ایران سے معاہدہ نہ ہوا تو فوجی کارروائیاں بحال ہوں گی، امریکی وزیر جنگ
- ایران کے پاس ایک خوشحال مستقبل اور باوقار راستہ موجود ہے، اور ہم امید کرتے ہیں کہ وہ اپنے عوام کے مفاد میں یہی راستہ اختیار کرے گا
امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے جمعرات کو پینٹاگون بریفنگ میں کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکی افواج اس حالت میں تیار ہیں کہ اگر ایران کسی امن معاہدے پر رضامند نہ ہوا تو وہ دوبارہ جنگی کارروائیاں شروع کر سکتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ”ایران، آپ ایک خوشحال مستقبل اور ایک باوقار راستے کا انتخاب کر سکتے ہیں، اور ہم امید کرتے ہیں کہ آپ اپنے عوام کے لیے یہی کریں گے۔“
ہیگستھ کے مطابق ”اگر ایران غلط انتخاب کرتا ہے تو اسے ناکہ بندی اور بنیادی ڈھانچے، توانائی اور بجلی کے نظام پر بمباری کا سامنا کرنا پڑے گا۔“
ایران پر دباؤ ڈالنے کی مہم کے حصے کے طور پر امریکی افواج نے ایرانی بندرگاہوں میں داخل ہونے یا وہاں سے نکلنے والے تمام جہازوں پر ناکہ بندی شروع کر دی ہے۔
چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین نے کہا کہ امریکی افواج ”ہر اس ایرانی پرچم بردار جہاز یا کسی بھی ایسے جہاز کا فعال طور پر تعاقب کریں گی جو ایران کو مادی مدد فراہم کرنے کی کوشش کرے گا۔“
انہوں نے خبردار کیا کہ ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کرنے والے جہازوں کو روکا اور متنبہ کیا جائے گا کہ ”اگر آپ نے اس ناکہ بندی کی پابندی نہ کی تو ہم طاقت استعمال کریں گے۔“ ان کے مطابق یہ کارروائیاں ایران کی علاقائی سمندری حدود کے اندر اور بین الاقوامی پانیوں میں بھی کی جائیں گی۔

Comments