BR100 Decreased By (-0.49%)
BR30 Decreased By (-0.47%)
KSE100 Decreased By (-0.32%)
KSE30 Decreased By (-0.31%)
BAFL 58.05 Decreased By ▼ -0.18 (-0.31%)
BIPL 25.50 Decreased By ▼ -0.06 (-0.23%)
BOP 33.89 Increased By ▲ 0.29 (0.86%)
CNERGY 8.15 Decreased By ▼ -0.09 (-1.09%)
DFML 19.40 Decreased By ▼ -0.14 (-0.72%)
DGKC 194.14 Decreased By ▼ -1.77 (-0.9%)
FABL 88.70 Decreased By ▼ -0.11 (-0.12%)
FCCL 52.40 Decreased By ▼ -0.51 (-0.96%)
FFL 17.78 Decreased By ▼ -0.02 (-0.11%)
GGL 20.46 Decreased By ▼ -0.24 (-1.16%)
HBL 282.59 Decreased By ▼ -2.22 (-0.78%)
HUBC 213.82 Decreased By ▼ -1.13 (-0.53%)
HUMNL 11.20 Decreased By ▼ -0.04 (-0.36%)
KEL 7.89 Decreased By ▼ -0.08 (-1%)
LOTCHEM 28.98 Decreased By ▼ -0.21 (-0.72%)
MLCF 85.99 Decreased By ▼ -0.02 (-0.02%)
OGDC 317.70 Decreased By ▼ -1.93 (-0.6%)
PAEL 40.65 Increased By ▲ 0.44 (1.09%)
PIBTL 17.10 Decreased By ▼ -0.22 (-1.27%)
PIOC 269.10 Increased By ▲ 0.39 (0.15%)
PPL 224.50 Decreased By ▼ -0.80 (-0.36%)
PRL 34.42 Increased By ▲ 0.04 (0.12%)
SNGP 100.35 Decreased By ▼ -0.61 (-0.6%)
SSGC 26.85 Increased By ▲ 0.09 (0.34%)
TELE 9.22 Increased By ▲ 0.26 (2.9%)
TPLP 11.06 Decreased By ▼ -0.25 (-2.21%)
TRG 71.00 Decreased By ▼ -0.67 (-0.93%)
UNITY 11.62 Increased By ▲ 0.01 (0.09%)
WTL 1.28 No Change ▼ 0.00 (0%)
کاروبار اور معیشت

ٹیرف پالیسی بورڈ کی دفاعی درآمدات پر ڈیوٹی پر چھوٹ کی منظوری

  • ذرائع نے بتایا کہ یہ مجوزہ چھوٹ مسلح افواج کو مالی ریلیف اور اضافی مالی گنجائش فراہم کرنے کے لیے دی جا رہی ہے
شائع June 10, 2026 اپ ڈیٹ June 10, 2026 10:03am

باخبر ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ ٹیرف پالیسی بورڈ (ٹی پی بی) جو ایک بین الوزارتی ادارہ ہے اور جس کی سربراہی وزیرِ تجارت کرتے ہیں، نے دفاعی درآمدات پر کسٹمز ڈیوٹی ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ذرائع کے مطابق بورڈ کو حال ہی میں آگاہ کیا گیا کہ وزارتِ دفاع نے 13 نومبر 2025 کو وزیراعظم کو ایک سمری ارسال کی تھی جس میں تمام دفاعی درآمدات پر عائد 15 فیصد کسٹمز ڈیوٹی ختم کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔

ذرائع نے بتایا کہ یہ مجوزہ چھوٹ مسلح افواج کو مالی ریلیف اور اضافی مالی گنجائش فراہم کرنے کے لیے دی جا رہی ہے تاکہ وہ اپنی اہم آپریشنل ضروریات پوری کر سکیں۔ مزید بتایا گیا کہ وزیراعظم نے اس سمری کی منظوری دیتے ہوئے ہدایت دی کہ فنانس ڈویژن اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) تمام قانونی اور ضابطہ جاتی کارروائیاں مکمل کریں تاکہ دفاعی درآمدات پر کسٹمز ڈیوٹی ختم کی جا سکے۔

وزارتِ تجارت کے سیکریٹری جواد پال نے بتایا کہ وزیراعظم کی منظوری کے بعد وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت ایک اجلاس ہوا جس میں سیکریٹری خزانہ، سیکریٹری تجارت، سیکریٹری دفاع اور چیئرمین ایف بی آر نے بھی شرکت کی۔

ذرائع کے مطابق اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ بعض تکنیکی اور ضابطہ جاتی پیچیدگیوں کی وجہ سے موجودہ مالی سال میں کسٹمز ڈیوٹی کی چھوٹ نہیں دی جا سکتی۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم کی ہدایت پر عملدرآمد کے لیے دفاعی درآمدات پر کسٹمز ڈیوٹی میں چھوٹ یکم جولائی 2026 سے فنانس بل 2026-27 کے ذریعے دی جائے گی۔

مزید بتایا گیا کہ سیکریٹری تجارت نے ٹریف پالیسی بورڈ سے بطور مجاز فورم سفارش کرنے کی درخواست کی تاکہ یہ ترمیم کسٹمز ایکٹ 1969 کے ففتھ شیڈول میں شامل کی جا سکے۔

ذرائع کے مطابق اس دوران وزارتِ خزانہ کی ذمہ داری ہوگی کہ وہ اس معاملے پر آئی ایم ایف کی منظوری حاصل کرے۔

تفصیلی غور و خوض کے بعد ٹیرف پالیسی بورڈ کے تمام ارکان نے متفقہ طور پر سفارش کی کہ یکم جولائی 2026 سے دفاعی درآمدات پر موجودہ کسٹمز ڈیوٹی ختم کر دی جائے اور اس کے لیے کسٹمز ایکٹ 1969 میں ضروری ترامیم کی جائیں۔

ایک اندرونی ذریعے کے مطابق الکوحل پر ڈیوٹی میں کمی کی تجویز کو منفی میڈیا ردعمل کے خوف سے مؤخر کر دیا گیا ہے، جیسا کہ سیکریٹری تجارت نے بھی تجویز کیا تھا۔

بورڈ کے ایک رکن کے مطابق اگرچہ الکوحل ایک ممنوعہ شے ہے اور صرف سفارتکاروں کے ذریعے درآمد کی جاتی ہے، لیکن میڈیا میں منفی تاثر کے خدشے کے باعث اس پر فیصلہ روک دیا گیا۔

الیکٹرک گاڑیوں اور ہائبرڈ گاڑیوں پر ٹیرف میں کمی کے حوالے سے حتمی اختیار نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کو دیا گیا ہے، جنہوں نے اس معاملے پر 8 جون 2026 کو اجلاس کی صدارت کی تھی۔

بورڈ کے رکن کے مطابق وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر نے قومی ٹیرف پالیسی سے انحراف کی تجویز دی تاکہ مقامی صنعت کو سہارا دیا جا سکے۔

تاہم ٹی پی بی نے مؤقف اختیار کیا کہ حکومت کو آئی ایم ایف کے ساتھ طے شدہ معاہدے کے مطابق نیشنل ٹیرف پالیسی پر مکمل عملدرآمد کرنا چاہیے۔ اس معاملے پر حتمی فیصلہ وزیراعظم کریں گے، جس کے بعد وفاقی کابینہ بجٹ کی منظوری کے دوران اسے حتمی شکل دے گی۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026

Comments

200 حروف