اسٹاک ایکسچینج : کے ایس ای 100 انڈیکس میں تقریباً 500 پوائنٹس کی کمی
- بینچ مارک انڈیکس 168,155.49 پوائنٹس پر بند
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں جمعہ کو اتار چڑھاؤ کا شکار کاروباری سیشن دیکھا گیا، جہاں مشرق وسطیٰ میں امریکا کی جانب سے مزید فوجی دستے اور جنگی بحری جہاز بھیجے جانے کی اطلاعات کے باعث سرمایہ کار محتاط رہے، جبکہ بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس تقریباً 500 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ بند ہوا۔
ابتدائی کاروبار میں فروخت کے دباؤ کے باعث بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس دن کی کم ترین سطح 167,685.42 پوائنٹس تک گر گیا۔ بعد ازاں مارکیٹ نے استحکام حاصل کیا اور انڈیکس میں بہتری آئی، جو کاروباری اوقات کے دوسرے حصے میں دن کی بلند ترین سطح 168,854.46 پوائنٹس پر پہنچ گیا۔
تاہم اختتام کے قریب ایک بار پھر فروخت کا دباؤ بڑھ گیا، جس کے باعث کے ایس ای 100 انڈیکس اپنی حاصل کردہ بہتری برقرار نہ رکھ سکا اور دوبارہ 168,000 پوائنٹس کی سطح کے قریب آگیا۔
کاروبار کے اختتام پر بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 481.36 پوائنٹس یا 0.29 فیصد کمی کے بعد 168,155.49 پوائنٹس پر بند ہوا۔
بروکریج ہاؤس ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے اپنی مارکیٹ رپورٹ میں کہا کہ نئے محرکات کی عدم موجودگی، خام تیل کی بلند قیمتوں اور امریکا ایران تعلقات میں جاری تعطل کے باعث سرمایہ کاروں کی مارکیٹ میں دلچسپی محدود رہی۔
رپورٹ کے مطابق سسٹمز لمیٹڈ، میزان بینک، لکی سیمنٹ، نیشنل بینک اور حبیب بینک نے انڈیکس پر سب سے زیادہ منفی اثر ڈالا اور مجموعی طور پر انڈیکس کو 269 پوائنٹس نیچے کھینچا۔
منافع کے حصول اور بینکوں، ایکسپلوریشن اینڈ پروڈکشن کمپنیوں، سیمنٹ اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے حصص میں وسیع پیمانے پر فروخت کے باعث جمعرات کو پی ایس ایکس میں نمایاں کمی ہوئی تھی۔ خام تیل کی بلند قیمتوں اور مسلسل جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کیا اور مارکیٹ کی 170,000 پوائنٹس سے اوپر کی ابتدائی تیزی بھی ختم ہوگئی۔
بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 1,332.47 پوائنٹس یا 0.78 فیصد کمی کے بعد 168,636.85 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔
عالمی سطح پر ایشیائی حصص بھی جمعہ کو دباؤ میں رہے، کیونکہ اہم امریکی روزگار کے اعدادوشمار کے اجرا سے قبل سرمایہ کار بانڈ اور کرنسی مارکیٹوں میں شدید اتار چڑھاؤ سے دوچار رہے، جبکہ خلیج میں بڑھتی ہوئی فوجی سرگرمیوں کے باعث تیل کی قیمتیں بلند رہیں۔
ایشیا میں جاپان کے علاوہ ایشیا بحرالکاہل کے حصص کا وسیع تر ایم ایس سی آئی انڈیکس 0.5 فیصد گر گیا اور رواں ہفتے مجموعی طور پر 1.7 فیصد کمی کی جانب گامزن تھا۔ جاپان کا نکیئی 0.7 فیصد نیچے آیا، تاہم ہفتے کے دوران اس میں 3.1 فیصد اضافے کی توقع تھی۔
چین کی سرزمین پر قائم اسٹاک مارکیٹیں اگلے ہفتے بدھ تک سرکاری تعطیلات کے باعث بند ہیں۔
ٹریژری بانڈز کی شرحِ منافع میں کمی سے وال اسٹریٹ میں کاروبار کے اختتامی حصے میں بہتری آنے کے بعد نیس ڈیک فیوچرز میں 0.3 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ ایس اینڈ پی 500 فیوچرز میں 0.1 فیصد معمولی اضافہ دیکھا گیا۔
تمام تر توجہ بعد ازاں جاری ہونے والے امریکا کے نان فارم پے رولز کے اعدادوشمار پر مرکوز رہی۔ ستمبر میں 90 ہزار ملازمتوں کے اضافے کی پیش گوئی کی جارہی تھی، جبکہ روزگار کی شرح 4.1 فیصد پر مستحکم رہنے کا امکان تھا۔ فی گھنٹہ اجرت کے اعدادوشمار بھی خاص توجہ کا مرکز رہیں گے، کیونکہ آئی ایس ایم سروے میں ادا کی جانے والی قیمتوں میں نمایاں اضافے نے لاگت کے مزید دباؤ کی نشاندہی کی ہے۔
دریں اثنا پاکستانی روپے نے جمعہ کو انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں معمولی قدر میں اضافہ جاری رکھا۔ روپے کی قدر میں 0.01 فیصد بہتری ہوئی اور کاروبار کے اختتام پر ڈالر کے مقابلے میں روپیہ 277.07 روپے پر بند ہوا، جو 3 پیسے کا اضافہ ہے۔
آل شیئر انڈیکس میں کاروباری حجم گزشتہ سیشن کے 54 کروڑ 83 لاکھ 80 ہزار حصص کے مقابلے میں کم ہوکر 49 کروڑ 39 لاکھ 60 ہزار حصص رہ گیا۔
حصص کی مالیت گزشتہ سیشن کے 17.05 ارب روپے کے مقابلے میں بڑھ کر 17.49 ارب روپے ہوگئی۔
ایف نیٹ ایکویٹیز 4 کروڑ 25 لاکھ 10 ہزار حصص کے کاروبار کے ساتھ حجم کے لحاظ سے سرفہرست رہی۔ ورلڈ کال ٹیلی کام کے 4 کروڑ 8 لاکھ حصص جبکہ ڈی ایس انڈسٹریز لمیٹڈ کے 2 کروڑ 95 لاکھ 10 ہزار حصص کا کاروبار ہوا۔
جمعہ کو مجموعی طور پر 494 کمپنیوں کے حصص میں کاروبار ہوا، جن میں سے 128 کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ، 321 میں کمی جبکہ 45 کمپنیوں کے حصص کی قیمتیں مستحکم رہیں۔