امریکا نے سعودی عرب کو ایف 35 طیاروں کی فروخت کی منظوری دیدی
- مجوزہ معاہدے کی مالیت تقریباً 24.3 ارب ڈالر ہے، تاہم اس کے لیے امریکی کانگریس کی منظوری بھی درکار ہوگی
امریکی محکمہ خارجہ نے جمعرات کو سعودی عرب کو لاک ہیڈ مارٹن کے ایف 35 لائٹننگ ٹو جنگی طیاروں کی ممکنہ فروخت کی منظوری دے دی۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب سعودی عرب مشرق وسطیٰ کی جنگ کے باعث خطے میں بڑھتی کشیدگی کے درمیان دفاعی تعاون کو مزید مضبوط کر رہا ہے۔
مجوزہ معاہدے کی مالیت تقریباً 24.3 ارب ڈالر ہے، تاہم اس کے لیے امریکی کانگریس کی منظوری بھی درکار ہوگی۔ معاہدے میں 48 ایف 35 طیارے، 49 پراٹ اینڈ وٹنی انجن، مواصلاتی آلات، اسپیئر پارٹس اور دیگر معاون سامان شامل ہوگا۔
ایف 35 طیارے جدید اسٹیلتھ ٹیکنالوجی سے لیس ہیں، جس کی مدد سے انہیں دشمن کے ریڈار سے بچنے میں مدد ملتی ہے۔ اسرائیل گزشتہ ایک دہائی سے یہ طیارے استعمال کر رہا ہے اور اب تک یہ نظام رکھنے والا مشرق وسطیٰ کا واحد ملک ہے۔
امریکا مشرق وسطیٰ میں ہتھیاروں کی فروخت کے معاملات میں اسرائیل کی معیاری فوجی برتری برقرار رکھنے کو مدنظر رکھتا ہے۔ سعودی عرب کو ایف 35 کی فروخت خطے میں فوجی طاقت کے توازن پر اثرانداز ہوسکتی ہے۔
واشنگٹن میں سعودی سفارتخانے نے مجوزہ فروخت کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون میں مزید پیش رفت قرار دیا۔
سعودی عرب کئی برس سے ایف 35 طیاروں کے حصول میں دلچسپی رکھتا ہے اور اپنی فضائیہ کو جدید بنانے کے لیے یہ طیارے حاصل کرنا چاہتا ہے۔ سعودی فضائیہ اس وقت بوئنگ ایف 15، یورپی ٹورنیڈو اور ٹائفون جنگی طیارے استعمال کرتی ہے۔
سابق امریکی صدر جو بائیڈن کے دور میں بھی سعودی عرب کو ایف 35 طیاروں کی فراہمی پر غور کیا گیا تھا، تاہم یہ کوششیں آگے نہ بڑھ سکیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے دوبارہ صدر بننے کے بعد سعودی عرب کے ساتھ اسلحہ معاہدوں کو ترجیح دی ہے۔


Comments