قیمتوں میں نمایاں کمی اور معاہدے پر ازسرِنو مذاکرات کے بغیر ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبہ معاشی لحاظ سے قابلِ عمل نہیں
صرف پائپ لائن کا وجود توانائی کے تحفظ کی ضمانت نہیں بنتا۔ ایسی گیس کو ایک ایسی منڈی میں لانا، جو ابھی وجود ہی نہیں رکھتی اور جہاں صارفین اس کی قیمت ادا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے، کسی مسئلے کا حل نہیں
امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ مفاہمت، جس میں پاکستان نے مبینہ طور پر سہولت کاری کا کردار ادا کیا ہے، نہ صرف خطے میں کشیدگی میں کمی کی علامت ہے بلکہ اسلام آباد کے لیے ایک نادر سفارتی موقع بھی پیش کرتی ہے
تاہم اصل سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان اس سفارتی پیش رفت کو محض علامتی کامیابی کے طور پر دیکھے گا یا اسے ٹھوس معاشی، تزویراتی اور علاقائی فوائد میں تبدیل کرنے میں کامیاب ہو سکے گا