وزیراعظم کا ایندھن کے استعمال اور سرکاری اخراجات میں کٹوتی کا اعلان
- قربانی کا آغاز حکومت اور اشرافیہ سے ہونا چاہیے، شہباز شریف
وزیراعظم شہباز شریف نے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں اور مہنگائی میں اضافے کے پیش نظر سرکاری اخراجات اور ایندھن کے استعمال میں بڑے پیمانے پر کمی کی ہدایت کرتے ہوئے ملک گیر کفایت شعاری مہم شروع کردی۔
وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس میں مالی سال 2026-27 کے نان ای آر ای بجٹ میں 5 فیصد کمی کی بھی منظوری دی گئی۔ اجلاس میں نئی سرکاری گاڑیوں کی خریداری پر پابندی اور آئی ٹی آلات کے علاوہ پائیدار اشیا کی خریداری منجمد کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ قربانی کا آغاز حکومت اور اشرافیہ سے ہونا چاہیے۔ انہوں نے بتایا کہ کم اور متوسط آمدنی والے طبقات کے لیے پہلے ہی فی لیٹر 100 روپے کا ایندھن ریلیف متعارف کرایا جاچکا ہے، جس سے موٹر سائیکلوں، رکشوں اور 800 سی سی تک گاڑیوں کے مالکان مستفید ہوں گے۔
نئے کفایت شعاری منصوبے کے تحت سرکاری گاڑیوں کے لیے ایندھن کی مختص مقدار تین ماہ کے لیے 50 فیصد کم کردی گئی ہے۔ ایمبولینس، فائر بریگیڈ، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور دیگر ضروری خدمات کو اس پابندی سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے، تاہم انتظامی اور غیر فعال گاڑیاں اس استثنیٰ میں شامل نہیں ہوں گی۔
تین ماہ کے لیے سرکاری دوروں اور بیرون ملک سفر پر بھی پابندی ہوگی۔ ناگزیر غیر ملکی سفر کی صورت میں وزرا، مشیران اور دیگر حکام اکانومی کلاس میں سفر کریں گے۔ سرکاری امور کے لیے ویڈیو اور ٹیلی کانفرنسنگ کا استعمال بڑھانے جبکہ غیر ضروری سرکاری عشائیوں پر پابندی کا فیصلہ بھی کیا گیا۔
علاوہ ازیں دکانیں، مارکیٹیں، مالز اور بازار رات 9 بجے، شادی ہالز رات 10 بجے جبکہ ریسٹورنٹس، کیفے اور پھل و سبزی کی دکانیں رات 11 بجے بند ہوں گی۔ فارمیسیز، اسپتال، بیکریاں، پیٹرول پمپس، الیکٹرک گاڑیوں کے چارجنگ پوائنٹس، جم، کھیلوں کی سہولیات، آئی ٹی کمپنیوں اور کال سینٹرز کو پابندی سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔
دریں اثنا وزیراعظم کی ہدایت پر ایندھن سبسڈی اسکیم کے لیے رجسٹریشن فیس بھی ختم کردی گئی ہے۔ موٹر سائیکل، رکشہ اور 800 سی سی تک گاڑیوں کے مالکان مفت ایس ایم ایس کے ذریعے 9771 پر رجسٹریشن کراسکتے ہیں۔ یہ سہولت ملک بھر کے علاوہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں بھی دستیاب ہوگی۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026