✕
مارکٹس

ایران جنگ میں تعطل، تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں؛ مزید اضافے کی گنجائش محدود

  • برینٹ خام تیل کے فیوچرز 34 سینٹ یا 0.38 فیصد اضافے سے 88.86 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئے
شائع اپ ڈیٹ

سفارتی کوششوں میں پیش رفت نہ ہونے کے باعث عالمی منڈی میں پیر کو تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، تاہم رسد میں کسی بڑی رکاوٹ کے نہ ہونے سے قیمتوں میں اضافے کی حد محدود رہی۔

برینٹ خام تیل کے فیوچرز 34 سینٹ یا 0.38 فیصد اضافے سے 1202 جی ایم ٹی تک 88.86 ڈالر فی بیرل ہوگئے، جبکہ کاروباری سیشن کے دوران یہ 89.68 ڈالر کی بلند ترین سطح تک بھی پہنچے۔ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل کے فیوچرز 4 سینٹ یا 0.05 فیصد اضافے سے 82.44 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئے۔

گزشتہ ہفتے آبنائے ہرمز میں ابوظبی نیشنل آئل کمپنی (ایڈنوک) کے زیرِانتظام ٹینکروں اور سعودی آرامکو کی ایک ریفائنری پر حملوں کے بعد دونوں معاہدوں کی قیمتوں میں 5 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا تھا۔

تاہم ایس ای بی ریسرچ کے ماہر بیارنے شیلڈروپ نے کہا کہ قیمتوں میں نمایاں اضافہ اس وقت تک متوقع نہیں جب تک آبنائے ہرمز سے رات کے اوقات میں جاری خام تیل کی ترسیل رک نہ جائے اور/یا آبنائے باب المندب بند نہ ہوجائے۔

شیلڈروپ کے مطابق فی الحال تیل کی قیمتیں 90 ڈالر کے قریب رہیں گی کیونکہ ٹریڈرز ایک طرف رسد میں مزید بڑی رکاوٹ اور قلت کے خطرے جبکہ دوسری جانب ایسے ممکنہ حل کے امکانات کا جائزہ لے رہے ہیں جس کے نتیجے میں آبنائے ہرمز دوبارہ کھول دی جائے اور تیل کی قیمتیں تیزی سے گر جائیں۔

ہفتے کے اختتام پر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ ایران نے امریکا کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ نہیں کیا، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی عوام پر زور دیا کہ وہ تنازع جاری رہنے کے دوران پٹرول کی قدرے بلند قیمتیں برداشت کرنے کے لیے تیار رہیں۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ عمان کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، تاہم معاملے کی پیچیدگی، متعدد فریقوں کی شمولیت اور اس عمل کو ناکام بنانے کی کوشش کرنے والے ممالک کے باعث بات چیت میں خاصا وقت لگ رہا ہے۔

ٹریڈنگ پلیٹ فارم ناگا ڈاٹ کام کے مارکیٹ تجزیہ کار فرینک وال بام نے کہا، ’’آبنائے ہرمز سے بحری آمدورفت بدستور محدود ہے اور مذاکرات تعطل کا شکار ہیں، اس لیے فی الحال قیمتوں میں مزید کمی کے امکانات محدود ہیں۔‘‘

انہوں نے کہا کہ ’’اگر کوئی نیا محرک سامنے نہیں آتا تو تیل کی قیمتیں موجودہ سطح کے آس پاس ہی اتار چڑھاؤ کا شکار رہ سکتی ہیں۔‘‘

اعداد و شمار سے ظاہر ہوا کہ ٹینکروں پر حملوں کے بعد ہفتے کے اختتام پر آبنائے ہرمز سے بحری آمدورفت میں کمی آئی۔ جہازوں کی نگرانی کرنے والے ادارے کیپلر کے مطابق ہفتے کے روز صرف پانچ کموڈیٹی جہاز آبنائے سے گزرے، جبکہ اتوار کو کوئی جہاز ریکارڈ نہیں ہوا۔ اس کے مقابلے میں گزشتہ ہفتے کے اختتام پر 31 جہاز آبنائے سے گزرے تھے۔

فروری کے اواخر میں ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملے شروع ہونے سے قبل دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ خام تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) آبنائے ہرمز کے ذریعے منتقل ہوتا تھا۔

دریں اثنا، تجارتی ذرائع نے پیر کو بتایا کہ ابوظبی نیشنل آئل کمپنی (ایڈنوک) نے اپنی حالیہ ٹینڈر میں ایشیائی ریفائنریوں کو کم از کم 1 کروڑ 40 لاکھ بیرل اسپاٹ خام تیل پریمیم پر فروخت کیا ہے۔

دو باخبر ذرائع نے پیر کو بتایا کہ سعودی آرامکو بعض ایشیائی ریفائنریوں کو آبنائے ہرمز سے باہر دستیاب خام تیل کی پیشکش بھی کر رہی ہے۔