پاکستانی سرمایہ کار اب بھی اعتماد کی وجہ کے منتظر
- نجی سرمایہ کاروں کو یہ یقین ہونا چاہیے کہ آج کی گئی سرمایہ کاری سے پانچ یا دس سال بعد حاصل ہونے والے منافع کی شرائط سرمایہ کاری کے دوران تبدیل نہیں کی جائیں گی
گزشتہ تین برس کے دوران پاکستان کی معاشی صورتحال میں بہتری حقیقی ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر دوبارہ مضبوط ہوئے، خودمختار کریڈٹ ریٹنگ بہتر ہوئی، قرضوں کا بوجھ بحران کے دور کی بلند ترین سطح سے کم ہوا اور فوری بیرونی قرضوں کی ادائیگی کے بحران کا خطرہ نمایاں طور پر گھٹ گیا ہے۔
ستمبر کے وسط تک اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر تقریباً 21.4 ارب ڈالر تھے، جبکہ ایس اینڈ پی نے جولائی میں پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ بڑھا کر بی کردی۔ معاشی استحکام کے روایتی پیمانوں کے لحاظ سے اسلام آباد نے مشکل مرحلے کا بڑا حصہ طے کرلیا ہے۔
تاہم استحکام کو سرمایہ کاری میں تبدیل کرنے میں کامیابی نہیں مل سکی۔ مالی سال 2026 میں پاکستان کی سرمایہ کاری اور جی ڈی پی کا تناسب صرف 14.38 فیصد رہا، جبکہ قومی بچت جی ڈی پی کے 14.13 فیصد تک محدود رہی۔ براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری کی صورتحال اس سے بھی زیادہ تشویشناک رہی اور سال کے دوران 34 فیصد کمی کے بعد 1.64 ارب ڈالر رہ گئی۔ یہ اعدادوشمار ایسی معیشت کے نہیں جہاں سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوچکا ہو۔ یہ ایسی معیشت کی عکاسی کرتے ہیں جو گرنا تو رک گئی ہے لیکن سرمایہ کاروں کو دوبارہ ترقی کا سفر شروع کرنے کے لیے محفوظ ماحول کا یقین نہیں دلا سکی۔
مسئلے کا ایک حصہ ساختی نوعیت کا ہے۔ پاکستان پائیدار اقتصادی ترقی کے لیے درکار شرح پر سرمایہ کاری کی مالی اعانت کرنے کے لیے کافی بچت نہیں کرتا مگر زیادہ مشکل مسئلہ اعتماد کا ہے۔ مقامی اور غیرملکی سرمایہ کار ایسی رسمی معیشت میں طویل مدتی سرمایہ لگانے سے اب بھی گریزاں ہیں جہاں ٹیکس، ضوابط اور منافع سے متعلق قواعد خود سرمایہ کاری کی واپسی کی مدت سے بھی زیادہ تیزی سے تبدیل ہوسکتے ہیں۔
یہ مسئلہ ان شعبوں میں خاص طور پر نمایاں ہے جہاں ابتدا میں بڑے سرمائے کی ضرورت ہوتی ہے، سرمایہ کاری کے ثمرات حاصل ہونے میں طویل وقت لگتا ہے اور قیمتیں ضابطہ کار اداروں کے زیراثر ہوتی ہیں۔
خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی) منظوری کے عمل کو تیز اور انتظامی رکاوٹوں کو دور کرسکتی ہے، لیکن حکمنامے کے ذریعے سرمایہ کاروں کا اعتماد پیدا نہیں کیا جاسکتا۔ سرمایہ کار صرف یہ نہیں دیکھتے کہ موجودہ حکومت ان کے سرمائے کی خواہاں ہے، بلکہ یہ بھی جائزہ لیتے ہیں کہ مستقبل میں ضابطہ کار ادارہ، ٹیکس اتھارٹی، عدالت یا حکومت ان شرائط کو برقرار رکھے گی یا نہیں جن کی بنیاد پر سرمایہ کاری کی گئی تھی۔
پالیسی کا تسلسل پالیسی کے جوش سے زیادہ اہم ہے، کیونکہ ایک نظام کے تحت فائدہ مند نظر آنے والی سرمایہ کاری دوسرے قواعد کے تحت بے وقعت ہوسکتی ہے۔
کے الیکٹرک کے ٹیرف کا تنازع اس کی واضح مثال ہے۔ نیپرا نے ابتدائی طور پر کمپنی کے لیے سات سالہ کثیر سالہ ٹیرف نظام کے تحت اوسط بنیادی ٹیرف 39.97 روپے فی یونٹ مقرر کیا تھا لیکن کے الیکٹرک، پاور ڈویژن اور دیگر فریقوں کی جانب سے دائر نظرثانی درخواستوں کے بعد اکتوبر 2025 میں اسے کم کرکے 32.37 روپے فی یونٹ کردیا گیا۔
کے الیکٹرک نے نظرثانی شدہ فیصلے کو چیلنج کیا، تاہم نیپرا اپیلیٹ ٹریبونل نے رواں ماہ اس کی اپیلیں مسترد کردیں۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ نظرثانی شدہ ٹیرف مالی طور پر پائیدار نہیں اور اس نے مزید قانونی چارہ جوئی کا عندیہ دیا ہے۔ مناسب ٹیرف کے بارے میں کسی کی بھی رائے ہو، طویل ٹیرف تعین کے عمل کے بعد ریگولیٹری آمدنی کی بنیاد میں تقریباً 19 فیصد کمی ایسا واقعہ ہے جسے طویل مدتی سرمایہ کار اپنی مطلوبہ شرح منافع طے کرتے وقت ضرور مدنظر رکھیں گے۔
یہ صورتحال اس لیے بھی اہم ہے کہ پاکستان ایک ہی وقت میں نجی سرمایہ کاروں سے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی خریداری کا مطالبہ کررہا ہے۔ فیسکو، گیپکو اور آئیسکو پہلے ہی نجکاری کے عمل سے گزر رہی ہیں، جبکہ حکومت سرمایہ کاروں کو انتظامی کنٹرول اور اکثریتی ملکیت کی پیشکش کررہی ہے۔
نجکاری کمیشن خود تسلیم کرتا ہے کہ نجکاری کے بعد کا نظام تجارتی پائیداری اور ضابطہ کارانہ پیش گوئی کے قابل ماحول فراہم کرے۔ یہی بنیادی نکتہ ہے۔ ضابطہ کارانہ استحکام ہر لین دین کے لیے الگ خصوصی رعایت کے طور پر طے نہیں ہونا چاہیے بلکہ خود مارکیٹ کی بنیادی خصوصیت ہونا چاہیے۔
ٹیکس پالیسی بھی تقریباً یہی مسئلہ پیدا کرتی ہے۔ رسمی معیشت میں کام کرنے والے کاروباری اداروں کوہر روز یہ محسوس ہورہا ہے کہ ٹیکس قوانین کی پابندی انہیں سرمایہ کاری کے لیے محفوظ بنانے کے بجائے ٹیکس وصولی کے لیے زیادہ آسان ہدف بنادیتی ہے۔
ریفنڈز میں تاخیر اب بھی برآمد کنندگان کے سرمائے کو روک سکتی ہے۔ ایف بی آر بھی تسلیم کرتا ہے کہ طویل ریفنڈ آڈٹ سے مالیاتی مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں، جبکہ وفاقی ٹیکس محتسب نے حال ہی میں خودکار ریفنڈ نظام میں موجود بنیادی مسائل کی نشاندہی کی ہے۔
محصولات کے بلند اہداف پورے کرنے کے مسلسل دباؤ میں ٹیکس اتھارٹی فطری طور پر انہی ٹیکس دہندگان پر توجہ مرکوز کرے گی جن تک اس کی رسائی آسان ہے۔بدقسمتی سے پاکستان کو انہی کاروباری اداروں کی ضرورت ہے، تاکہ سرمایہ کاری بڑھے اور روزگار کے مواقع پیدا ہوں۔
مختلف شعبوں میں یہ عدم توازن مزید واضح ہوجاتا ہے۔ مالی سال 2027 کے ٹیکس نظام کے تحت اشیا کی برآمدات پر ودہولڈنگ اور ایڈوانس ٹیکس کی شرح برآمدی آمدنی کا 1.25 فیصد مقرر کی گئی ہے، جبکہ اہل آئی ٹی اور آئی ٹی سے متعلق خدمات فراہم کرنے والے برآمد کنندگان کے لیے رعایتی شرح ٹیکس سال 2029 تک 0.25 فیصد برقرار ہے۔ آئی ٹی برآمد کنندگان کو زرمبادلہ اپنے پاس رکھنے اور لین دین کی تکمیل کے حوالے سے بھی زیادہ سہولت دی گئی ہے۔
یہ پالیسیاں انفرادی طور پر قابلِ جواز ہوسکتی ہیں، لیکن مجموعی طور پر یہ واضح کرتی ہیں کہ ریاست جب کسی شعبے کو اہم سمجھتی ہے تو کاروباری رکاوٹیں کم کرنے کی پوری صلاحیت رکھتی ہے۔
نتائج کو نظرانداز کرنا مشکل ہے۔ مالی سال 2026 میں اشیا کی برآمدات 5.93 فیصد کم ہوکر 30.14 ارب ڈالر رہیں، جبکہ خدمات کی برآمدات تقریباً 19 فیصد اضافے سے 10.04 ارب ڈالر اور آئی ٹی برآمدات تقریباً 4.6 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔ دوسری جانب ترسیلات زر بڑھ کر 41.6 ارب ڈالر ہوگئیں۔
ان مختلف رجحانات کی مکمل وجہ صرف ٹیکس اور ضابطہ کار پالیسیوں کو قرار دینا درست نہ ہوگا، عالمی طلب، اجناس کی قیمتیں اور مختلف شعبوں کی مخصوص صورتحال بھی انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔ تاہم پالیسی سازوں کو اس واضح سبق کو بھی نظرانداز نہیں کرنا چاہیے کہ معاشی سرگرمیاں مراعات، کاروباری رکاوٹوں اور اعتماد سے متاثر ہوتی ہیں۔
اصل مسئلہ صرف یہ نہیں کہ پاکستان بہت زیادہ ٹیکس عائد کرتا یا ضرورت سے زیادہ ضوابط نافذ کرتا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ٹیکس اور ضابطہ کار کا بوجھ غیر متوقع اور غیر مساوی طور پر تقسیم ہے۔
ٹیکس قوانین کی پابندی کرنے والے اداروں پر مسلسل بڑھتا ہوا بوجھ ڈالا جارہا ہے جبکہ ملکی معیشت کے بڑے حصے اب بھی مناسب طور پر دستاویزی نہیں ہیں۔ ضابطہ کار کے تحت کام کرنے والے کاروبار کئی برس تک ایسے قواعد و ضوابط طے کرنے میں صرف کرسکتے ہیں جن کے معاشی اثرات بعد میں دوبارہ زیرِ بحث آجاتے ہیں، جبکہ سرمایہ کاروں کو بار بار خصوصی یقین دہانیاں کرائی جاتی ہیں، حالانکہ مضبوط اور پائیدار ادارے اس ضرورت کو ختم کرسکتے تھے۔
یہ نظام استحکام تو پیدا کرسکتا ہے کیونکہ استحکام کے لیے کنٹرول ضروری ہوتا ہے (درآمدات کو کنٹرول کرنا، طلب کو منظم کرنا، ٹیکس بڑھانا، زرمبادلہ کے ذخائر جمع کرنا اور مالیاتی سہولت کے ذرائع کھلے رکھنا) لیکن اقتصادی ترقی کے لیے اس سے زیادہ مشکل چیز درکار ہے۔
نجی سرمایہ کاروں کو یہ یقین ہونا چاہیے کہ آج کی گئی سرمایہ کاری سے پانچ یا دس سال بعد حاصل ہونے والے منافع کی شرائط سرمایہ کاری کے دوران تبدیل نہیں کی جائیں گی۔
معاشی استحکام ضروری شرط تھا اور پاکستان نے بڑی حد تک اسے بحال کرلیا ہے۔ اب اگلے مرحلے کا انحصار منصفانہ نظام، پالیسیوں میں تسلسل اور ایسے اداروں پر ہے جن کے فیصلوں پر سرمایہ کاروں کو اتنا اعتماد ہو کہ ہر بار سرمایہ کاری کے لیے حکومت کی نئی ضمانت درکار نہ ہو۔ جب تک یہ تبدیلی نہیں آتی، پاکستان مستحکم تو رہ سکتا ہے لیکن سرمایہ کاری کے لیے پرکشش نہیں بن پائے گا اور سرمایہ کار اعتماد کرنے کی کسی ٹھوس وجہ کے منتظر رہیں گے۔
کاپی رائٹ : بزنس ریکارڈر 2026