increased By ▲ 0.27 (2.1%)
DFML 18.40 Increased By ▲ 0.15 (0.82%)
DGKC 213.66 Increased By ▲ 0.64 (0.3%)
FABL 99.56 Increased By ▲ 0.57 (0.58%)
FCCL 58.06 Increased By ▲ 0.40 (0.69%)
FFL 16.23 Increased By ▲ 0.03 (0.19%)
GGL 23.98 Increased By ▲ 0.18 (0.76%)
HBL 338.16 Increased By ▲ 4.45 (1.33%)
HUBC 213.36 Increased By ▲ 1.93 (0.91%)
HUMNL 10.58 Increased By ▲ 0.06 (0.57%)
KEL 7.43 Decreased By ▼ -0.05 (-0.67%)
LOTCHEM 27.67 Decreased By ▼ -0.32 (-1.14%)
MLCF 102.75 Increased By ▲ 2.10 (2.09%)
OGDC 318.92 Decreased By ▼ -1.37 (-0.43%)
PAEL 43.10 Decreased By ▼ -0.02 (-0.05%)
PIBTL 16.63 Increased By ▲ 0.07 (0.42%)
PIOC 273.00 Increased By ▲ 1.27 (0.47%)
PPL 229.45 Increased By ▲ 0.61 (0.27%)
PRL 70.80 Decreased By ▼ -0.22 (-0.31%)
SNGP 104.58 Increased By ▲ 2.36 (2.31%)
SSGC 27.41 Increased By ▲ 0.73 (2.74%)
TELE 8.53 Decreased By ▼ -0.08 (-0.93%)
TPLP 15.76 Increased By ▲ 0.65 (4.3%)
TRG 60.29 Increased By ▲ 0.45 (0.75%)
UNITY 11.72 Decreased By ▼ -0.33 (-2.74%)
WTL 1.20 Decreased By ▼ -0.03 (-2.44%)

خام تیل کی قیمتیں جمعہ کو ایک ماہ کی بلند ترین سطح کے پہنچ گئیں اور مسلسل تیسرے ہفتے اضافے کی جانب گامزن ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ عالمی سپلائی میں ممکنہ سختی ہے جو امریکہ کی جانب سے وینزویلا سے تیل وگیس خریدنے والے ممالک پر محصولات عائد کرنے اور ایرانی تیل کی تجارت پر پابندیاں لگانے کے بعد مزید بڑھ گئی ہے۔

برینٹ کروڈ فیوچر 8 سینٹ یا 0.1 فیصد کی کمی سے 73.95 ڈالر فی بیرل پر آگیا۔

امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کی قیمت بھی 8 سینٹ یا 0.1 فیصد کی کمی سے 69.84 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔

رواں ہفتے تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد سے زائد اضافہ ہوا تاہم تازہ ترین تبدیلیاں نسبتاً معمولی رہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو وینزویلا کے خام تیل کے ممکنہ خریداروں پر 25 فیصد نئے محصولات کا اعلان کیا جو چند روز قبل چین کی ایرانی تیل کی درآمدات کو ہدف بنانے والی امریکی پابندیوں کے بعد سامنے آیا۔

اس حکم نامے نے خریداروں کے لیے مزید غیر یقینی صورتحال پیدا کردی اور چین کو وینزویلا کے تیل کی ترسیل میں تعطل دیکھنے میں آیا۔

ذرائع کے مطابق بھارتی کمپنی ریلائنس انڈسٹریز، جو دنیا کے سب سے بڑے ریفائننگ کمپلیکس کی مالک ہے نے وینزویلا سے تیل کی درآمد بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

دوسری جانب امریکہ میں خام تیل کی گرتی ہوئی ذخیرہ اندوزی اور بہتر طلب کی علامات نے تیل کی قیمتوں کو سہارا دیا۔

امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن (ای آئی اے) کے مطابق 21 مارچ کو ختم ہونے والے ہفتے میں امریکی خام تیل کے ذخائر 3.3 ملین بیرل کی کمی کے ساتھ 433.6 ملین بیرل رہ گئے، جو 956,000 بیرل کمی کی ماہرین کی پیشگوئی سے کہیں زیادہ ہے۔

عالمی سطح پر تیل کی تجارت میں غیر یقینی صورتحال بڑھ رہی ہے کیونکہ امریکہ کی جانب سے مختلف تجارتی شراکت دار ممالک پر محصولات اقتصادی سست روی کے خدشات کو جنم دے رہے ہیں، جو تیل کی طلب پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔

اسی وجہ سے، ماہرین توقع نہیں کرتے کہ موجودہ حالات میں تیل کی قیمتوں میں تیزی زیادہ دیر برقرار رہے گی۔

Comments

Comments are closed.