مارکٹس

امریکا ایران کشیدگی کے باعث خام تیل کی قیمتیں ایک ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں

  • برینٹ خام تیل کے سودے 3.87 ڈالر یا 4.59 فیصد اضافے کے بعد 88.10 ڈالر فی بیرل پر بند ہوئے
شائع اپ ڈیٹ

امریکا اور ایران کے درمیان خلیجی خطے میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں جمعہ کو 4 فیصد سے زائد بڑھ کر ایک ماہ سے زیادہ عرصے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔ آبنائے ہرمز میں محدود بحری آمدورفت اور بحیرہ احمر کی ممکنہ بندش کے خدشات نے عالمی توانائی منڈی میں بے چینی پیدا کر دی۔

برینٹ خام تیل کے سودے 3.87 ڈالر یا 4.59 فیصد اضافے کے بعد 88.10 ڈالر فی بیرل پر بند ہوئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل 3.54 ڈالر یا 4.48 فیصد اضافے سے 82.49 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا۔ دونوں عالمی معیار جون کے وسط کے بعد بلند ترین سطح پر بند ہوئے۔

ہفتہ وار بنیاد پر برینٹ اور ڈبلیو ٹی آئی دونوں میں تقریباً 16 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ برینٹ مسلسل تیسرے جبکہ ڈبلیو ٹی آئی دوسرے ہفتے بھی اضافے کے ساتھ بند ہوا۔

جمعہ کو امریکا نے ایران میں پلوں اور ایک ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا، جبکہ ایران نے کویت میں بجلی اور ڈی سیلینیشن پلانٹ پر حملہ کیا۔ تہران نے دعویٰ کیا کہ اس نے شام سمیت مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی تنصیبات پر مزید حملے کیے ہیں، جو امریکی حملوں کے جواب میں کیے گئے۔

لیپو آئل ایسوسی ایٹس کے صدر اینڈریو لیپو کے مطابق اگر مزید آئل ٹینکر حملوں کی زد میں آئے تو جہاز مالکان خلیج فارس میں داخل ہونے سے گریز کریں گے، جس سے تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔

آبنائے ہرمز سے عالمی تیل کی تقریباً 20 فیصد رسد گزرتی تھی، تاہم جنگ کے بعد وہاں سے تیل کی ترسیل نمایاں طور پر متاثر ہوئی ہے۔ ایران نے حوثیوں پر بھی زور دیا ہے کہ اگر امریکا ایرانی توانائی کے انفراسٹرکچر پر حملے جاری رکھتا ہے تو بحیرہ احمر کا راستہ بند کردیا جائے۔

دوسری جانب سعودی عرب نے اپنی یومیہ خام تیل برآمدات کا 70 فیصد سے زائد حصہ آبنائے ہرمز کے بجائے ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کے ذریعے بحیرہ احمر کی بندرگاہ ینبع منتقل کردیا ہے۔ حالیہ ہفتوں میں ینبع سے خام تیل کی ترسیل اوسطاً 40 لاکھ بیرل یومیہ رہی، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے تقریباً 9 لاکھ 73 ہزار بیرل یومیہ کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔