اسلام آباد ہائی کورٹ نے ٹیلی نار پاکستان کے پی ٹی ایم ایل میں انضمام کی منظوری دیدی
- اس فیصلے کے ساتھ ہی ملک کے دو بڑے موبائل آپریٹرز کے انضمام کی آخری قانونی رکاوٹ بھی دور ہو گئی
پاکستان کی ٹیلی کام صنعت کے سب سے بڑے انضمام کا عمل منگل کو اپنے آخری مرحلے میں داخل ہو گیا، جب اسلام آباد ہائی کورٹ نے باضابطہ طور پر ٹیلی نار پاکستان (پرائیویٹ) لمیٹڈ کو پاک ٹیلی کام موبائل لمیٹڈ (پی ٹی ایم ایل) میں ضم کرنے کی منظوری دے دی۔ اس فیصلے کے ساتھ ہی ملک کے دو بڑے موبائل آپریٹرز کے انضمام کی آخری قانونی رکاوٹ بھی دور ہو گئی۔
ذرائع کے مطابق، انضمام کا عمل مکمل ہونے کے بعد نئی کمپنی یوفون اور ٹیلی نار دونوں برانڈز کو ختم کر دے گی اور متحدہ عرب امارات کے گروپ کی عالمی برانڈنگ حکمتِ عملی کے تحت ”e&“ برانڈ اختیار کرے گی۔
اس اقدام کے ذریعے پاکستان کو ”e&“ کے عالمی ٹیلی کام آپریشنز کے مطابق ہم آہنگ کیا جائے گا، جہاں یہ گروپ مختلف ممالک میں اپنے کاروبار کو ایک متحدہ عالمی برانڈ کے تحت یکجا کر رہا ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کی یہ منظوری پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کی جانب سے حتمی نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ (این او سی) جاری کیے جانے کے بعد سامنے آئی، جس سے دونوں ٹیلی کام آپریٹرز کے عملی انضمام کی راہ ہموار ہو گئی۔
جسٹس خادم حسین سومرو نے کمپنیز ایکٹ 2017 کی دفعات 279 تا 283 اور 285(8) کے تحت انضمام کی اسکیم کی منظوری دیتے ہوئے قرار دیا کہ یہ انضمام تمام قانونی تقاضوں پر پورا اترتا ہے، حصص یافتگان اور قرض دہندگان کے لیے منصفانہ ہے اور عوامی مفاد کے خلاف نہیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ دونوں کمپنیوں کے تمام محفوظ قرض دہندگان نے اپنے نو آبجیکشن سرٹیفکیٹس (این او سیز) جمع کرانے کے بعد متفقہ طور پر اس انضمام کی منظوری دی۔
عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن کے کنسورشیم نے بھی الگ سے اپنا این او سی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے پاس جمع کرا دیا تھا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026