BR100 Decreased By (-1.39%)
BR30 Decreased By (-1.72%)
KSE100 Decreased By (-1.3%)
KSE30 Decreased By (-1.25%)
BAFL 57.10 Decreased By ▼ -0.59 (-1.02%)
BIPL 27.10 Decreased By ▼ -0.32 (-1.17%)
BOP 33.80 Decreased By ▼ -0.39 (-1.14%)
CNERGY 9.79 Increased By ▲ 0.17 (1.77%)
DFML 18.50 Decreased By ▼ -0.13 (-0.7%)
DGKC 207.90 Decreased By ▼ -5.13 (-2.41%)
FABL 99.00 Decreased By ▼ -1.79 (-1.78%)
FCCL 53.80 Decreased By ▼ -0.35 (-0.65%)
FFL 16.70 Decreased By ▼ -0.14 (-0.83%)
GGL 23.60 Decreased By ▼ -0.37 (-1.54%)
HBL 305.64 Decreased By ▼ -3.62 (-1.17%)
HUBC 218.18 Decreased By ▼ -3.35 (-1.51%)
HUMNL 10.68 Decreased By ▼ -0.21 (-1.93%)
KEL 7.33 Decreased By ▼ -0.26 (-3.43%)
LOTCHEM 29.20 Decreased By ▼ -1.23 (-4.04%)
MLCF 96.09 Decreased By ▼ -2.07 (-2.11%)
OGDC 318.00 Decreased By ▼ -5.36 (-1.66%)
PAEL 42.00 Decreased By ▼ -0.25 (-0.59%)
PIBTL 16.57 Decreased By ▼ -0.25 (-1.49%)
PIOC 281.00 Decreased By ▼ -4.96 (-1.73%)
PPL 220.39 Decreased By ▼ -4.34 (-1.93%)
PRL 44.55 Increased By ▲ 2.90 (6.96%)
SNGP 108.00 Decreased By ▼ -2.19 (-1.99%)
SSGC 28.90 Decreased By ▼ -0.41 (-1.4%)
TELE 8.84 Decreased By ▼ -0.15 (-1.67%)
TPLP 12.19 Decreased By ▼ -0.58 (-4.54%)
TRG 60.00 Decreased By ▼ -0.45 (-0.74%)
UNITY 10.15 Decreased By ▼ -0.22 (-2.12%)
WTL 1.24 Decreased By ▼ -0.03 (-2.36%)
مارکٹس

تیل کی قیمتیں گر گئیں، مارکیٹ ممکنہ امریکا ایران جنگ بندی معاہدے کا منتظر

  • جولائی کے لیے برینٹ کروڈ فیوچرز، جن کی مدت آج ختم ہو رہی ہے، 1.66 ڈالر یا 1.77 فیصد کمی کے بعد 92.05 ڈالر فی بیرل پر آ گئے
شائع اپ ڈیٹ

تیل کی قیمتوں میں جمعہ کے روز تقریباً 2 فیصد کمی دیکھی گئی اور قیمتیں اپریل کے آغاز کے بعد اپنی سب سے بڑی ہفتہ وار گراوٹ کی جانب بڑھتی نظر آئیں، کیونکہ اطلاعات سامنے آئیں کہ امریکا اور ایران ممکنہ جنگ بندی میں توسیع کے معاہدے پر پہنچ گئے ہیں۔

جولائی کے لیے برینٹ کروڈ فیوچرز، جن کی مدت آج ختم ہو رہی ہے، گرین وچ وقت کے مطابق 10 بج کر 59 منٹ پر 1.66 ڈالر یا 1.77 فیصد کمی کے بعد 92.05 ڈالر فی بیرل پر آ گئے۔ زیادہ فعال اگست کنٹریکٹ 1.63 ڈالر یا 1.76 فیصد کمی کے بعد 91.07 ڈالر پر ٹریڈ ہوا، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ ( ڈبلیو ٹی آئی ) خام تیل کے فیوچرز 1.55 ڈالر یا 1.74 فیصد کمی کے ساتھ 87.35 ڈالر فی بیرل پر آ گئے۔

اس ہفتے برینٹ خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً 11 فیصد کمی ہوئی، جو 6 اپریل کو ختم ہونے والے ہفتے کے بعد سب سے بڑی ہفتہ وار گراوٹ ہے۔ دوسری جانب ڈبلیو ٹی آئی میں تقریباً 10 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جو 13 اپریل کو ختم ہونے والے ہفتے کے بعد سب سے بڑا ہفتہ وار نقصان ہے۔

یو بی ایس کے تجزیہ کار جیووانی اسٹاؤنووو کے مطابق، ’’آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل اب بھی محدود ہے اور تیل کے ذخائر میں مسلسل کمی آ رہی ہے، تاہم مارکیٹ کی توجہ امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے پر مرکوز ہے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ قیمتوں میں کمی بعض سرمایہ کاروں کو اپنی لانگ پوزیشنز بند کرنے پر مجبور کر رہی ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکا اور ایران جمعرات کے روز جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کے ذریعے جہاز رانی پر عائد پابندیاں ختم کرنے کے معاہدے پر پہنچ گئے ہیں، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تاحال اس کی منظوری نہیں دی، جبکہ ایرانی سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ معاہدہ ابھی حتمی شکل اختیار نہیں کر سکا۔

حالیہ سیشنز میں تیل کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھا گیا اور دونوں عالمی معیاروں میں 6 ڈالر تک کا فرق آیا، کیونکہ ایران جنگ کے ممکنہ خاتمے اور آبنائے ہرمز کی دوبارہ بحالی سے متعلق متضاد اشارے سامنے آتے رہے۔ آبنائے ہرمز اس سے قبل دنیا کی تقریباً پانچویں حصے کے تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل کا اہم راستہ تھی۔

اس بحری گزرگاہ سے جہازوں کی آمدورفت اب بھی تنازع سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ آئی این جی کے تجزیہ کاروں کے مطابق راستہ کھلنے سے تیل کی منڈی کو فوری ریلیف مل سکتا ہے، تاہم مکمل بحالی اب بھی غیر یقینی ہے۔

مشرق وسطیٰ کے تیل پر زیادہ انحصار کرنے والے جاپان میں گزشتہ ماہ خام تیل کی درآمدات میں اپریل گزشتہ سال کے مقابلے میں 66 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔

کومرزبینک نے اپنی پیش گوئی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ستمبر کے اختتام تک 90 ڈالر فی بیرل اور سال کے اختتام تک 85 ڈالر فی بیرل رہنے کا امکان ظاہر کیا ہے۔ یہ تخمینہ اس بنیاد پر قائم ہے کہ آبنائے ہرمز مزید دو ماہ تک معمول کی جہاز رانی کے لیے بند رہ سکتی ہے۔

دوسری جانب امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق گزشتہ ہفتے امریکا میں خام تیل، پیٹرول اور ڈسٹلیٹ ایندھن کے ذخائر میں کمی آئی، کیونکہ ریفائنریز اور صارفین کی طلب میں اضافہ ہوا، جبکہ برآمدات 11 لاکھ 60 ہزار بیرل یومیہ کمی کے بعد 44 لاکھ بیرل یومیہ رہ گئیں۔

Comments

200 حروف