پاکستان کی امریکہ ایران امن مذاکرات میں بریک تھرو کیلئے کوششیں تیز
- وزیر داخلہ سید محسن نقوی سے تہران میں ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کی ملاقات
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ نے جمعہ کو پاکستانی ہم منصب سے ملاقات کی تاکہ امریکہ اسرائیل جنگ کے خاتمے کی تجاویز پر تبادلہ خیال کیا جاسکے جب کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان تہران کے یورینیم ذخائر اور آبنائے ہرمز پر کنٹرول کے معاملات پر اب بھی اختلافات برقرار ہیں۔
نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم کی رپورٹ کے مطابق ایرانی حکام کو امریکہ کا تازہ ترین پیغام پہنچانے کے دو روز بعد پاکستان کے وزیر داخلہ سید محسن نقوی نے تہران میں ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ مذاکرات کے ایک اور دور میں شرکت کی۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے جمعرات کو صحافیوں کو بتایا کہ مذاکرات میں کچھ اچھے اشارے ملے ہیں لیکن اگر تہران نے آبنائے ہرمز میں ٹولنگ سسٹم (محسول کا نظام) نافذ کیا تو کوئی حل ممکن نہیں ہوگا۔
روبیو نے کہا کہ کچھ اچھے اشارے ملے ہیں۔ میں ضرورت سے زیادہ پرامید نہیں ہونا چاہتا، اس لیے دیکھتے ہیں کہ اگلے چند دنوں میں کیا ہوتا ہے۔
جمعرات کو رائٹرز سے بات کرتے ہوئے ایک اعلیٰ ایرانی ذرائع نے بتایا کہ اختلافات کم ہوئے ہیں، اگرچہ یورینیم کی افزودگی اور آبنائے ہرمز اب بھی اہم رکاوٹوں میں شامل ہیں۔
جنگ نے عالمی معیشت کو شدید نقصان پہنچایا ہے جس میں تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے نے بے لگام مہنگائی کے خدشات کو جنم دیا ہے۔
جنگ شروع ہونے سے قبل دنیا بھر میں ایل این جی کی ترسیل کا لگ بھگ پانچواں حصہ آبنائے ہرمز کے راستے سے گزرتا تھا۔
امن مذاکرات کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال کے سائے میں، جمعہ کو امریکی ڈالر چھ ہفتوں کی بلند ترین سطح کے قریب پہنچ گیا جبکہ سرمایہ کاروں کی جانب سے کسی بڑے بریک تھرو کے امکانات پر شکوک و شبہات کے اظہار کے باعث تیل کی قیمتوں میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
آئی جی مارکیٹ اینالسٹ ٹونی سیکامور نے مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم (جنگ کے) بارہویں ہفتے کے اختتام کی طرف بڑھ رہے ہیں، سیز فائر کو چھ ہفتے گزر چکے ہیں اور مجھے واقعی ایسا نہیں لگتا کہ ہم امریکہ اور ایران کے درمیان کسی حل کے قریب پہنچے ہیں تاہم انہوں نے امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ہم اسے (حل کو) حاصل کرلیں گے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ بالآخر ایران کا افزودہ یورینیم کا ذخیرہ حاصل کر لے گا جس کے بارے میں واشنگٹن کا ماننا ہے کہ اسے ایٹمی ہتھیار کے لیے تیار کیا جا رہا ہے جبکہ تہران کا کہنا ہے کہ یہ خالصتاً پرامن مقاصد کے لیے ہے۔
ٹرمپ نے جمعرات کو وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہم اسے حاصل کر لیں گے۔ ہمیں اس کی ضرورت نہیں ہے، ہم اسے نہیں چاہتے۔ ہم اسے حاصل کرنے کے بعد غالباً تباہ کر دیں گے لیکن ہم انہیں یہ اپنے پاس نہیں رکھنے دیں گے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات سے قبل دو اعلیٰ ایرانی ذرائع نے رائٹرز کو بتایا کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے ایک ہدایت جاری کی ہے کہ یہ یورینیم ملک سے باہر نہ بھیجا جائے۔
امریکی صدر نے آبنائے ہرمز استعمال کرنے والے بحری جہازوں پر فیس عائد کرنے کے تہران کے ارادوں پر بھی شدید تنقید کی۔
ٹرمپ نے کہا کہ ہم اسے کھلا اور (آمد و رفت کے لیے) آزاد دیکھنا چاہتے ہیں۔ ہم کوئی ٹول یا ٹیکس نہیں چاہتے۔ یہ ایک بین الاقوامی آبی گزرگاہ ہے۔
ٹرمپ کو نومبر میں ہونے والے مڈ ٹرم انتخابات سے قبل اندرونِ ملک شدید دباؤ کا سامنا ہے جہاں ایندھن کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے پر امریکی عوام میں سخت غصہ پایا جاتا ہے اور گزشتہ سال وائٹ ہاؤس واپسی کے بعد سے ان کی عوامی مقبولیت اس وقت کم ترین سطح کے قریب ہے۔
تہران نے رواں ہفتے کے اوائل میں امریکہ کو اپنی تازہ ترین پیشکش جمع کرائی تھی۔ تہران کی جانب سے فراہم کردہ تفصیلات سے پتہ چلتا ہے کہ یہ پیشکش بڑی حد تک انہی شرائط کا اعادہ کرتی ہے جنہیں ٹرمپ پہلے ہی مسترد کرچکے ہیں جن میں آبنائے ہرمز پر کنٹرول، جنگی نقصانات کا معاوضہ، پابندیوں کا خاتمہ، منجمد اثاثوں کی بحالی اور امریکی افواج کا انخلا شامل ہیں۔
عالمی توانائی بحران
انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کا کہنا ہے کہ اس تنازع نے دنیا کی تاریخ کا بدترین توانائی بحران پیدا کیا ہے۔
ایجنسی نے جمعرات کو خبردار کیا کہ گرمیوں میں ایندھن کی طلب کا عروج اور مشرقِ وسطیٰ سے نئی سپلائی کی کمی کا مطلب یہ ہے کہ جولائی اور اگست میں مارکیٹ ریڈ زون میں داخل ہو سکتی ہے۔
جنگ سے پہلے اس آبی گزرگاہ (آبنائے ہرمز) سے روزانہ 125 سے 140 بحری جہاز گزرتے تھے، جس کے مقابلے میں اب یہ ٹریفک محض برائے نام رہ گئی ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد آبنائے ہرمز کو ان دوست ممالک کے لیے دوبارہ کھولنا ہے جو اس کی شرائط پر عمل کریں گے جن میں ممکنہ طور پر فیس کی ادائیگی بھی شامل ہو سکتی ہے۔


Comments