BR100 Decreased By (-0.15%)
BR30 Decreased By (-0.09%)
KSE100 Decreased By (-0.06%)
KSE30 Decreased By (-0.15%)
BAFL 58.65 Decreased By ▼ -0.61 (-1.03%)
BIPL 27.90 Decreased By ▼ -0.26 (-0.92%)
BOP 35.86 Decreased By ▼ -0.07 (-0.19%)
CNERGY 9.20 Increased By ▲ 0.48 (5.5%)
DFML 19.70 Increased By ▲ 0.19 (0.97%)
DGKC 223.15 Decreased By ▼ -1.14 (-0.51%)
FABL 101.00 Decreased By ▼ -0.05 (-0.05%)
FCCL 55.85 Decreased By ▼ -0.33 (-0.59%)
FFL 17.52 Decreased By ▼ -0.01 (-0.06%)
GGL 24.50 Decreased By ▼ -0.05 (-0.2%)
HBL 307.69 Decreased By ▼ -1.52 (-0.49%)
HUBC 226.86 Decreased By ▼ -0.55 (-0.24%)
HUMNL 11.06 Increased By ▲ 0.04 (0.36%)
KEL 7.89 Increased By ▲ 0.03 (0.38%)
LOTCHEM 30.20 Increased By ▲ 0.68 (2.3%)
MLCF 102.76 Increased By ▲ 0.59 (0.58%)
OGDC 334.50 Decreased By ▼ -0.95 (-0.28%)
PAEL 44.31 Decreased By ▼ -0.34 (-0.76%)
PIBTL 17.87 Increased By ▲ 0.04 (0.22%)
PIOC 274.00 Increased By ▲ 1.31 (0.48%)
PPL 236.50 Decreased By ▼ -2.28 (-0.95%)
PRL 40.91 Increased By ▲ 2.48 (6.45%)
SNGP 114.60 Increased By ▲ 0.74 (0.65%)
SSGC 30.15 Decreased By ▼ -0.15 (-0.5%)
TELE 9.00 No Change ▼ 0.00 (0%)
TPLP 12.75 Increased By ▲ 0.10 (0.79%)
TRG 65.26 Increased By ▲ 0.76 (1.18%)
UNITY 10.22 Decreased By ▼ -0.13 (-1.26%)
WTL 1.33 No Change ▼ 0.00 (0%)
کاروبار اور معیشت

مالی سال 26: مراعاتی اسکیمیں ختم ہونے کے باوجود ترسیلاتِ زر 41.6 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں

  • جون میں ترسیلاتِ زر کا حجم 3.475 ارب ڈالر رہا، اسٹیٹ بینک
شائع اپ ڈیٹ

مالی سال 26 کے دوران (جولائی تا جون ) پاکستان کو موصول ہونے والی ترسیلاتِ زر میں 9 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 41.6 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں جبکہ گزشتہ مالی سال کے دوران یہ حجم 38.3 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا تھا۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق جون میں ترسیلاتِ زر کا حجم 3.475 ارب ڈالر رہا۔

نمو کے لحاظ سے ترسیلاتِ زر میں ماہانہ بنیادوں پر 18 فیصد کی کمی ہوئی تاہم سالانہ بنیادوں پر ان میں 2 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

ترسیلاتِ زر ملک کے بیرونی کھاتوں کو سہارا دینے، معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور بیرونِ ملک سے آنے والی رقوم پر انحصار کرنے والے گھرانوں کی آمدنی میں اضافے کے لیے کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔

قبل ازیں گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہا تھا کہ ابتدائی اعدادوشمار کے مطابق خطے میں حالیہ جغرافیائی و سیاسی بحران کے باوجود مالی سال 26 میں سمندر پار پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر کا حجم گزشتہ سال کے مقابلے میں زیادہ یعنی 41.5 ارب ڈالر سے تجاوز کرجائے گا۔

گزشتہ ہفتے اسٹیٹ بینک نے ایک سرکاری مراعاتی اسکیم ختم کردی جس کے تحت بینکوں کو تار کے ذریعے رقوم کی منتقلی کے اخراجات واپس کیے جاتے تھے۔

اسی طرح اسٹیٹ بینک نے سوہنی دھرتی ریمیٹنس پروگرام کو بھی بند کرنے کا فیصلہ کیا جس سے وہ مراعاتی اسکیم ختم ہو گئی جو سمندر پار پاکستانیوں کو باضابطہ بینکنگ چینلز کے ذریعے ترسیلاتِ زر بھیجنے پر انعام دیتی تھی۔

ترسیلاتِ زر کی تفصیلات

جون 2026 میں سعودی عرب میں مقیم پاکستانیوں نے سب سے زیادہ یعنی 830 ملین ڈالر کی ترسیلاتِ زر بھیجیں۔ یہ رقم گزشتہ سال اسی مہینے میں بھجوائی گئی 823 ملین ڈالر کے مقابلے میں 1 فیصد زیادہ ہے تاہم مئی 2026 میں ریکارڈ کی گئی 1,025 ملین ڈالر کی رقم کے مقابلے میں اس میں 19 فیصد کی کمی واقع ہوئی۔

متحدہ عرب امارات سے آنے والی رقوم میں سالانہ بنیادوں پر 10 فیصد اضافہ ہوا جو جون 2025 میں 717 ملین ڈالر سے بڑھ کر جون 2026 میں 792 ملین ڈالر ہو گئیں۔ تاہم ماہانہ بنیادوں پر ان میں 21 فیصد کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔

جون 2026 کے دوران برطانیہ سے آنے والی ترسیلاتِ زر 515 ملین ڈالر رہیں جو مئی کے 645 ملین ڈالر کے مقابلے میں 20 فیصد کم ہیں۔

امریکہ میں مقیم پاکستانیوں نے جون میں 297 ملین ڈالر بھیجے جو مئی کے 349 ملین ڈالر کے مقابلے میں ماہانہ بنیادوں پر 15 فیصد کی کمی ہے۔

دریں اثنا یورپی یونین کے ممالک سے ترسیلاتِ زر جون میں 415 ملین ڈالر ریکارڈ کی گئیں جس میں مئی کے 466 ملین ڈالر کے مقابلے میں ماہانہ بنیادوں پر 11 فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے۔

Comments

200 حروف