دنیا

امریکی فوج کا پاسداران انقلاب کے درجنوں اہداف کو نشانہ بنانے کا دعوی

  • امریکی حملوں میں جزیرہ قشم پر 3 افراد جاں بحق، ایرانی سرکاری میڈیا
شائع اپ ڈیٹ

امریکی فوج نے کہا ہے کہ اس نے ایران میں اسلامی انقلابی گارڈ (آئی آر جی سی) کے درجنوں اہداف کو نشانہ بنایا جن میں فوجی کمانڈ سینٹرز اور ڈرون تنصیبات شامل ہیں۔امریکی فوج کے مطابق یہ دو گھنٹے تک جاری رہنے والی کارروائی تہران کی جانب سے مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکی افواج پر بیلسٹک میزائل حملوں کے بعد شروع کی گئی۔

سینٹرل کمانڈ نے ایک بیان میں کہا کہ ان حملوں کا مقصد امریکی افواج، تجارتی جہاز رانی اور خلیج کے ہمسایہ ملکوں کو ایران اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے لاحق خطرات کو مزید کم کرنا ہے۔

ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق امریکی حملوں میں جزیرہ قشم پر 3 افراد جاں بحق ہوئے۔

اردن کی مسلح افواج نے جمعرات کو کہا کہ انہوں نے ملک کو نشانہ بنانے کی ایرانی کوشش ناکام بنا دی اور پانچ میزائلوں کو روک لیا۔

امریکی حملے اس وقت کیے گئے جب ایران نے بدھ کو تصدیق کی تھی کہ اس نے اردن میں موجود امریکی فوجیوں پر بیلسٹک میزائل داغے تھے۔

سینٹ کام نے کہا کہ تمام میزائلوں کو روک لیا گیا۔

حالیہ دنوں میں اردن میں موجود امریکی اڈے ایران کے اہم اہداف بن گئے ہیں۔

قبل ازیں بدھ کو امریکی اور سعودی افواج نے مشرقی عراق میں ایران نواز گروہوں کے خلاف حملے کیے تھے۔ یہ کارروائی عراق سے سعودی عرب کے تیل تنصیبات پر کیے گئے ڈرون حملوں کے جواب میں کی گئی۔

مشترکہ حملہ اس لحاظ سے اہم تھا کہ یہ پہلی مرتبہ ہے جب ریاض نے واشنگٹن کے ساتھ مل کر حملوں میں باضابطہ طور پر شرکت کی۔

مصر میں برطانوی میری ٹائم سیکیورٹی کمپنی ایمبری کے ابتدائی جائزے کے مطابق بدھ کو بحیرۂ روم کی مصری بندرگاہ دمیاط پر امریکی ملکیت والے گیس اسٹوریج ٹینکر کو ڈرون نے نشانہ بنایا۔

مصر کی وزارت پٹرولیم کے ایک بیان میں بندرگاہ پر آگ لگنے کی تصدیق کی گئی تاہم ڈرون حملے کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔ فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ حملے کا ذمہ دار کون تھا۔

عراق اور مصر میں حالیہ حملوں سے خدشہ پیدا ہوگیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے مزید ممالک اس تنازع میں شامل ہوسکتے ہیں، خاص طور پر اس کے بعد جب یمن میں ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں نے گزشتہ ہفتے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان کیا تھا۔

یہ جنگ فروری میں شروع ہوئی تھی جب امریکا اور اسرائیل نے ایران میں بمباری کی مہم شروع کی تھی۔ امریکی صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ یہ کارروائی صرف چند ہفتوں تک جاری رہے گی۔

جون میں طے پانے والا عارضی جنگ بندی معاہدہ آبنائے ہرمز پر دوبارہ شروع ہونے والی لڑائی کے باعث ناکام ہوگیا، یہ ایک اہم آبی گزرگاہ ہے جس پر ایران کا کہنا ہے کہ اب اس کا کنٹرول ہے۔

ٹرمپ نے کہا کہ امریکی افواج پر میزائل حملوں کے جواب میں وہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کریں گے، تاہم واشنگٹن اب بھی امن معاہدے کے لیے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ اس تنازع کو ختم کیا جا سکے۔

آبنائے ہرمز امن مذاکرات میں سب سے بڑی رکاوٹ اور اس تنازع میں بار بار کشیدگی کا مرکز بن چکی ہے۔

ایران نے بدھ کو کہا کہ اس نے آبنائے ہرمز سے غیر مجاز راستے کے ذریعے گزرنے کی کوشش کرنے والے تین ٹینکروں کو نشانہ بنایا اور دعویٰ کیا کہ وہ اس آبنائے کو کنٹرول کرتا ہے۔

خلیجی ذرائع اور ایک مغربی سفارت کار نے منگل کو رائٹرز کو بتایا کہ عمان نے خلیجی ممالک کی حمایت سے ایران کے سامنے آبنائے ہرمز کے انتظام کا منصوبہ پیش کیا جس میں اس آبی گزرگاہ کے استعمال پر رضاکارانہ فیس وصول کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔

تاہم ایران نے عمان کی اس تجویز کو مسترد کردیا۔

بدھ کو تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا جو پانچ ماہ سے جاری جنگ کے دوران تیزی ترین اضافوں میں سے ایک تھا۔

برینٹ خام تیل کے فیوچر نرخ 8 فیصد سے زائد بڑھ گئے اور قیمتیں 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئیں۔ یہ اضافہ رواں ہفتے کے آغاز میں ہونے والی شدید کمی کے بڑے حصے کو واپس لے آیا جب ٹرمپ نے اچانک امریکی حملے روک دیے تھے۔

جمعرات کو تیل کی قیمتوں میں معمولی کمی ریکارڈ کی گئی۔