ٹرمپ نے رضا پہلوی کی ایران میں حمایت حاصل کرنے کی صلاحیت پر سوال اٹھا دیا
- ٹرمپ نے واضح کیا کہ وہ اس مرحلے پر رضا پہلوی کی قیادت کے بارے میں حتمی رائے دینے کے لیے تیار نہیں
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایرانی اپوزیشن رہنما رضا پہلوی ایک شریف اور اچھے انسان دکھائی دیتے ہیں، تاہم یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ آیا وہ ایران کے اندر کافی حمایت حاصل کر سکتے ہیں یا نہیں۔ وائٹ ہاؤس میں رائٹرز کو دیئے گئے خصوصی انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ ایران کی موجودہ مذہبی حکومت ختم بھی ہوسکتی ہے، تاہم کسی بھی نظامِ حکومت کے گرنے کا امکان دنیا میں ہمیشہ موجود رہتا ہے۔
ٹرمپ نے واضح کیا کہ وہ اس مرحلے پر رضا پہلوی کی قیادت کے بارے میں حتمی رائے دینے کے لیے تیار نہیں، اور نہ ہی وہ یہ ضمانت دے سکتے ہیں کہ ایرانی عوام انہیں قبول کریں گے۔ رضا پہلوی، جو 1979 کے انقلاب سے قبل ہی ملک چھوڑ چکے تھے اور سابق شاہ ایران کے بیٹے ہیں، امریکہ میں مقیم ہیں اور ایران میں جاری احتجاج کے دوران اپوزیشن کی ایک اہم آواز کے طور پر سامنے آئے ہیں۔
ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ایران میں اپوزیشن متعدد گروہوں پر مشتمل ہے اور اندرون ملک منظم موجودگی کمزور ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کے مظاہرے ممکن ہے حکومت کے زوال کا سبب بنیں، لیکن اس حوالے سے کوئی یقین سے بات نہیں کی جا سکتی۔
انٹرویو میں انہوں نے یوکرین جنگ سے متعلق بھی سخت مؤقف اختیار کیا اور دعویٰ کیا کہ جنگ رکنے میں سب سے بڑی رکاوٹ یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی ہیں، جبکہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن امن معاہدے کے لیے تیار ہیں۔ ٹرمپ نے کہا کہ سمجھوتہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک زیلنسکی تعاون نہ کریں۔
ٹرمپ نے امریکی فیڈرل ریزرو کے سربراہ جیروم پاول کے خلاف محکمہ انصاف کی تحقیقات پر ریپبلکن قانون سازوں کی تنقید مسترد کر دی اور کہا کہ پارٹی کے سینٹرز کو وفاداری دکھانی چاہیے۔ انہوں نے جے پی مورگن کے سربراہ جیمی ڈائمن کے اعتراضات کو بھی مسترد کیا کہ ٹرمپ کی مداخلت مہنگائی بڑھا سکتی ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ آئندہ ہفتے ڈیووس میں عالمی اقتصادی فورم پر وہ امریکہ کی مضبوط معیشت، روزگار کے اعداد و شمار اور ترقی کی رفتار کو اجاگر کریں گے، اور مختلف عالمی رہنماؤں سے دوطرفہ ملاقاتیں کریں گے۔


Comments
Comments are closed.