ٹرمپ کا آبنائے ہرمز میں پھنسے جہاز نکالنے میں مدد کا اعلان، خام تیل کی قیمتوں میں کمی
- برینٹ خام تیل کے سودے 64 سینٹ یا 0.59 فیصد کمی کے بعد 107.53 ڈالر فی بیرل پر آ گئے
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں پیر کے روز معمولی کمی دیکھنے میں آئی، جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ امریکا آبنائے ہرمز میں پھنسے جہازوں کو محفوظ راستہ فراہم کرنے کی کوشش شروع کرے گا۔ تاہم امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی عدم موجودگی کے باعث قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر برقرار رہیں۔
برینٹ خام تیل کے سودے 64 سینٹ یا 0.59 فیصد کمی کے بعد 107.53 ڈالر فی بیرل پر آ گئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) 84 سینٹ یا 0.82 فیصد کمی کے ساتھ 101.10 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوتا رہا۔
صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر بیان میں کہا کہ امریکا ایران، مشرق وسطیٰ اور خود اپنے مفاد میں ان ممالک کے جہازوں کو آبی گزرگاہ سے بحفاظت نکالنے میں رہنمائی فراہم کرے گا تاکہ تجارتی سرگرمیاں بحال ہو سکیں۔
دوسری جانب آبنائے ہرمز میں کشیدگی بدستور برقرار ہے، جس کے باعث جہاز رانی محدود ہے اور عالمی تیل کی ترسیل متاثر ہو رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہی صورتحال قیمتوں کو سہارا دے رہی ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات ہفتے کے اختتام پر بھی جاری رہے، تاہم دونوں فریق اپنے اپنے مؤقف پر قائم ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امن مذاکرات تعطل کا شکار ہیں کیونکہ کوئی بھی فریق اپنے بنیادی مطالبات سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔
ادھر اوپیک پلس نے اعلان کیا ہے کہ جون کے لیے تیل کی پیداوار میں 188,000 بیرل یومیہ اضافہ کیا جائے گا، جو مسلسل تیسرا ماہانہ اضافہ ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران جنگ کے باعث خلیجی سپلائی متاثر ہونے کی وجہ سے اس اضافے کا عملی اثر محدود رہ سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق جب تک ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی ختم نہیں ہوتی اور آبنائے ہرمز میں مکمل بحری آمدورفت بحال نہیں ہوتی، تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی کا امکان کم ہے۔


Comments