ایران کا جزیرہ خارگ مکمل طور پر تباہ کیا جا رہا ہے، ٹرمپ
- جزیرہ خارگ ایران کی تیل کی برآمدات کے لیے انتہائی اہم ہے
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے اہم توانائی مرکز جزیرہ خارگ کو تباہ کیا جا رہا ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی افواج نے ایران کے ایک دوسرے جزیرے لارک پر دو راکٹ لانچرز کو نشانہ بنایا، جو جولائی کے اواخر کے بعد ایران پر امریکا کے پہلے معلوم حملے ہیں۔
جزیرہ خارگ ایران کی تیل کی برآمدات کے لیے انتہائی اہم ہے اور 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملوں سے شروع ہونے والی جنگ سے قبل ایران کی تقریباً 90 فیصد تیل برآمدات اسی جزیرے سے ہینڈل ہوتی تھیں۔ خارک پر حملے سے ایران کی توانائی تجارت شدید متاثر ہونے اور اس کی معیشت پر مزید دباؤ پڑنے کا خدشہ ہے۔
ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ جزیرہ خارگ تباہ کیا جا رہا ہے، تاہم انہوں نے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ وائٹ ہاؤس اور امریکی محکمہ دفاع نے اس حوالے سے فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ رائٹرز کے مطابق ٹرمپ کے بیان کے ساتھ جاری کی گئی دھماکوں کی ویڈیو مصنوعی طور پر تیار کی گئی تھی۔
امریکی حکام کے مطابق امریکی افواج نے آبنائے ہرمز میں لارک جزیرے پر موجود دو ایرانی لانچرز کو نشانہ بنایا۔ ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ ایرانی پاسداران انقلاب کی فورسز آبنائے ہرمز میں سمندری بارودی سرنگیں نصب کرنے والے راکٹ داغنے کی تیاری کر رہی تھیں۔
ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے اردن میں موجود دو امریکی اڈوں پر بیلسٹک میزائل داغے۔ اردن کی سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق ملکی افواج نے اس کی فضائی حدود میں داخل ہونے والے 8 میزائلوں کو روک لیا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں فوری خطرہ بننے والی ایرانی پاسداران انقلاب کی بارودی سرنگیں بچھانے والی فورسز کے خلاف محدود اور انتہائی درست کارروائی کی گئی۔
دریں اثنا، امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا ہے کہ ایران پر نئی ثانوی پابندیاں ہر ہفتے عائد کیے جانے کا امکان ہے، جن کا ابتدائی ہدف بینک ہوں گے۔
آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کی تعداد بھی ہفتے کے اختتام پر کم ہو کر روزانہ تقریباً 5 رہ گئی۔ جنگ سے قبل اس آبی گزرگاہ سے دنیا کے تقریباً 20 فیصد حصے کا خام تیل اور ایل این جی گزرتی تھی۔