وفاقی حکومت نے صوبائی حکومتوں پر اپنے وسائل میں اضافہ کرنے کے لیے زور دیتے ہوئے زرعی انکم ٹیکس (اے آئی ٹی) کی وصولی بڑھانے کی ضرورت پر بھی تاکید کی ہے جو صوبائی مالیاتی بلز 2025 میں قانون سازی کی منظوری کے باوجود رواں سال انتہائی مایوس کن حد تک کم رہی۔ یہ قانون سازی بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ٹائم باؤنڈ بینچ مارک کے مطابق کی گئی تھی۔
عام تاثر یہ ہے کہ یہ ناکامی بڑی حد تک اس طاقتور زرعی لابی کے اثرورسوخ کا نتیجہ ہے جس کی نمائندگی وفاقی اور صوبائی دونوں اسمبلیوں میں موجود ہے۔
آئین کے مطابق زرعی ٹیکس ایک صوبائی معاملہ ہے، ایک ایسی شق جس میں آج تک کوئی ترمیم نہیں کی گئی حالانکہ یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتوں نے پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت درکار ہونے کے باوجود 27 ترامیم کامیابی سے منظور کروائی ہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ وفاقی اور صوبائی دونوں اسمبلیوں میں موجود زرعی لابی کا مضبوط اثرورسوخ قرار دیا جاتا ہے۔ یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ ستائیسویں ترمیم بعض شقوں پر شدید مخالفت کے باوجود اسمبلی سے منظور ہو گئی جن میں وہ اعتراضات بھی شامل تھے جو آئی ایم ایف کی گورننس اور کرپشن تشخیصی رپورٹ میں اٹھائے گئے تھے، یہ رپورٹ دوسرے جائزے کی پیشگی شرط کے طور پر پیش کی گئی تھی جس میں ریاستی ڈھانچے کی نظامی کمزوریوں کو ایک بڑی میکرو اکنامک رکاوٹ کے طور پر نشان زد کیا گیا اور اس کی لاگت کا تخمینہ جی ڈی پی کے تقریباً 6 سے 6.5 فیصد کے برابر لگایا گیا تھا۔
وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے مجموعی مالیاتی آپریشنز (جولائی تا مارچ 2026) میں زرعی انکم ٹیکس کے تحت جمع ہونے والی درست رقم کو واضح طور پر ظاہر نہیں کیا گیا، جس پر ناقدین نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ یہ رقم اس قدر کم تھی کہ اسے علیحدہ طور پر ظاہر ہی نہیں کیا جا سکا۔ تاہم جولائی تا مارچ 2026 کے مجموعی اعدادوشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ بلوچستان نے وفاقی منتقلیوں (فیڈرل ٹرانسفرز) پر سب سے زیادہ انحصار کیا جو 85 فیصد تک رہا، اس کے بعد پنجاب 84 فیصد، خیبر پختونخوا 80 فیصد اور سندھ 66 فیصد پر رہا۔ مزید برآں خدمات پر سیلز ٹیکس، ایکسائز ڈیوٹیز، اسٹیمپ ڈیوٹیز اور موٹر وہیکل ٹیکس کے علاوہ دیگر ٹیکسز جن کی الگ سے درجہ بندی نہیں کی گئی اور جن میں بلاشبہ زرعی انکم ٹیکس کی وصولیاں بھی شامل سمجھی جاتی ہیں پنجاب کے اپنے وسائل کا صرف 8 فیصد بنتے ہیں۔ یہ تناسب نہ صرف کم ہے بلکہ حیران کن طور پر جولائی تا دسمبر 2026 کی 32,798 ملین روپے کی وصولی سے کم ہو کر جولائی تا مارچ 2026 میں 28,581 ملین روپے رہ گیا، جو ایک ایسی کمی ہے جو باقی تینوں صوبوں میں دیکھنے میں نہیں آئی۔ اسی کے برعکس سندھ میں یہ دیگر ٹیکسز اپنے وسائل کا 32 فیصد، خیبر پختونخوا میں 36 فیصد اور بلوچستان میں 27 فیصد کے برابر رہے۔
رپورٹ کے مطابق وفاقی حکومت نے صوبوں کو خبردار کیا ہے کہ اگر وہ زرعی انکم ٹیکس (اے آئی ٹی) جو براہِ راست ادائیگی کی صلاحیت پر مبنی ٹیکس ہے کی وصولی میں اضافہ کرنے میں ناکام رہتے ہیں تو وفاق کو ایسے دیگر ٹیکسوں میں اضافہ کرنا پڑ سکتا ہے جو ملک بھر کے صارفین کو متاثر کرتے ہیں۔ یہ امر خاص طور پر اس تناظر میں اہم ہے کہ وفاقی حکومت پہلے ہی بالواسطہ (ان ڈائریکٹ) ٹیکسوں پر زیادہ انحصار کر رہی ہے جن کا بوجھ نسبتاً زیادہ حد تک کم آمدنی والے طبقے پر پڑتا ہے۔ یہ صورتحال اس لیے بھی تشویشناک قرار دی جارہی ہے کہ اس کے اثرات براہِ راست صوبائی حکومتوں کے ووٹرز اور انتخابی حلقوں پر مرتب ہوتے ہیں۔
اس وقت فوڈ انرجی انٹیک کے طریقۂ کار پر مبنی غربت کی سطح یہ ظاہر کرتی ہے کہ فی بالغ فرد روزانہ کم از کم 2350 کیلوریز کی ضرورت پوری کرنے کے لیے درکار اخراجات کے لحاظ سے، آزاد محققین کے مطابق غربت کی شرح 43.5 فیصد ہے جبکہ ورلڈ بینک کے مطابق یہ 42 سے 45 فیصد کے درمیان ہے۔
صوبوں کے لیے یہ انتہائی اہم ہے کہ وہ آئندہ سال کے بجٹ میں بڑے جاگیرداروں کی آمدن پر ایسا ٹیکس شامل کریں جو کم از کم اس شرح کے برابر ہو جو تنخواہ دار طبقہ ادا کرتا ہے۔ ایسا نہ کرنے کی صورت میں یہ معاملہ صوبائی دائرۂ اختیار سے باہر بھی منتقل ہو سکتا ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026


Comments