حوثیوں کے بڑھتے حملے، پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کا ہنگامی دفاعی اجلاس طلب
- تینوں ممالک نے مکہ مکرمہ سمیت دیگر شہری مقامات کو نشانہ بنانے والے حملوں کی مذمت کی اور سعودی عرب کے اپنے دفاع کے حق کی حمایت کی۔
سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت تینوں ممالک کے مسلح افواج کے سربراہان کا ہنگامی اجلاس بلانے پر اتفاق کیا ہے، جس میں یمن کے حوثیوں کے حملوں کے تناظر میں سعودی عرب کی معاونت کے طریقوں پر غور کیا جائے گا۔
سعودی وزارت خارجہ کے مطابق سعودی، پاکستانی اور ترک وزرائے خارجہ نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے فریم ورک کے تحت ملاقات کی۔ تینوں ممالک نے مکہ مکرمہ سمیت دیگر شہری مقامات کو نشانہ بنانے والے حملوں کی مذمت کی اور سعودی عرب کے اپنے دفاع کے حق کی حمایت کی۔
بیان کے مطابق وزرائے خارجہ نے تینوں ممالک کے چیفس آف اسٹاف کا فوری اجلاس منعقد کرنے کے انتظامات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت کسی ایک فریق پر حملے کو تمام فریقوں پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب حوثیوں نے سعودی عرب میں متعدد میزائل اور ڈرون حملے کرنے کا دعویٰ کیا، جبکہ سعودی حکام نے حوثی جنگجوؤں کی جانب سے داغے گئے 6 بیلسٹک میزائلوں کو روکنے کا اعلان کیا۔ سعودی عرب نے مکہ مکرمہ، جدہ اور ینبع سمیت مختلف علاقوں کے لیے ہنگامی انتباہات بھی جاری کیے تھے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ایک امریکی ٹی وی انٹرویو میں حوثیوں سے فاصلہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ حوثی اپنے اقدامات کے خود ذمہ دار ہیں۔ ادھر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بتایا کہ تہران نے ثالثوں کے ذریعے امریکا کو ایک تجویز پیش کی ہے، جس کے تحت ایران کی شرائط پوری ہونے پر آبنائے ہرمز دوبارہ کھول دی جائے گی۔
عباس عراقچی کے مطابق تجویز میں لبنان سمیت تمام محاذوں پر 7 روز کے اندر جنگ بندی، ایرانی بندرگاہوں کی امریکی ناکہ بندی ختم کرنے، ایران کے منجمد اثاثے جاری کرنے اور تیل پر عائد پابندیاں ختم کرنے کا مطالبہ شامل ہے۔
دریں اثنا، خطے میں جاری جنگ نے عالمی توانائی کی سپلائی کو متاثر کیا ہے۔ حوثیوں نے بحیرہ احمر کے دہانے پر بحری آمدورفت میں خلل ڈالا، جبکہ ایران نے آبنائے ہرمز میں ٹینکرز کی آمدورفت محدود کردی ہے، جو جنگ سے قبل دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل برآمدات کا راستہ تھا۔