تجارتی تنظیموں نے بجٹ 2026-27 کو متوازن قرار دے دیا
- بجٹ میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی اور پائیدار ترقی کے لیے کیے گئے اقدامات کا خیرمقدم
ملک بھر کی تجارتی تنظیموں اور کاروباری رہنماؤں نے وفاقی بجٹ 2026-27 کو کاروبار دوست، ترقی پر مبنی اور متوازن مالیاتی روڈ میپ قرار دیتے ہوئے حکومت کی جانب سے معاشی سرگرمیوں کے فروغ، سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی اور پائیدار ترقی کے لیے کیے گئے اقدامات کا خیرمقدم کیا ہے۔
فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) سمیت مختلف کاروباری تنظیموں نے وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب اور معاشی ٹیم کو عوام دوست اور مؤثر بجٹ پیش کرنے پر مبارکباد دی۔ ایف پی سی سی آئی کے مطابق بجٹ ملکی معیشت کے استحکام، سرمایہ کاری کے فروغ اور کاروباری سرگرمیوں میں اضافے کے لیے ایک مثبت قدم ہے۔ تنظیم نے یقین دہانی کرائی کہ کاروباری برادری حکومت کے ساتھ تعاون جاری رکھتے ہوئے معاشی ترقی اور سرمایہ کاری کے فروغ میں اپنا کردار ادا کرے گی۔
پاکستان بزنس کونسل (پی بی سی) نے بھی بجٹ کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اہم معاشی پالیسیوں کی تشکیل میں متعلقہ فریقوں کو اعتماد میں لے رہی ہے، جو مستقبل کے لیے خوش آئند پیش رفت ہے۔ کونسل کے مطابق اس عمل سے کاروباری ماحول بہتر ہوگا اور تنخواہ دار طبقے کو بھی فائدہ پہنچے گا۔
راولپنڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آر سی سی آئی) کے صدر عثمان شوکت نے تنخواہ دار طبقے کے لیے ٹیکس میں کمی اور سپر ٹیکس میں نرمی کو سراہتے ہوئے اسے مثبت اقدام قرار دیا۔ انہوں نے آئی ٹی شعبے کے لیے دی گئی مراعات اور ایکسپورٹ فنانس اسکیم کے تحت 88 ارب روپے کی مختص رقم کو بھی برآمدات اور روزگار کے فروغ کے لیے اہم قرار دیا۔
پاکستان بینکس ایسوسی ایشن (پی بی اے) نے بجٹ کو کئی برسوں بعد ایسا مالیاتی منصوبہ قرار دیا جو صرف بحرانوں سے نمٹنے تک محدود نہیں بلکہ ترقی کے واضح اہداف رکھتا ہے۔ چیئرمین پی بی اے ظفر مسعود نے کہا کہ ترجیحی شعبوں کو قرضوں کی فراہمی کے لیے حالات گزشتہ ایک دہائی کے مقابلے میں بہتر ہیں۔
اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (او آئی سی سی آئی) نے بھی بجٹ کا خیرمقدم کرتے ہوئے سپر ٹیکس میں جزوی کمی اور رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں ایڈوانس ٹیکس کی شرحوں میں کمی کو معاشی سرگرمیوں کی بحالی کے لیے مثبت پیش رفت قرار دیا۔


Comments