✕
کاروبار اور معیشت

اورنگزیب کی عالمی مالیاتی اداروں اور سرمایہ کاروں سے ملاقاتیں، معاشی اصلاحات اور برآمدات میں اضافے پر تبادلہ خیال

  • موڈیز کے نمائندوں سے ملاقات میں پاکستان کی معاشی صورتحال اور خودمختار کریڈٹ ریٹنگ پر گفتگو ہوئی
شائع اپ ڈیٹ

وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے بنکاک میں آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے سالانہ اجلاسوں کے موقع پر عالمی سرمایہ کاروں، کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی موڈیز، کثیرالجہتی مالیاتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں اور مختلف ممالک کے حکام سے ملاقاتیں کیں، جن میں پاکستان کے معاشی استحکام، ساختی اصلاحات اور برآمدات پر مبنی پائیدار ترقی کے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

جے پی مورگن کے سرمایہ کاری سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے مالیاتی استحکام، محصولات میں اضافے اور مسلسل بنیادی بجٹ سرپلس کا ذکر کیا۔ انہوں نے ترسیلات زر میں اضافے، زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری اور کرنٹ اکائونٹ کے خسارے کو محدود رکھنے کے اقدامات پر روشنی ڈالی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت بیرونی قرضوں کا حجم بڑھائے بغیر مہنگے قلیل مدتی قرضوں کی جگہ طویل مدت کی مالی معاونت حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

موڈیز کے نمائندوں سے ملاقات میں پاکستان کی معاشی صورتحال اور خودمختار کریڈٹ ریٹنگ پر گفتگو ہوئی۔ وزیر خزانہ نے عالمی مالیاتی منڈیوں تک دوبارہ رسائی، زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے اور اسٹیٹ بینک کی فارورڈ واجبات میں کمی کو اجاگر کیا۔

انہوں نے ٹیکس نظام میں اصلاحات، ٹیکس نیٹ میں توسیع، نجکاری اور ٹیرف اصلاحات کو بھی برآمدات کے فروغ کے لیے اہم قرار دیا۔

اقوام متحدہ کی ڈپٹی سیکریٹری جنرل آمنہ جے محمد سے ملاقات میں ترقیاتی مالی معاونت، قرضوں کی پائیداری، موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے اور غربت میں کمی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں فریقوں نے پائیدار ترقی کے اہداف کے لیے مناسب مالی وسائل اور سماجی تحفظ کی ضرورت پر زور دیا۔

اوپیک فنڈ کے صدر سے ملاقات میں ایم 6 موٹروے، ایم ایل ون ریلوے کی جدید کاری اور بجلی کی ترسیل کے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں پر گفتگو ہوئی۔

عالمی اسلامی تجارتی مالیاتی کارپوریشن کے ساتھ قرضوں کی شرائط اور تجارتی مالی معاونت پر تبادلہ خیال کیا گیا، جبکہ علی بابا کے حکام سے ڈیجیٹل معیشت، برقی ادائیگیوں، ای کامرس، مصنوعی ذہانت اور زرعی برآمدات کے فروغ پر بات چیت ہوئی۔

وزیر خزانہ نے تھائی لینڈ کے نائب وزیراعظم و وزیر خزانہ سے ملاقات میں دوطرفہ تجارت، سیاحت، ثقافتی روابط اور اعلیٰ سطح کے تبادلوں کی بحالی پر بھی گفتگو کی۔