خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کا نفاذ آئین کی خلاف ورزی نہیں، محسن نقوی
- اگر حکومت اور اپوزیشن کسی معاہدے پر پہنچ جاتیں تو خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ نہ کی جاتی، وزیر داخلہ
وزیر داخلہ محسن نقوی نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حوالے سے آئین اور قانون کی کسی شق کی خلاف ورزی نہیں کی گئی۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر حکومت اور اپوزیشن کسی معاہدے پر پہنچ جاتیں تو خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ نہ کی جاتی۔
منگل کو سینیٹ کے 364ویں اجلاس کے پہلے روز خطاب کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا حکومتی فیصلہ آئینی یا قانونی خلاف ورزی کے زمرے میں نہیں آتا۔
اپوزیشن سے مخاطب ہوتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ بتائیں کہ آئین کے کس آرٹیکل کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔ وہ سینیٹ میں قائد حزب اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس کے اس بیان کا حوالہ دے رہے تھے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ سے آئین کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔
محسن نقوی نے کہا کہ اپوزیشن اس اقدام کو غلط یا درست قرار دے سکتی ہے، تاہم حکومت کے نزدیک یہ درست اقدام ہے۔
انہوں نے تجویز دی کہ اس بات کا تعین کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی جائے کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے اعلان کے دوران کسی قانون کی خلاف ورزی ہوئی یا نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی نے ایمرجنسی کے اعلان کے مسودے کی ہر شق کا جائزہ لینے کے بعد اسے نافذ کیا تھا۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ ایوان میں قائد حزب اختلاف نے انتہائی جذباتی تقریر کی۔
حکومت اور اپوزیشن کے درمیان حالیہ مذاکرات کے حوالے سے محسن نقوی نے بتایا کہ بات چیت کا محور دہشت گردی تھا اور اس دوران سات سے آٹھ نکات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
سینیٹر محسن نقوی کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اسد قیصر نے یقین دہانی کرائی تھی کہ دہشت گردی کے خلاف تمام نکات پر اپوزیشن پاکستان کے ساتھ کھڑی ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے اسد قیصر کو بتایا تھا کہ ان کا مؤقف اور خیبر پختونخوا حکومت کا مؤقف ایک دوسرے سے مطابقت نہیں رکھتے۔
محسن نقوی نے کہا کہ یہ قابل قبول نہیں تھا کہ فوجی اور پولیس اہلکار اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کریں، جبکہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا ان کے خلاف بیانات دیں۔ تاہم، انہوں نے واضح کیا کہ حکومت نے کبھی سیاسی بیانات کو دہشت گردی سے منسلک نہیں کیا۔
وزیر داخلہ نے مزید بتایا کہ حکومت اور اپوزیشن کے مجوزہ معاہدے کے مسودے میں چوتھی مرتبہ چھ ترامیم کی گئیں۔ حکومت نے تمام ترامیم قبول کرلیں اور مسودہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کو بھیج دیا۔ ان کے مطابق وزیراعلیٰ نے یہ مسودہ مراد سعید کو بھیج دیا، جس کے بعد دو روز کی محنت ضائع ہوگئی۔
محسن نقوی نے کہا کہ حکومت کے پاس 26 نومبر 2024 کو بھی خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کرنے کا اختیار موجود تھا۔
نائب وزیراعظم اور سینیٹ میں قائد ایوان اسحاق ڈار نے بھی ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کی حکومت کے دوران دہشت گردی دوگنا ہوگئی تھی۔
اس سے قبل قائد حزب اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کرکے آئین کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر پورا نظام ناکام ہوچکا ہے تو صرف خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کیوں نافذ کی گئی، پورے پاکستان میں کیوں نہیں؟
انہوں نے سوال کیا کہ کیا خیبر پختونخوا کی صورتحال اتنی خراب تھی کہ ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا تھا؟ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ایمرجنسی اور گورنر راج فوری طور پر واپس لیا جائے۔
راجہ ناصر عباس نے زور دیا کہ غلطی کو مزید بڑھانے کے بجائے اختلافات بات چیت کے ذریعے حل کیے جائیں۔
سینیٹ اجلاس کے آغاز پر چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے قائد حزب اختلاف کی درخواست منظور کرتے ہوئے وقفہ سوالات معطل کردیا اور خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ پر بحث کی اجازت دی۔
سینیٹ کا اجلاس بدھ تک ملتوی کردیا گیا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026