✕
پاکستان

پی ٹی آئی اسلام آباد مارچ کے فیصلے پر نظرثانی کرے، محسن نقوی

  • اب بھی وقت ہے، اس صورتحال میں داخل نہ ہوں اور ایسے بند راستے پر نہ جائیں جہاں سے واپسی کا کوئی راستہ نہ ہو، وزیر داخلہ
شائع اپ ڈیٹ

وزیر داخلہ محسن نقوی نے پیر کے روز پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو اسلام آباد کی جانب اپنے طے شدہ مارچ کے حوالے سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت اسلام آباد ہائی کورٹ کے احکامات پر عملدرآمد یقینی بنائے گی اور وفاقی دارالحکومت کے گھیراؤ کی اجازت نہیں دے گی۔

لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ اسلام آباد مارچ کی تیاریاں جاری ہیں اور انہوں نے مظاہرین پر زور دیا کہ وہ اپنے فیصلے پر نظرثانی کریں۔

انہوں نے کہا کہ اب بھی وقت ہے، اس صورتحال میں داخل نہ ہوں اور ایسے بند راستے پر نہ جائیں جہاں سے واپسی کا کوئی راستہ نہ ہو۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ ایسے احتجاج سے معیشت، عوام اور خود مظاہرین کو نقصان پہنچے گا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ پی ٹی آئی کی قیادت کی اکثریت لانگ مارچ آگے بڑھانے کے حق میں نہیں، جبکہ ایسے احتجاج سے کچھ حاصل نہیں کیا جا سکتا۔

محسن نقوی نے کہا کہ حکومت اسلام آباد ہائی کورٹ کے احکامات پر مکمل عملدرآمد کرے گی اور بار بار ہونے والے احتجاج کے مستقل حل کے لیے اقدامات کرے گی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ سیاسی جماعتیں عوامی سڑکوں، شاہراہوں یا سرکاری عمارتوں پر قبضہ نہیں کر سکتیں اور نہ ہی شہریوں کی آمدورفت میں رکاوٹ ڈال سکتی ہیں۔

خیبر پختونخوا کی سکیورٹی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ کوہاٹ کی ایک مسجد میں حالیہ دھماکے نے صوبے کو درپیش سکیورٹی چیلنجز کو نمایاں کیا ہے۔

انہوں نے موجودہ سکیورٹی صورتحال کے دوران احتجاج کرنے کے فیصلے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس وقت توجہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں پر مرکوز ہونی چاہیے۔

پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کی صحت سے متعلق سوالات کا جواب دیتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ اگر طبی معائنے کی درخواست کی گئی تھی تو گزشتہ رات اسپتال میں ان کا معائنہ پہلے ہی کیا جا چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان کا علاج قانون کے مطابق کیا جائے گا اور یہ صرف ان کی ذاتی خواہشات کی بنیاد پر نہیں ہوگا۔

محسن نقوی نے یہ بھی کہا کہ نئے صوبوں کے قیام سے متعلق عمل آگے بڑھ رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر اللہ نے چاہا اور عوام نے چاہا تو صوبے ضرور بنائے جائیں گے، اور مزید کہا کہ اس معاملے کو تیزی سے آگے بڑھایا جا رہا ہے۔

پی ٹی آئی کا حکومتی اقدامات مسترد کرنے کا اعلان

دریں اثنا پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے پارٹی کارکنوں اور ارکان پارلیمنٹ کی گرفتاریوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات سے سیاسی کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگا۔

انہوں نے اقتدار میں موجود افراد پر زور دیا کہ وہ صورتحال پر نظرثانی کریں اور کہا کہ ارکان پارلیمنٹ اور ان کے اہل خانہ کی گرفتاریوں سے کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔

انہوں نے یہ بیان پی ٹی آئی رہنماؤں اور عمران خان کے اہل خانہ کی گرفتاریوں کی اطلاعات کے بعد دیا۔

گوہر علی خان نے کہا کہ ملک کو سیاسی محاذ آرائی میں اضافے کے بجائے اسے ختم کرنے کی ضرورت ہے اور مؤقف اختیار کیا کہ پی ٹی آئی انصاف کے لیے اپنی آواز بلند کر رہی ہے۔

عمران خان کی بہن علیمہ خان کو پارٹی کے 27 ستمبر کو ہونے والے مجوزہ احتجاج سے قبل مینٹیننس آف پبلک آرڈر (ایم پی او) قانون کے تحت حراست میں لیا گیا۔ پیر کے روز سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق عمران خان کی دو دیگر بہنوں، عظمٰی خان اور نورین نیازی کو بھی 30 روز کے لیے حراست میں لیا گیا ہے۔

پی ٹی آئی نے کہا ہے کہ اس کا مجوزہ احتجاج پُرامن ہوگا اور زیرِ حراست افراد کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔