BR100 Increased By (0.52%)
BR30 Increased By (0.49%)
KSE100 Increased By (0.46%)
KSE30 Increased By (0.58%)
BAFL 61.98 Decreased By ▼ -0.06 (-0.1%)
BIPL 28.65 Increased By ▲ 0.62 (2.21%)
BOP 36.90 Increased By ▲ 0.13 (0.35%)
CNERGY 8.32 Decreased By ▼ -0.07 (-0.83%)
DFML 20.66 Increased By ▲ 0.73 (3.66%)
DGKC 227.20 Increased By ▲ 0.27 (0.12%)
FABL 101.75 Increased By ▲ 1.57 (1.57%)
FCCL 58.70 Increased By ▲ 0.09 (0.15%)
FFL 18.08 Increased By ▲ 0.14 (0.78%)
GGL 26.40 Increased By ▲ 1.20 (4.76%)
HBL 306.00 Increased By ▲ 0.36 (0.12%)
HUBC 233.72 Increased By ▲ 1.17 (0.5%)
HUMNL 11.31 Decreased By ▼ -0.11 (-0.96%)
KEL 8.26 Decreased By ▼ -0.03 (-0.36%)
LOTCHEM 29.46 Increased By ▲ 0.99 (3.48%)
MLCF 107.69 Decreased By ▼ -0.60 (-0.55%)
OGDC 345.69 Increased By ▲ 6.59 (1.94%)
PAEL 45.54 Increased By ▲ 0.19 (0.42%)
PIBTL 18.87 Decreased By ▼ -0.19 (-1%)
PIOC 284.64 Increased By ▲ 1.07 (0.38%)
PPL 248.61 Increased By ▲ 2.66 (1.08%)
PRL 36.30 Increased By ▲ 0.22 (0.61%)
SNGP 119.00 Increased By ▲ 0.30 (0.25%)
SSGC 31.43 Decreased By ▼ -0.24 (-0.76%)
TELE 9.23 Decreased By ▼ -0.04 (-0.43%)
TPLP 11.60 Increased By ▲ 0.37 (3.29%)
TRG 67.40 Decreased By ▼ -0.44 (-0.65%)
UNITY 10.91 Decreased By ▼ -0.10 (-0.91%)
WTL 1.27 Decreased By ▼ -0.01 (-0.78%)
دنیا

ایران کا موجودہ بحران 1979 کے تیل کے بحران سے کس حد تک مماثلت رکھتا ہے؟

  • ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ سے پیدا ہونے والی رکاوٹوں کی شدت نے 1973 کے عرب تیل پابندی بحران سے تقابل کو ایک بار پھر زندہ کر دیا ہے
شائع اپ ڈیٹ

رائٹرز کے مطابق اگر روزانہ کی پیداوار میں ہونے والے نقصان کو پیمانہ بنایا جائے تو ایران کی جنگ سے تیل کی سپلائی کو تاریخ کا سب سے بڑا دھچکا پہنچا ہے، تاہم مجموعی سپلائی میں کمی کے اعتبار سے 1979 کا ایرانی انقلاب اب بھی سب سے بڑا تیل بحران ہے۔ یہ اندازہ رائٹرز نے بین الاقوامی توانائی ایجنسی (آئی ای اے)، اوپیک اور امریکی محکمۂ توانائی کے اعداد و شمار کی بنیاد پر لگایا ہے۔

ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ سے پیدا ہونے والی سپلائی میں خلل کی شدت نے 1973 کی عرب تیل پابندی، ایرانی انقلاب اور 1991 کی خلیجی جنگ سے تقابل کو ایک بار پھر زندہ کر دیا ہے، جبکہ اس نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ عالمی توانائی کی منڈیاں وقت کے ساتھ کس قدر تبدیل ہو چکی ہیں۔

توانائی کے بحران کی ایک مختلف نوعیت

ماضی کے بحرانوں کے برعکس، ایران کی جنگ نے ایک ہی وقت میں خام تیل، قدرتی گیس، ریفائن شدہ ایندھن اور کھاد کی سپلائی کو متاثر کیا ہے، جس سے ان کمزوریوں کا بھی پردہ چاک ہوا ہے جو توانائی کی بڑھتی ہوئی عالمی طلب، تجارت کے عالمگیریت اختیار کرنے اور تیار شدہ ایندھن کے بڑے سپلائر کے طور پر مشرقِ وسطیٰ کے بڑھتے ہوئے کردار کے نتیجے میں پیدا ہوئی ہیں۔

1970 کی دہائی کے تیل کے بحرانوں نے عالمی معیشت پر گہرے اور دیرپا اثرات مرتب کیے اور بڑے درآمد کنندہ ممالک کی توانائی پالیسیوں کا رخ بدل دیا۔ انہی بحرانوں کے بعد صنعتی ممالک کو توانائی کے تحفظ سے متعلق مشاورت فراہم کرنے اور ہنگامی ذخائر کی مربوط نگرانی کے لیے بین الاقوامی توانائی ایجنسی (آئی ای اے) قائم کی گئی۔

موجودہ بحران کے جواب میں ایجنسی نے منڈیوں کو مستحکم رکھنے اور مشرقِ وسطیٰ سے سپلائی میں ہونے والی کمی کا ازالہ کرنے کے لیے اپنے اسٹریٹجک ذخائر سے ریکارڈ 40 کروڑ بیرل تیل جاری کیا ہے۔

موجودہ سپلائی میں خلل کا حجم ماضی کے بحرانوں کے مقابلے میں کتنا بڑا ہے؟

بین الاقوامی توانائی ایجنسی (آئی ای اے) کے مطابق تیل کی سپلائی میں یومیہ کمی عروج پر ایک کروڑ 40 لاکھ بیرل تک پہنچ گئی، جو رواں سال عالمی سطح پر متوقع یومیہ طلب 10 کروڑ 3.3 لاکھ بیرل کا تقریباً 13.6 فیصد بنتی ہے۔

آئی ای اے کے اعداد و شمار کے مطابق یہ کمی 1973-74 کی عرب تیل پابندی کے دوران یومیہ 45 لاکھ بیرل، 1979 کے ایرانی انقلاب کے دوران 56 لاکھ بیرل اور 1991 کی خلیجی جنگ کے دوران 43 لاکھ بیرل کی بلند ترین یومیہ سپلائی کمی سے کہیں زیادہ ہے۔

اس تنازع نے قطر میں عالمی مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی پیداوار کا تقریباً پانچواں حصہ بھی متاثر کیا۔ 1970 کی دہائی کے تیل بحرانوں کے دوران ایل این جی کی عالمی تجارت نہ ہونے کے برابر تھی، جبکہ قطر نے 1996 میں اس کی برآمدات شروع کی تھیں۔

خلیج میں ریفائنریوں کی بندش کے باعث ڈیزل اور جیٹ فیول کی قلت پیدا ہوئی، جس سے خام تیل اور گیس کے علاوہ ایندھن کی منڈی بھی متاثر ہوئی۔ گزشتہ چند دہائیوں کے دوران خلیجی ممالک میں قائم بڑی ریفائنریاں افریقہ، یورپ اور ایشیا کی منڈیوں کو ایندھن فراہم کرنے کا اہم ذریعہ بن چکی ہیں۔

آرگس میڈیا کے اندازے کے مطابق اس تنازع کے نتیجے میں قطر اور متحدہ عرب امارات سے تقریباً 2 کروڑ 40 لاکھ میٹرک ٹن ایل این جی کی سپلائی متاثر ہوئی۔ آئی ای اے کے اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں عالمی ایل این جی تجارت 42 کروڑ 80 لاکھ ٹن رہی، جس کے لحاظ سے یہ سالانہ عالمی سپلائی کا تقریباً 5.6 فیصد بنتا ہے۔

ماضی کے بحرانوں کے مقابلے میں اس تنازع کا دورانیہ اور نقصانات کیسے ہیں؟

آئی ای اے کی 13 مئی کو جاری ہونے والی رپورٹ کے مطابق خلیجی تیل پیدا کرنے والے ممالک کی مجموعی سپلائی میں کمی ایک ارب بیرل سے تجاوز کر چکی تھی۔ رائٹرز کے حساب کے مطابق اگر 14 مئی سے 17 جون تک، یعنی امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ روکنے والے عبوری معاہدے تک کے 35 دنوں میں یومیہ ایک کروڑ 40 لاکھ بیرل کی مزید کمی شامل کر لی جائے تو اس تنازع کے باعث منڈی سے تقریباً ڈیڑھ ارب بیرل تیل غائب ہو چکا ہے۔

اگرچہ جنگ روکنے کے لیے معاہدہ ہو چکا ہے، تاہم سپلائی میں رکاوٹیں آئندہ کئی ماہ تک برقرار رہنے کا امکان ہے، جبکہ گیس کے شعبے میں یہ اثرات ممکنہ طور پر کئی برس تک جاری رہ سکتے ہیں۔

اگرچہ 1979 کے ایرانی انقلاب کے دوران یومیہ سپلائی میں کمی موجودہ بحران سے کم تھی، لیکن مجموعی نقصان کہیں زیادہ رہا۔

امریکی محکمۂ توانائی کے مطابق 1978 سے 1981 کے درمیان ایران کی خام تیل کی پیداوار میں اوسطاً 39 لاکھ بیرل یومیہ کمی آئی۔ رائٹرز کے حساب کے مطابق اس کا مطلب ہے کہ تین برس کے دوران تقریباً 4.3 ارب بیرل تیل کی پیداوار کم ہوئی، اگرچہ اس کمی کا کچھ حصہ خلیج کے دیگر ممالک کی بڑھتی ہوئی پیداوار سے پورا کیا گیا۔

تیل کے صحافی اور مصنف ایان سیمور نے 1980 میں شائع ہونے والی اپنی کتاب میں لکھا کہ 1979 میں ایران کی اوسط یومیہ پیداوار 31 لاکھ بیرل رہی، جبکہ انقلاب سے قبل یہ تقریباً 60 لاکھ بیرل یومیہ تھی۔ اس طرح صرف 1979 میں ہی ایک ارب بیرل سے زیادہ پیداوار کا نقصان ہوا۔

اوپیک کے اعداد و شمار کے مطابق 1980 میں ایران کی یومیہ پیداوار مزید کم ہو کر اوسطاً 14 لاکھ 70 ہزار بیرل رہ گئی۔ رائٹرز کے حساب کے مطابق 1978 کی پیداوار کے مقابلے میں صرف 1979 اور 1980 کے دوران مجموعی نقصان 2.7 ارب بیرل سے تجاوز کر گیا، جو اب تک موجودہ بحران کے نقصانات سے بھی زیادہ ہے۔

1973-74 کی عرب تیل پابندی کے دوران تیل پیدا کرنے والے ممالک نے تین ماہ کے عرصے میں بتدریج پیداوار میں کمی بڑھاتے ہوئے اسے 45 لاکھ بیرل یومیہ تک پہنچا دیا۔ رائٹرز کے اندازے کے مطابق اس پابندی کے باعث عالمی منڈی سے تقریباً 53 سے 65 کروڑ بیرل تیل کم ہوا، جو موجودہ بحران کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے۔

بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے رکن ملک آسٹریلیا کی ایک سرکاری دستاویز کے مطابق 1991 کی خلیجی جنگ کے دوران تیل کی پیداوار تقریباً چار ماہ تک متاثر رہی۔ اگر یومیہ سپلائی میں کمی اوسطاً 43 لاکھ بیرل مانی جائے تو رائٹرز کے حساب کے مطابق مجموعی نقصان تقریباً 51 کروڑ 60 لاکھ بیرل بنتا ہے، جو موجودہ بحران کے مقابلے میں کم ہے۔

Comments

200 حروف