BR100 Decreased By (-0.96%)
BR30 Decreased By (-1.08%)
KSE100 Decreased By (-0.88%)
KSE30 Decreased By (-0.81%)
BAFL 56.30 Decreased By ▼ -0.44 (-0.78%)
BIPL 26.85 Decreased By ▼ -0.19 (-0.7%)
BOP 33.12 Decreased By ▼ -0.56 (-1.66%)
CNERGY 10.12 Increased By ▲ 0.31 (3.16%)
DFML 17.93 Decreased By ▼ -0.59 (-3.19%)
DGKC 204.20 Decreased By ▼ -3.67 (-1.77%)
FABL 97.20 Decreased By ▼ -1.70 (-1.72%)
FCCL 52.80 Decreased By ▼ -0.72 (-1.35%)
FFL 16.28 Decreased By ▼ -0.40 (-2.4%)
GGL 23.58 Increased By ▲ 0.01 (0.04%)
HBL 300.69 Decreased By ▼ -3.70 (-1.22%)
HUBC 216.15 Decreased By ▼ -1.96 (-0.9%)
HUMNL 10.46 Decreased By ▼ -0.20 (-1.88%)
KEL 7.13 Decreased By ▼ -0.22 (-2.99%)
LOTCHEM 28.50 Decreased By ▼ -0.61 (-2.1%)
MLCF 93.27 Decreased By ▼ -2.23 (-2.34%)
OGDC 316.58 Decreased By ▼ -1.36 (-0.43%)
PAEL 41.00 Decreased By ▼ -0.83 (-1.98%)
PIBTL 16.29 Decreased By ▼ -0.21 (-1.27%)
PIOC 283.50 Increased By ▲ 3.49 (1.25%)
PPL 218.80 Decreased By ▼ -0.94 (-0.43%)
PRL 47.20 Increased By ▲ 2.61 (5.85%)
SNGP 105.39 Decreased By ▼ -2.10 (-1.95%)
SSGC 28.18 Decreased By ▼ -0.75 (-2.59%)
TELE 8.58 Decreased By ▼ -0.18 (-2.05%)
TPLP 12.20 Increased By ▲ 0.10 (0.83%)
TRG 59.00 Decreased By ▼ -1.03 (-1.72%)
UNITY 9.92 Decreased By ▼ -0.19 (-1.88%)
WTL 1.22 Decreased By ▼ -0.01 (-0.81%)

وفاقی وزیر توانائی (پیٹرولیم ڈویژن) نے کہا ہے کہ حکومت کو گزشتہ 10 سالوں میں سرکاری اداروں (ایس او ایز) میں 5.598 ٹریلین روپے کے نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

ہفتہ کو قومی اسمبلی میں توجہ دلاؤ نوٹس کا جواب دیتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ سرکاری اداروں (ایس او ایز) کو ایک سال میں مجموعی طور پر 950 ارب روپے کا نقصان اٹھانا پڑا۔

انہوں نے کہا کہ خسارے کا سامنا کرنے والی ایس او ایز میں پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے)، پاکستان اسٹیل ملز، نیشنل ہائی ویز اتھارٹی (این ایچ اے) اور دیگر شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے پاکستان منرلز ڈیولپمنٹ کارپوریشن سمیت خسارے کا سامنا کرنے والی حکومت کی تمام کمپنیوں کی بتدریج نجکاری کا فیصلہ کیا ہے۔ ہم نجی اسٹاک ہولڈرز کے لئے اپنی کمپنیوں کو ترقی دینے کے لئے جگہ پیدا کرنا چاہتے ہیں۔

پاکستان منرلز ڈیولپمنٹ کارپوریشن کی مجوزہ نجکاری کے حوالے سے وفاقی وزیر نے کہا کہ پی ایم ڈی سی میں 2 ہزار ملازمین کام کر رہے ہیں اور ان میں سے کوئی بھی کان کنی کا کام نہیں کر رہا۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ یہ صوبوں کا استحقاق ہے کہ وہ اپنی ماتحت کمپنیوں کو جاری رکھیں یا ان کی نجکاری کریں۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2024

Comments

Comments are closed.