✕
پاکستان

اسلام آباد کی جانب مارچ کرنے والوں کو ہر ممکن طریقے سے روکا جائے گا، محسن نقوی

  • حکومت اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی آگے بڑھائے گی، وفاقی وزیر داخلہ
شائع اپ ڈیٹ

وزیر داخلہ محسن نقوی نے جمعہ کو کہا ہے کہ حکومت وفاقی دارالحکومت کی جانب مارچ کرنے والوں کو ’’ہر ممکن طریقے سے‘‘ روکے گی جبکہ اسلام آباد ہائیکورٹ (آئی ایچ سی) کے حالیہ حکم کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی دائر کرنے کا انتباہ بھی دیا۔

اسلام آباد میں دیگر حکام کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ حکومت کسی کو ’’قانون ہاتھ میں لینے اور وفاقی دارالحکومت کو بند کرنے‘‘ کی اجازت نہیں دے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’اس بار ہم اپنے اہلکاروں کو قواعد و ضوابط کے تحت کارروائی کے حوالے سے واضح ہدایات دے رہے ہیں۔‘‘

ان کا یہ بیان پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے 27 ستمبر کو ملک گیر احتجاج کی کال کے ردعمل میں سامنے آیا ہے۔ پی ٹی آئی کا مطالبہ پارٹی بانی عمران خان کی رہائی اور اس کے بقول آئین کی بالادستی یقینی بنانا ہے۔

پریس کانفرنس خیبر پختونخوا کے ضلع کوہاٹ میں آج ہی پولیس لائنز میں ہونے والے دہشت گرد حملے کے بعد کی گئی، جہاں دھماکا خیز مواد سے بھری گاڑی پولیس کمپاؤنڈ کے اندر مسجد کے قریب دھماکے سے اڑا دی گئی، جس کے بعد مسلح حملہ آوروں نے عمارت میں داخل ہونے کی کوشش کی۔

حکام کے مطابق حملے میں 7 حملہ آور شریک تھے، جن میں سے 6 کو کلیئرنس آپریشن کے دوران ہلاک کر دیا گیا۔ حملے میں 5 پولیس اہلکاروں سمیت 16 افراد جاں بحق جبکہ 50 سے زائد زخمی ہوئے۔

حملے کا حوالہ دیتے ہوئے محسن نقوی نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا، ’’آپ اپنے علاقے میں ضرور احتجاج کریں، لیکن کسی صوبے پر حملہ قابل قبول نہیں۔‘‘

انہوں نے کہا کہ صوبے کو اس کے بجائے دہشت گردی کے خلاف جنگ پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔

انہوں نے کہا، ’’ایک ہاتھ میں شہدا کے تابوت اٹھانا اور دوسرے ہاتھ سے دھرنوں کی تیاری کرنا آپ کو زیب نہیں دیتا۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ایسے واقعات کے بعد صوبائی رہنماؤں کو طویل مارچ کی کال دینا مناسب نہیں، جب انہیں اپنے ہی جاں بحق افراد کی تدفین بھی کرنا ہو۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا اور ان کی کابینہ کو طویل مارچ منظم کرنے کے لیے جتنی توانائی صرف کی جا رہی ہے، اتنی ہی توانائی دہشت گردی کے خاتمے کے لیے استعمال کرنی چاہیے۔

محسن نقوی نے اپوزیشن رہنماؤں پر بھی زور دیا کہ وہ احتجاج کے لیے ’’لوگوں کو متحرک کرنے، فنڈز جمع کرنے اور ٹرانسپورٹ کا انتظام کرنے‘‘ سے گریز کریں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ’’اگر ایک بھی جان گئی تو ذمہ دار وہ منتظمین ہوں گے جو اس گروہ کو اکٹھا کر رہے ہیں۔‘‘

انہوں نے کہا کہ اس وقت سیاسی محاذ آرائی معیشت اور معاشرے دونوں کے لیے نقصان دہ ہوگی۔

دریں اثنا، خیبر پختونخوا کے انسپکٹر جنرل پولیس ذوالفقار حمید نے کہا کہ کوہاٹ میں کلیئرنس آپریشن ’’فتنۃ الخوارج کے مکمل خاتمے‘‘ تک جاری رہے گا، جبکہ انہوں نے کہا کہ پولیس کا حوصلہ بلند ہے۔

صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ ’’غیر ملکی سرپرستی میں سرگرم دہشت گردوں‘‘ کا مکمل خاتمہ قومی سلامتی کے لیے ناگزیر ہے، جبکہ محسن نقوی نے کہا کہ حملہ آوروں کی ’’بزدلانہ کارروائیاں قوم کے عزم کو کمزور نہیں کر سکتیں۔‘‘