ایران کے ساتھ نیا معاہدہ پرانے جوہری معاہدے سے بہتر ہوگا، ٹرمپ
- حالیہ کشیدگی کے دوران امریکہ اور اسرائیل گزشتہ سات ہفتوں سے ایران پر حملے کر رہے ہیں
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جوہری مذاکرات کے نتیجے میں ہونے والا ممکنہ معاہدہ 2015 کے بین الاقوامی معاہدے سے بہتر ہوگا، جس کا مقصد تہران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنا تھا۔
ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا کہ ہم ایران کے ساتھ جو معاہدہ کر رہے ہیں وہ جے سی پی او اے سے کہیں زیادہ بہتر ہوگا، جسے عام طور پر ایران نیوکلیئر ڈیل کہا جاتا ہے۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ڈیموکریٹس اور بعض جوہری ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ وہ ایک پیچیدہ معاملے پر جلد بازی میں مذاکرات کر رہے ہیں۔
یاد رہے کہ ٹرمپ نے اپنے پہلے دورِ صدارت میں 2018 میں اسی معاہدے سے علیحدگی اختیار کر لی تھی اور اسے بدترین معاہدہ قرار دیا تھا۔ حالیہ کشیدگی کے دوران امریکہ اور اسرائیل گزشتہ سات ہفتوں سے ایران پر حملے کر رہے ہیں، جس کا مقصد ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا بتایا گیا ہے۔
دریں اثنا، دو ہفتوں کی جنگ بندی جلد ختم ہونے والی ہے اور پاکستان میں امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات کے دوسرے دور کے امکانات تاحال غیر واضح ہیں۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انہیں کسی دباؤ کا سامنا نہیں اور معاملات جلد طے پا سکتے ہیں۔
تاہم ماہرین کے مطابق اتنے کم وقت میں کسی جامع معاہدے تک پہنچنا مشکل ہے، کیونکہ 2015 کے معاہدے میں دو سال لگے تھے اور اس میں مختلف شعبوں کے 200 ماہرین شامل تھے۔


Comments