آیت اللہ خامنہ ای کی نمازِ جنازہ میں تین بیٹے شریک، جانشین مجتبیٰ خامنہ ای غیر حاضر
- ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق نمازِ جنازہ تہران کے وسیع مذہبی کمپلیکس امام خمینی گرینڈ مصلیٰ کے صحن میں ادا کی گئی
ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ اتوار کو تہران میں ادا کی گئی، جس میں ان کے تین بیٹوں مصطفیٰ، میثم اور مسعود خامنہ ای نے اپنے والد اور خاندان کے دیگر چار افراد کے تابوتوں کے عقب میں نماز ادا کی، تاہم نئے سپریم لیڈر اور جانشین مجتبیٰ خامنہ ای تقریب میں نظر نہیں آئے۔
ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق نمازِ جنازہ تہران کے وسیع مذہبی کمپلیکس امام خمینی گرینڈ مصلیٰ کے صحن میں ادا کی گئی، جہاں آیت اللہ خامنہ ای کے علاوہ ان کی بیٹی، داماد، بہو اور 14 ماہ کی پوتی کے تابوت بھی رکھے گئے تھے۔
ایران میں مقتول سپریم لیڈر کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے ایک ہفتے پر مشتمل عوامی سوگ اور جنازے کی تقریبات جاری ہیں۔ ان کی میت کو عراق کے مقدس شیعہ مقامات پر بھی لے جایا جائے گا۔
رپورٹس کے مطابق 28 فروری کو ایران پر اسرائیل اور امریکا کے حملوں میں آیت اللہ خامنہ ای شہید ہوئے تھے، جبکہ ان کے جانشین مجتبیٰ خامنہ ای بھی اسی حملے میں زخمی ہوئے۔ ذرائع کے مطابق ان کے چہرے پر شدید زخم آئے اور ایک یا دونوں ٹانگیں بھی متاثر ہوئیں، تاہم اب تک ان کی کوئی عوامی تصویر یا ویڈیو جاری نہیں کی گئی۔
نمازِ جنازہ میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان، پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اس موقع پر مسعود خامنہ ای کو آبدیدہ دیکھا گیا، جو اپنے آنسو رومال سے صاف کرتے رہے۔
ہزاروں ایرانی شہری، جن میں خواتین اور بزرگ بھی شامل تھے، نمازِ جنازہ اور آخری دیدار کے لیے مصلیٰ پہنچے۔ بعض افراد سینہ کوبی کرتے اور اشکبار آنکھوں کے ساتھ مقتول رہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرتے رہے۔ ایرانی میٹرو حکام کے مطابق ہفتہ کی رات سے اتوار کی صبح تک تقریباً 70 لاکھ سفریں ریکارڈ کی گئیں۔
حکام کے مطابق پیر کو تہران میں بڑے جلوس کے بعد میت کو قم منتقل کیا جائے گا، پھر بدھ کو عراق کے مقدس شہروں نجف اور کربلا لے جایا جائے گا، جبکہ جمعرات کو مشہد میں آخری جلوس کے بعد تدفین عمل میں آئے گی۔