BR100 Increased By (1.1%)
BR30 Increased By (1.06%)
KSE100 Increased By (0.74%)
KSE30 Increased By (0.85%)
BAFL 59.08 Increased By ▲ 2.18 (3.83%)
BIPL 26.85 Increased By ▲ 0.03 (0.11%)
BOP 35.23 Increased By ▲ 0.19 (0.54%)
CNERGY 8.16 Increased By ▲ 0.07 (0.87%)
DFML 19.76 Increased By ▲ 0.34 (1.75%)
DGKC 222.01 Increased By ▲ 1.95 (0.89%)
FABL 99.15 Increased By ▲ 1.18 (1.2%)
FCCL 58.50 Increased By ▲ 2.31 (4.11%)
FFL 17.76 Increased By ▲ 0.08 (0.45%)
GGL 23.34 Decreased By ▼ -0.26 (-1.1%)
HBL 295.60 Increased By ▲ 5.41 (1.86%)
HUBC 229.73 Increased By ▲ 2.28 (1%)
HUMNL 11.13 Increased By ▲ 0.20 (1.83%)
KEL 8.60 Increased By ▲ 0.03 (0.35%)
LOTCHEM 28.02 Increased By ▲ 0.48 (1.74%)
MLCF 107.30 Increased By ▲ 0.79 (0.74%)
OGDC 336.90 Increased By ▲ 1.70 (0.51%)
PAEL 45.45 Increased By ▲ 0.45 (1%)
PIBTL 18.38 Increased By ▲ 0.11 (0.6%)
PIOC 272.15 Increased By ▲ 2.11 (0.78%)
PPL 246.50 Increased By ▲ 2.01 (0.82%)
PRL 35.15 Increased By ▲ 0.21 (0.6%)
SNGP 118.46 Decreased By ▼ -0.14 (-0.12%)
SSGC 30.90 Increased By ▲ 0.07 (0.23%)
TELE 8.79 Increased By ▲ 0.09 (1.03%)
TPLP 10.63 Increased By ▲ 0.37 (3.61%)
TRG 64.01 Increased By ▲ 0.65 (1.03%)
UNITY 10.79 Increased By ▲ 0.13 (1.22%)
WTL 1.25 Increased By ▲ 0.01 (0.81%)
پاکستان

حکومت نے پیٹرولیم پرائسز اسٹیبلائزیشن فنڈ قائم کر دیا

  • سرکاری ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ فنڈ کے قیام کا طریقہ کار کافی عرصے سے زیر غور تھا
شائع June 30, 2026 اپ ڈیٹ June 30, 2026 09:13am

حکومت نے پیٹرولیم پرائسز اسٹیبلائزیشن فنڈ (پی پی ایس ایف) قائم کر دیا ہے، جس سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے اثرات کو کم کرنے اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے انتظام کے لیے ایک علیحدہ سرکاری فنڈ کے قیام کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔

سرکاری ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ فنڈ کے قیام کا طریقہ کار کافی عرصے سے زیر غور تھا، تاہم موجودہ صورتحال کے پیش نظر اس پر عملی پیش رفت کی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق دنیا کے کئی ممالک میں پہلے ہی اس نوعیت کے فنڈز موجود ہیں، جہاں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں کم ہونے پر فنڈ میں رقم جمع کی جاتی ہے، جبکہ قیمتوں میں اضافے کی صورت میں یہی فنڈ استعمال کر کے صارفین کو مہنگائی کے اثرات سے بچایا جاتا ہے۔

فنانس ڈویژن کی جانب سے پیر کو جاری کیے گئے سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق یہ فنڈ وفاقی کابینہ کے 5 جون 2026 کے فیصلے (کیس نمبر 388/رول19/2026/462) کی روشنی میں قائم کیا گیا ہے۔

نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ پیٹرولیم پرائسز اسٹیبلائزیشن فنڈ کے نام پر موصول ہونے والی تمام رقوم وفاق کے پبلک اکاؤنٹ میں نئے قائم کردہ اکاؤنٹنگ ہیڈ کے تحت جمع کی جائیں گی، جس میں میجر ہیڈ جی12 – اسپیشل ڈپازٹ فنڈ، مائنر ہیڈ جی 123 – اکنامک فنڈ، اور ڈیٹیلڈ آبجیکٹ جی 12314 – پیٹرولیم پرائسز اسٹیبلائزیشن فنڈ شامل ہیں۔

یہ اقدام ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب حکومت عالمی خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ اور ایندھن کی قیمتوں میں ردوبدل سے پیدا ہونے والے مالی دباؤ کے پیش نظر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے انتظام کے لیے ایک مستقل اور ادارہ جاتی نظام قائم کرنا چاہتی ہے۔

فنانس ڈویژن نے واضح کیا ہے کہ فنڈ کے عملی طریقہ کار کو ابھی حتمی شکل نہیں دی گئی۔ نوٹیفکیشن کے مطابق فنانس ڈویژن، پیٹرولیم ڈویژن اور آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) مشترکہ طور پر فنڈ کے قواعد، طریقہ کار اور آپریشنل فریم ورک تیار کریں گے، جس میں تمام قانونی اور مالیاتی تقاضوں کو مدنظر رکھا جائے گا۔

حکومت کے مطابق فنڈ کے مکمل طریقہ کار کو حتمی منظوری کے لیے علیحدہ طور پر پیش کیا جائے گا، جس کے بعد ہی اسے عملی طور پر فعال کیا جائے گا۔

نوٹیفکیشن کی نقول آڈیٹر جنرل آف پاکستان، کنٹرولر جنرل آف اکاؤنٹس، اکاؤنٹنٹ جنرل پاکستان ریونیو، صوبائی اکاؤنٹنٹس جنرل اور دیگر متعلقہ اداروں کو عمل درآمد کے لیے ارسال کر دی گئی ہیں۔

فنانس ڈویژن نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان، ایوانِ صدر، وزیراعظم آفس، کابینہ ڈویژن، وزارتِ قانون و انصاف، وزارتِ توانائی (پیٹرولیم ڈویژن) اور صوبائی حکومتوں کو بھی فنڈ کے قیام سے آگاہ کر دیا ہے۔

فنانس ڈویژن نے پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا، بلوچستان، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے چیف سیکریٹریز سے بھی کہا ہے کہ وہ فنڈ کے لیے عطیات وصول کرنے کے انتظامات کریں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومتی رقوم کے علاوہ اس فنڈ میں رضاکارانہ عطیات بھی قبول کیے جا سکیں گے۔

مزید برآں، پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کو ہدایت کی گئی ہے کہ فنڈ کے قیام کی تشہیر الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے ذریعے بھرپور انداز میں کی جائے۔

تاہم نوٹیفکیشن میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ فنڈ کا ابتدائی حجم کیا ہوگا، عطیات کے علاوہ اس کی مالی معاونت کے دیگر ذرائع کیا ہوں گے، یا کن حالات میں جمع شدہ رقوم کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو مستحکم رکھنے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026

Comments

200 حروف