سعودی عرب کے یمن کے شہر الحدیدہ میں فضائی حملے، کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ
- سعودی فضائی حملوں میں الحدیدہ شہر میں سرکاری ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، المسیرة
سعودی عرب کی جانب سے یمن کے حوثیوں کے زیرِ قبضہ شہر حدیدہ فضائی حملے کیے گئے۔
تفصیلات کے مطابق حوثیوں کے زیرِ انتظام ٹی وی چینل المسیرة کے مطابق سعودی عرب نے جمعہ کو یمن کے حوثیوں کے زیرِ قبضہ شہر حدیدہ پر فضائی حملے کیے ۔ عینی شاہدین کے مطابق کئی فضائی حملے الحدیدہ کی بندرگاہ پر کیے گئے۔
یمن کی حوثی تحریک نے پیر کو کہا تھا کہ وہ بحیرہ احمر میں سعودی عرب پر بحری ناکہ بندی عائد کرے گی جس سے ایران کے ساتھ جنگ میں امریکہ کے خلاف ایک نیا ممکنہ محاذ کھل گیا ہے۔ سعودی اتحاد نے کہا ہے کہ وہ اس کا سخت اور مؤثر جواب دے گا۔
المسیرة کے مطابق سعودی فضائی حملوں میں الحدیدہ شہر میں سرکاری ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ چینل نے یہ بھی بتایا کہ سعودی افواج نے یمن کے مغربی ساحل کے قریب واقع کمران جزیرے پر بھی حملے کیے۔ تاہم خبر رساں ادارہ رائٹرز ان اطلاعات کی فوری طور پر آزادانہ تصدیق نہیں کرسکا۔
2022 میں حوثیوں کے ساتھ ہونے والی جنگ بندی کے بعد سعودی عرب یمن میں دوبارہ مکمل پیمانے کی جنگ سے گریز کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ اس جنگ میں اب تک کئی لاکھ افراد مارے جاچکے ہیں۔
دریں اثنا صدرٹرمپ تہران اور یمن میں حوثیوں کی جانب سے مشرق وسطیٰ کی جنگ کو دوسرے اہم بحری گزرگاہ یعنی بحیرہ احمر کے دہانے تک پھیلانے پر بڑی فوجی سزا کا عزم ظاہر کرنے کے بعد جمعہ کو امریکی میزائلوں نے پورے ایران میں اہداف کو نشانہ بنایا۔ جنگ کے خاتمے کے لیے بنائی گئی عبوری جنگ بندی کے خاتمے کے دو ہفتے بعد، ایرانی مسلح افواج نے پڑوسی عرب ملکوں میں امریکی اڈوں پر فائرنگ کر کے اور وہاں کے لوگوں کو خبردار کرتے ہوئے جواب دیا کہ وہ امریکی اہلکاروں کے زیر استعمال غیر فوجی عمارات کو بھی نشانہ بنا سکتے ہیں۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تہران اور یمن کے حوثیوں کو بڑی فوجی سزا دینے کے عزم کے اظہار کے بعد جمعہ کو امریکی میزائلوں نے ایران بھر میں مختلف اہداف کو نشانہ بنایا۔ امریکا کا مؤقف ہے کہ ایران اور حوثیوں نے مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کو بحیرۂ احمر کے دہانے پر واقع ایک اور اہم بحری گزرگاہ تک پھیلا دیا ہے۔ جنگ کے خاتمے کے لیے ہونے والی عبوری جنگ بندی ٹوٹنے کے دو ہفتے بعد ایرانی مسلح افواج نے جواباً پڑوسی عرب ممالک میں واقع امریکی فوجی اڈوں پر حملے کیے اور وہاں کے عوام کو خبردار کیا کہ امریکی اہلکاروں کے زیرِ استعمال غیر فوجی عمارتوں کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
شمالی اور مغربی یمن پر کنٹرول رکھنے والی حوثی تحریک نے سعودی عرب کے خلاف بحیرۂ احمر میں بحری ناکہ بندی کا اعلان کیا ہے۔ سعودی عرب روزانہ لاکھوں بیرل تیل آبنائے ہرمز پر ایران کی تقریباً مکمل ناکہ بندی سے بچنے کے لیے پائپ لائن کے ذریعے بحیرۂ احمر تک منتقل کرتا ہے۔
خلیج کے دہانے پر واقع یہ آبی راستہ گزشتہ تقریباً پانچ ماہ سے جاری جنگ کا مرکز بنا ہوا ہے جس میں ہزاروں افراد مارے جاچکے ہیں جبکہ اس تنازع نے عالمی مہنگائی میں اضافہ کیا ہے اور عالمی معیشت کے سست روی یا کساد بازاری کا خدشہ بھی بڑھا دیا ہے۔
حوثی جنگجوؤں نے جمعرات کو بحیرۂ احمر کی باب المندب آبنائے میں سعودی عرب کے دو آئل ٹینکروں کو بھی نشانہ بنایا تھا۔
ٹینکرز کے راستے تبدیل، شپنگ انشورنس مہنگی
دوسری جانب حوثیوں کے حملوں کے باعث کئی دیگر آئل ٹینکروں کو اپنا راستہ تبدیل کرکے شمال کی جانب نہرِ سویز کا رخ کرنا پڑا، جس کے نتیجے میں ایشیا پہنچنے کے لیے انہیں افریقہ کے گرد گھومتے ہوئے کہیں زیادہ طویل بحری راستہ اختیار کرنا پڑ سکتا ہے۔ ذرائع کے مطابق جنوبی بحیرۂ احمر سے گزرنے والی بحری نقل و حمل کے لیے بعض کمپنیوں کے شپنگ انشورنس اخراجات جمعرات کو دوگنا ہو گئے۔
اس کے باوجود جمعرات کے روز باب المندب آبنائے سے گزرنے والے 18 بحری جہازوں میں سے نصف خام تیل لے جا رہے تھے، جن میں چین کے دو سپر ٹینکر بھی شامل تھے۔ دوسری جانب آبنائے ہرمز سے گزرنے والے آئل ٹینکروں کی تعداد جمعرات کو گھٹ کر صرف ایک رہ گئی، جو 7 مئی کے بعد سب سے کم سطح ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ٹیلیگرام چینل پر جاری بیان کے مطابق ایران اور عمان کے وزرائے خارجہ نے ٹیلیفون پر گفتگو کے دوران سیکیورٹی صورتحال اور دونوں ممالک کے درمیان واقع آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت سے متعلق پیش رفت پر تبادلۂ خیال کیا۔


Comments