مشرق وسطیٰ میں امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ پیر کو مزید شدت اختیار کر گئی، جہاں امریکا نے ایران پر مسلسل نویں رات بھی نئے حملے کیے، جبکہ کویت نے ایرانی ڈرون حملے ناکام بنانے اور بحرین نے فضائی خطرے کے سائرن بجانے کی تصدیق کی ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق تازہ حملوں کا مقصد ایران کی ان فوجی صلاحیتوں کو نشانہ بنانا تھا جو آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کے خلاف استعمال کی جا رہی ہیں۔ دوسری جانب ایران کے پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے شام کے التنف علاقے میں دشمن کے خصوصی آپریشنز کے کمانڈ سینٹر پر اچانک حملہ کیا ہے۔

کویت کی فوج نے کہا کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے ایرانی جارحیت کے بعد متعدد ڈرون حملوں کو فضا ہی میں تباہ کر دیا، جبکہ بحرین کی وزارت داخلہ نے شہریوں کو فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت جاری کی۔

جنگ کے خاتمے کے لیے ہونے والا ابتدائی معاہدہ آبنائے ہرمز پر تعطل کے باعث ناکام ہو چکا ہے۔ ایران جنگ کے آغاز سے اس اہم آبی گزرگاہ پر دباؤ برقرار رکھے ہوئے ہے، جہاں سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل کی تجارت ہوتی ہے، جبکہ امریکا نے ایرانی بندرگاہوں پر بحری ناکہ بندی سخت کر دی ہے۔

ایران نے اتوار کو دعویٰ کیا تھا کہ اس نے کویت میں موجود دو امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا، جبکہ اردن نے بھی ایرانی میزائل حملے ناکام بنانے کی اطلاع دی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ تازہ امریکی حملوں میں ایران کو ایک بار پھر سخت نقصان پہنچایا گیا۔ امریکی حکام کے مطابق حالیہ جھڑپوں میں مزید تین امریکی فوجی ہلاک اور ایک لاپتا ہوگیا ہے، جس کے بعد 28 فروری سے جاری جنگ میں ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں کی تعداد 17 ہو گئی ہے۔

دوسری جانب ایران کی وزارت صحت کے مطابق حالیہ لڑائی میں کم از کم 50 افراد ہلاک اور 500 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔

ایرانی جوہری توانائی تنظیم نے الزام عائد کیا ہے کہ امریکا نے ملک کے جنوب مغرب میں زیر تعمیر دارخوین جوہری بجلی گھر کو بھی نشانہ بنایا، تاہم اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے (آئی اے ای اے) نے کہا ہے کہ وہ اس اطلاع کا جائزہ لے رہا ہے اور تمام جوہری تنصیبات کے اطراف فوجی تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔