پٹرولیم ڈویژن کی جانب سے75 ارب روپے کی فیول ریلیف اسکیم تجویز
- پٹرولیم کی بلند قیمتوں اور اس کے نتیجے میں مہنگائی میں اضافے سے خصوصاً کم آمدنی والے طبقے کو شدید معاشی دھچکا لگا ہے، پٹرولیم ڈویژن
پٹرولیم ڈویژن نے خلیجی بحران کے باعث پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں اضافے کے پیش نظر 11.8 ملین صارفین کو 3 ماہ کے لیے فی لیٹر 100 روپے تک ریلیف دینے کے لیے 75 ارب روپے کے فیول ریلیف اسکیم کی تجویز دی ہے۔ اسکیم کے تحت موٹر سائیکل، رکشہ اور 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے صارفین کو ہدف بنایا جائے گا۔
کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کو پیش کی گئی سمری کے مطابق موٹر سائیکل اور تین پہیوں والی گاڑیوں کے صارفین کو ماہانہ زیادہ سے زیادہ 2 ہزار روپے جبکہ 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے صارفین کو 3 ہزار روپے تک ریلیف دیا جائے گا۔ موٹر سائیکل اور رکشہ صارفین کو ماہانہ 20 لیٹر جبکہ چھوٹی گاڑیوں کے صارفین کو 30 لیٹر پٹرول پر ریلیف ملے گا۔
پٹرولیم ڈویژن کے مطابق اسکیم سے تقریباً ایک کروڑ موٹر سائیکل صارفین، 8 لاکھ تین پہیوں والی گاڑیوں کے صارفین اور 10 لاکھ چھوٹی گاڑیوں کے صارفین مستفید ہوں گے۔ اسکیم کا متوقع ماہانہ مالی اثر 24.6 ارب روپے ہے۔
سمری کے مطابق یکم جولائی سے 11 ستمبر 2026 تک پٹرول کی قیمت 72 روپے یا 24 فیصد جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 87 روپے یا 28 فیصد بڑھ چکی ہے۔ صرف 11 ستمبر کو دونوں مصنوعات کی قیمتوں میں 11.13 روپے فی لیٹر اضافہ ہوا۔
پٹرول کی قیمت یکم مارچ کو 266 روپے سے بڑھ کر یکم جولائی کو 299 روپے اور 11 ستمبر کو 371 روپے فی لیٹر ہوگئی، یوں مجموعی اضافہ 105 روپے ریکارڈ کیا گیا۔ اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل 281 روپے سے بڑھ کر 398 روپے فی لیٹر ہوگیا، جس میں 117 روپے کا اضافہ ہوا۔
پٹرولیم ڈویژن نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی بلند قیمتوں اور اس کے نتیجے میں مہنگائی میں اضافے سے خصوصاً کم آمدنی والے طبقے کو شدید معاشی دھچکا لگا ہے۔ ڈویژن کے مطابق عوامی دباؤ اور بے چینی کے پیش نظر پالیسی اقدامات ضروری ہیں۔
مجوزہ اسکیم میں گاڑی کے مالک کے بجائے صارف کو ریلیف دینے کی تجویز ہے اور ہر صارف صرف ایک گاڑی کے لیے اہل ہوگا۔ شناختی کارڈ نمبر، گاڑی کا رجسٹریشن نمبر اور موبائل فون نمبر کے ذریعے متعدد دعووں کی روک تھام کی جائے گی۔
ڈیجیٹل فیول پاس سسٹم
اسکیم پر عملدرآمد کے لیے ڈیجیٹل فیول پاس سسٹم متعارف کرانے کی تجویز ہے، جس میں رجسٹریشن، ٹوکن کا اجرا، تصدیق اور ادائیگی سمیت دیگر مراحل شامل ہوں گے۔
حکومت نے اسکیم کے لیے پٹرولیم ڈویژن کو 75 ارب روپے جبکہ فیول پاس سسٹم کو فعال کرنے کے لیے وزارت آئی ٹی و ٹیلی کام کو مزید 1.73 ارب روپے کا تکنیکی ضمنی گرانٹ دینے کی تجویز دی ہے۔ تجاویز منظوری کے لیے ای سی سی کو پیش کردی گئی ہیں۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026