BR100 Increased By (1.42%)
BR30 Increased By (1.24%)
KSE100 Increased By (1.02%)
KSE30 Increased By (1.18%)
BAFL 57.18 Increased By ▲ 0.79 (1.4%)
BIPL 26.75 Increased By ▲ 0.19 (0.72%)
BOP 33.78 Increased By ▲ 0.73 (2.21%)
CNERGY 9.60 Decreased By ▼ -0.08 (-0.83%)
DFML 18.48 Increased By ▲ 0.32 (1.76%)
DGKC 207.00 Increased By ▲ 2.99 (1.47%)
FABL 99.00 Increased By ▲ 2.03 (2.09%)
FCCL 51.84 Increased By ▲ 0.93 (1.83%)
FFL 16.66 Increased By ▲ 0.10 (0.6%)
GGL 23.31 Increased By ▲ 0.54 (2.37%)
HBL 303.20 Increased By ▲ 5.16 (1.73%)
HUBC 216.90 Increased By ▲ 0.47 (0.22%)
HUMNL 10.93 Increased By ▲ 0.23 (2.15%)
KEL 7.44 Decreased By ▼ -0.08 (-1.06%)
LOTCHEM 30.58 Increased By ▲ 0.24 (0.79%)
MLCF 95.78 Increased By ▲ 2.46 (2.64%)
OGDC 320.70 Increased By ▲ 1.20 (0.38%)
PAEL 41.40 Increased By ▲ 0.34 (0.83%)
PIBTL 16.70 Increased By ▲ 0.25 (1.52%)
PIOC 262.50 Increased By ▲ 5.49 (2.14%)
PPL 223.49 Increased By ▲ 0.91 (0.41%)
PRL 41.55 Decreased By ▼ -0.50 (-1.19%)
SNGP 104.40 Decreased By ▼ -0.10 (-0.1%)
SSGC 28.50 Increased By ▲ 0.12 (0.42%)
TELE 8.71 Increased By ▲ 0.08 (0.93%)
TPLP 12.13 Increased By ▲ 1.10 (9.97%)
TRG 57.70 Decreased By ▼ -1.11 (-1.89%)
UNITY 9.68 Increased By ▲ 0.08 (0.83%)
WTL 1.25 Increased By ▲ 0.02 (1.63%)
ٹیکنالوجی

چینی کمپنی ڈیپ سیک نے طویل انتظار کے بعد اپنا نیا اے آئی ماڈل جاری کر دیا

  • ہانگژو میں قائم ڈیپ سیک نے گزشتہ سال جنوری میں اپنے جنریٹو اے آئی چیٹ بوٹ کے ساتھ عالمی سطح پر تہلکہ مچا دیا تھا
شائع اپ ڈیٹ

چینی اسٹارٹ اپ ڈیپ سیک نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کا ایک نیا ماڈل جاری کیا ہے جس کے بارے میں کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اس کی لاگت میں انتہائی نمایاں کمی کی گئی ہے۔ یہ پیشرفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایک سال قبل اس کمپنی نے کم لاگت والے ریزننگ ماڈل کے ذریعے دنیا کو حیران کر دیا تھا، جو امریکی حریفوں کی صلاحیتوں کا مقابلہ کر رہا تھا۔

مصنوعی ذہانت کی اس دوڑ نے چین اور امریکہ کے درمیان مسابقت کو مزید تیز کر دیا ہے۔ جمعرات کو وائٹ ہاؤس نے چینی اداروں پر مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی چرانے کی بڑے پیمانے پر کوششوں کا الزام بھی عائد کیا ہے۔ ہانگژو میں قائم ڈیپ سیک نے گزشتہ سال جنوری میں اپنے آرون ریزننگ ماڈل پر مبنی جنریٹو اے آئی چیٹ بوٹ کے ساتھ منظرِ عام پر آ کر اس شعبے میں امریکی غلبے کے تصورات کو بدل کر رکھ دیا تھا۔

کمپنی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم وی چیٹ پر جاری ایک بیان میں کہا کہ نیا ماڈل ڈیپ سیک وی فور الٹرا لانگ سیاق و سباق کی خصوصیت رکھتا ہے، جبکہ پلیٹ فارم ایکس پر اسے کمپیوٹنگ اور میموری کی لاگت میں نمایاں کمی کے ساتھ دنیا کا صفِ اول کا ماڈل قرار دیا گیا ہے۔

وی فور ماڈل 10 لاکھ ٹوکنز(الفاظ یا رموز کے چھوٹے اجزاء) کی گنجائش کو سپورٹ کرتا ہے، جو اسے گوگل کے جیمنی کے برابر کھڑا کر دیتا ہے۔ کانٹیکسٹ لینتھ (سیاق و سباق کی طوالت) یہ طے کرتی ہے کہ ایک ماڈل کسی کام کو مکمل کرنے کے لیے کتنی معلومات کو جذب کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ نیا وی فور دو ورژن میں جاری کیا گیا ہے،پہلا ڈیپ سیک وی فور پرو اور دوسرا ڈیپ سیک وی فور فلیش ہے ،مؤخر الذکر (فلیش ورژن) کم پیرامیٹرز کی وجہ سے ایک زیادہ مؤثر اور اقتصادی انتخاب ہے۔ کمپنی کے مطابق عالمی معلومات کے بینچ مارک پر وی فور پرو صرف گوگل کے تازہ ترین جیمنی ماڈل سے پیچھے ہے۔

اہم موڑ

ماہرین کا کہنا ہے کہ وی فور کی آمد ہارڈ ویئر اور لاگت کے لحاظ سے صنعت کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے۔ ٹیک ریسرچ فرم کے بانی ژانگ یی نے اے ایف پی کو بتایا کہ یہ ماڈل طویل سیاق و سباق سے وابستہ سست رفتاری اور زیادہ لاگت کے دیرینہ مسائل کو حل کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عام صارفین کے لیے اس کے بڑے فوائد ہوں گے۔ مثال کے طور پر طویل متن پر کارروائی اب صرف اعلیٰ درجے کی تحقیقی لیبارٹریوں تک محدود نہیں رہے گی بلکہ عام تجارتی استعمال میں بھی آئے گی۔

وی فور پرو میں 1.6 ٹریلین پیرامیٹرز جبکہ وی فور فلیش میں 284 بلین پیرامیٹرز ہیں جو ماڈل کی فیصلہ سازی کی صلاحیت کو نکھارتے ہیں۔ یہ ماڈل مختلف اے آئی ایجنٹ پراڈکٹس جیسے کہ کلاؤڈ کوڈ اور کوڈ بڈی کے لیے بھی موزوں بنایا گیا ہے۔

فیصلہ کن گھڑی

گزشتہ سال کے ڈیپ سیک شاک نے اے آئی سے متعلقہ حصص (شیئرز) کی قیمتوں میں گراوٹ اور کاروباری حکمت عملیوں پر نظرثانی پر مجبور کر دیا تھا جسے صنعت کے لیے فیصلہ کن لمحہ قرار دیا گیا۔ ڈیپ سیک کا چیٹ بوٹ چیٹ جی پی ٹی کے برابر کارکردگی دکھاتا ہے، لیکن کمپنی کا کہنا ہے کہ اسے تیار کرنے میں نمایاں طور پر کم کمپیوٹنگ پاور استعمال ہوئی ہے۔

تاہم اس کی اچانک مقبولیت نے ڈیٹا پرائیویسی اور سینسر شپ کے سوالات بھی کھڑے کردیے ہیں، کیوں کہ یہ چیٹ بوٹ اکثر 1989 کے تیانانمن کریک ڈاؤن جیسے حساس موضوعات پر سوالات کے جواب دینے سے انکار کر دیتا ہے۔ چین میں ڈیپ سیک کے ٹولز کو بلدیاتی اداروں، صحت کے مراکز اور مالیاتی شعبے میں بڑے پیمانے پر اپنایا گیا ہے۔ اس کی ایک وجہ ڈیپ سیک کا اپنے سسٹم کو اوپن سورس رکھنا ہے، جو کہ اوپن اے آئی جیسے مغربی حریفوں کے ملکیتی ماڈلز کے برعکس ہے۔

دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے چینی فرموں پر امریکی ٹیکنالوجی چرانے کا الزام لگایا ہے۔ ٹرمپ کے سائنس اور ٹیکنالوجی کے مشیر مائیکل کراٹسیوس نے دعویٰ کیا کہ امریکہ کے پاس اس بات کے ثبوت ہیں کہ بنیادی طور پر چین میں موجود غیر ملکی ادارے امریکی اے آئی کو چرانے کے لیے بڑے پیمانے پر ڈسٹلیشن مہم چلا رہے ہیں۔

ڈسٹلیشن اے آئی کی تیاری کا ایک عام طریقہ ہے جس کے ذریعے کمپنیاں اپنے ہی ماڈلز کے سستے اور چھوٹے ورژن بناتی ہیں۔

ڈیپ سیک کا یہ اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب میٹا نے اپنے عملے میں 10 فیصد کٹوتی کا منصوبہ بنایا ہے، تاکہ اے آئی میں بھاری سرمایہ کاری کے ساتھ ساتھ افرادی قوت کی پیداواری صلاحیت کو بہتر بنایا جا سکے۔ رپورٹس کے مطابق مائیکرو سافٹ بھی اپنے عملے میں کمی پر غور کر رہا ہے۔

Comments

200 حروف