دنیا

آیت اللہ خامنہ ای کی آخری رسومات، تہران میں ہزاروں افراد کا اجتماع

  • آیت اللہ خامنہ ای امریکی۔اسرائیلی جنگ کے آغاز میں ہونے والے فضائی حملوں میں شہید ہوئے تھے۔
شائع اپ ڈیٹ

ایران کے دارالحکومت تہران میں ہفتے کے روز ہزاروں افراد نے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور ان کے اہلِ خانہ کے جنازوں کی زیارت کے لیے امام خمینی گرینڈ مصلیٰ میں جمع ہو کر انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا۔ آیت اللہ خامنہ ای امریکی۔اسرائیلی جنگ کے آغاز میں ہونے والے فضائی حملوں میں شہید ہوئے تھے۔

سیاہ لباس میں ملبوس سوگوار اسلامی جمہوریہ ایران کے پرچم اٹھائے ہوئے تھے جبکہ ان کے ہاتھوں میں آیت اللہ خامنہ ای اور ان کے بیٹے و جانشین مجتبیٰ خامنہ ای کی تصاویر بھی تھیں۔ خامنہ ای کے تابوت کے ساتھ ان کی بیٹی، داماد، بہو اور 14 ماہ کی پوتی کے تابوت بھی شیشے کے اندر عوام کے لیے رکھے گئے۔ تاہم نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای، جن کے حملے میں زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں، اب تک عوام کے سامنے نہیں آئے۔

سوگوار سینہ کوبی کرتے، نوحہ خوانی کرتے اور امریکہ مردہ باد کے نعرے لگاتے رہے۔ شدید گرمی کے باعث خواتین نے دھوپ سے بچنے کے لیے سفید ویزر اور چھتریوں کا استعمال کیا۔

جنازے کی تقریبات ایسے وقت میں ہو رہی ہیں جب ایران جنگ بندی کے بعد ایک نازک سیاسی مرحلے سے گزر رہا ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ امریکہ کے ساتھ طے پانے والا عبوری معاہدہ ملک کے لیے بڑے اقتصادی فوائد کا باعث بنے گا۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں کہا کہ جنازے کی تقریبات کے باعث ایران کے ساتھ امن مذاکرات ایک ہفتے کے لیے مؤخر کر دیے گئے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ انہیں حیرت ہوئی کہ اتنے لوگ خامنہ ای کے جنازے پر رو رہے ہیں، کیونکہ ان کے خیال میں ایرانی عوام انہیں پسند نہیں کرتے تھے۔ اس پر آرمینیا میں ایرانی سفارت خانے نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ آپ ایسی چیزوں کو نہیں سمجھ سکتے کیونکہ آپ کے پاس نہ تہذیب ہے، نہ تاریخ اور نہ ہی عزت۔

ایرانی حکام کے مطابق خامنہ ای کی تدفین سے قبل آئندہ کئی روز تک تہران، قم، عراق کے مقدس شہروں نجف اور کربلا، اور بعد ازاں مشہد میں بڑے عوامی جلوس اور تعزیتی تقریبات منعقد کی جائیں گی، جن میں لاکھوں افراد کی شرکت متوقع ہے۔