آئی ایم ایف پروگرام پوری حکومت کا پروگرام ہے، وزارت خزانہ کا نہیں
- پروگرام کی تشکیل اور مذاکرات پر وزارت خزانہ کے سخت کنٹرول کا تاثر درست نہیں، وزارت خزانہ
وزارت خزانہ نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف پروگرام صرف وزارت خزانہ کا نہیں بلکہ پوری حکومت کا پروگرام ہے، اس لیے پروگرام کی تشکیل اور مذاکرات پر وزارت خزانہ کے سخت کنٹرول کا تاثر درست نہیں۔
وزارت خزانہ کے مطابق آئی ایم ایف کی ای ایف ایف اور آر ایس ایف سہولتوں کے تحت اصلاحات اور وعدے متعدد وفاقی و صوبائی اداروں کے دائرہ کار میں آتے ہیں، جن میں وزارت خزانہ، منصوبہ بندی کمیشن، وزارت توانائی، صوبائی حکومتیں، ایف بی آر، اسٹیٹ بینک اور دیگر متعلقہ ادارے شامل ہیں۔ متعلقہ وزارتیں اور ادارے اپنے اپنے شعبوں سے متعلق تکنیکی مذاکرات اور اہداف کے تعین میں قیادت کرتے ہیں۔
وزارت خزانہ نے کہا کہ آئی ایم ایف پروگرام صرف مالیاتی اعداد و شمار یا مالی اہداف تک محدود نہیں، بلکہ اس میں معاشی نمو کے لیے ساختی اصلاحات، سماجی تحفظ، گورننس، توانائی کے شعبے کی کارکردگی، موسمیاتی لچک اور معیشت میں بگاڑ کم کرنے کے اقدامات بھی شامل ہیں۔
وزارت کے مطابق پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی (پی ڈی ایل) آئی ایم ایف پروگرام کا مرکزی نکتہ نہیں۔ پروگرام کی مالیاتی حکمت عملی میں ایف بی آر کی محصولات میں اضافہ، ٹیکس دائرہ کار میں توسیع، صوبائی ٹیکس اصلاحات اور اخراجات کو معقول بنانا شامل ہے۔ تاہم وزارت نے واضح کیا کہ آئی ایم ایف کے پروگرام دستاویزات میں پیٹرولیم قیمتوں اور لیویز سے متعلق اقدامات بھی شامل ہیں، جن کے تحت مقامی ایندھن کی قیمتوں کو عالمی قیمتوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے باقاعدہ ایڈجسٹمنٹ کی جاتی ہے۔
وزارت خزانہ نے کہا کہ مہنگائی، بے روزگاری، غربت اور کم شرح نمو کو براہ راست پی ڈی ایل سے جوڑنا درست نہیں، کیونکہ ان نتائج پر جغرافیائی سیاسی صورتحال، عالمی و مقامی اجناس کی قیمتیں، شرح مبادلہ، زری حالات، مالیاتی عدم توازن اور عالمی جھٹکے سمیت متعدد عوامل اثرانداز ہوتے ہیں۔
وزارت خزانہ نے مزید کہا کہ مالیاتی استحکام کے ساتھ سماجی تحفظ کو بھی یقینی بنایا گیا ہے، جبکہ بی آئی ایس پی کے لیے اخراجات اور نقد امداد میں مہنگائی کے مطابق ایڈجسٹمنٹ جیسے اقدامات پروگرام میں شامل ہیں۔ پائیدار معاشی نمو کے لیے استحکام اور نمو کو باہم متضاد نہیں بلکہ استحکام سے پائیدار نمو کی جانب منتقلی کے طور پر دیکھنا چاہیے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026


Comments