ایران امریکہ معاہدے میں پاکستان کی کلیدی سفارت کاری، کیا معیشت کو فائدہ پہنچے گا؟
- یہ فوائد پاکستان کی معیشت میں موجود بنیادی کمزوریوں کو دور کرنے کے لیے کافی نہیں ہوں گے، ماہرین
ایران جنگ کے خاتمے کے لیے امن معاہدہ کرانے میں پاکستان کے کردار نے اسے وسیع سفارتی پذیرائی دلائی ہے، جس کے نتیجے میں اسلام آباد کو کچھ معاشی فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ فوائد پاکستان کی معیشت میں موجود بنیادی کمزوریوں کو دور کرنے کے لیے کافی نہیں ہوں گے۔
وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے گزشتہ ہفتے سوئٹزرلینڈ کے قصبے بورگن اسٹاک میں ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں شرکت کی۔ یہ مذاکرات پاکستان کے کئی ماہ پر محیط سفارتی کردار کا نقطۂ عروج تھے، جو دنیا کی اہم ترین سفارتی کوششوں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کو دیکھ کر کہا، ’’یہ بندہ! کیا حال ہے دوست؟‘‘ اور پھر انہیں گلے لگا لیا۔ دونوں فریقوں سمیت متعدد عالمی رہنماؤں نے پاکستان کا شکریہ ادا کیا کہ اس نے ایسے تنازعے کو ختم کرنے میں مدد دی جو آبنائے ہرمز کو طویل عرصے کے لیے بند کر سکتا تھا، عالمی تیل کی فراہمی کو متاثر کر سکتا تھا اور عالمی معیشت کو شدید نقصان پہنچا سکتا تھا۔
اس سفارتی پیش رفت سے پاکستان کی عالمی اہمیت میں اضافہ ہوا ہے اور ماہرین کے مطابق 250 ملین آبادی والا یہ ملک اس نیک نامی کو اپنی معیشت کے لیے کچھ فوائد میں تبدیل کرنے کا موقع رکھتا ہے، جو دہائیوں سے اتار چڑھاؤ کا شکار رہی ہے۔
تاہم ان کا کہنا ہے کہ ممکنہ فوائد سے ان بنیادی مسائل کا حل نہیں نکلے گا جن میں سماجی اور معاشی ناہمواری، محدود ٹیکس نیٹ اور آئی ایم ایف پر بار بار انحصار شامل ہیں۔
پاکستان آئندہ مالی سال کے لیے 4 فیصد معاشی ترقی اور 8.2 فیصد مہنگائی کا ہدف رکھتا ہے، جبکہ جون میں ختم ہونے والے مالی سال 2025-26 میں معاشی نمو 3.7 فیصد رہنے اور جولائی تا مئی کے دوران اوسط مہنگائی 6.7 فیصد رہنے کا تخمینہ ہے۔
وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد کا کہنا ہے کہ جو ملک اندرونِ ملک استحکام پیدا کرتا ہے اور بیرونِ ملک استحکام کے فروغ میں کردار ادا کرتا ہے، وہ سرمایہ کاری کے لیے زیادہ قابلِ اعتماد منزل بن جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ترقی پر مبنی معاشی ایجنڈا اور امن و استحکام کے علمبردار کی حیثیت پاکستان کو افرادی قوت، انفراسٹرکچر، ٹیکنالوجی اور مستقبل کے ترقیاتی شعبوں میں سرمایہ کاری کے لیے منفرد طور پر موزوں بناتی ہے۔
بہت سے تجزیہ کار توقع کر رہے ہیں کہ امریکہ کی جانب سے پاکستان کو کسی نہ کسی صورت فائدہ پہنچ سکتا ہے، اگرچہ فی الحال ایسی کسی پیش رفت کے آثار نظر نہیں آئے۔
واشنگٹن میں قائم مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ کے ایران پروگرام کے ڈائریکٹر اور سینئر فیلو الیکس وتانکا نے کہا کہ پاکستان کے لیے ایک بڑا فائدہ وسیع مشرقِ وسطیٰ کا زیادہ مربوط حصہ بننے کی بڑی صلاحیت ہے، جو مستقبل میں خطے کے ساتھ دفاع سمیت وسیع معاشی شراکت داریوں کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔
سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کے مطابق ایران پر پابندیوں میں نرمی کی صورت میں ایران اور پاکستان کے درمیان بہت بڑی تجارت ممکن ہو سکتی ہے، خاص طور پر بلوچستان کی زمینی سرحد کے ذریعے۔
یہ منظر پہلے بھی دیکھا جا چکا ہے
11 ستمبر 2001 کے حملوں اور افغانستان پر امریکی حملے کے بعد واشنگٹن کے ساتھ پاکستان کی قربت نے ایک درجن سے زائد دوطرفہ قرض دہندگان سے قرضوں کی ری شیڈولنگ، آئی ایم ایف اور دیگر کثیرالجہتی اداروں کی نئی حمایت اور امریکی امداد حاصل کرنے میں مدد دی تھی۔
تاہم ماہرین کے مطابق پاکستان اپنی ساختی کمزوریوں کی وجہ سے ان مواقع سے بھرپور فائدہ نہ اٹھا سکا۔
معاشی تجزیہ کار اور صحافی خرم حسین نے کہا کہ موجودہ صورتحال 9/11 کے بعد کے دور سے ملتی جلتی ہے، لیکن ایک بنیادی فرق کے ساتھ۔ اس وقت ایک طویل اور تباہ کن جنگ کا آغاز ہو رہا تھا جس میں پاکستان کو اگلے مورچے کا کردار ادا کرنا پڑا جبکہ اس بار پاکستان امن قائم کرنے والے کے طور پر سامنے آیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس فرق کی وجہ سے پاکستان کا اثر و رسوخ اب اس کی اس صلاحیت سے پیدا ہو رہا ہے کہ وہ بیک وقت واشنگٹن، تہران، خلیجی ممالک، ترکیہ اور چین سب کے لیے مفید ثابت ہو رہا ہے۔
سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ سفارتی کردار نے پاکستان کی عالمی ساکھ بہتر بنائی ہے، لیکن اس کا اثر ان بلند پیداواری لاگتوں، کمزور برآمدات اور بیرونی قرضوں کی ادائیگیوں پر نہیں پڑتا جو ملک کو مسلسل آئی ایم ایف پر انحصار کرنے پر مجبور کرتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارا گھر اس قدر بے ترتیبی کا شکار ہے کہ بیرونی دنیا ہماری مدد نہیں کر سکتی جب تک ہم خود اپنی مدد نہ کریں۔
انہوں نے مزید کہا اس جنگ میں کوئی ایسی چیز نہیں جو اس حقیقت کو بدل دے، اور ہم مسلسل آئی ایم ایف پر انحصار کرتے رہیں گے۔
وقتی رعایتوں کے بجائے دیرپا اصلاحات
ہارورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر اور ہارورڈ سینٹر فار انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ کے ڈائریکٹر عاصم اعجاز خواجہ نے کہا کہ پاکستان کو ایسی قلیل مدتی مالی رعایتوں سے گریز کرنا چاہیے جو پیداواری صلاحیت میں اضافہ نہ کریں۔
ان کے مطابق پاکستان کو تعلیمی تبادلوں، وظائف، ٹیکسٹائل اور آئی ٹی خدمات کے لیے ترجیحی مارکیٹ رسائی، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور گرین انویسٹمنٹ فریم ورک کے حصول پر توجہ دینی چاہیے۔
برطانیہ کے مشرقِ وسطیٰ کے وزیر ہیمش فالکنر نے گزشتہ ہفتے پاکستان کے دورے کے دوران امن کے لیے اس کے کردار کو سراہا اور رائٹرز سے گفتگو میں کہا کہ برطانیہ پاکستان کے ساتھ تجارتی روابط بڑھانے کے بے پناہ امکانات دیکھتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آئندہ چند ماہ میں برطانوی وزیر تجارت کے پاکستان آنے کی توقع ہے۔
دو دیگر مغربی ممالک کے سفارت کاروں نے بھی کہا کہ ان کی حکومتیں پاکستان کی امن کوششوں کے بعد معاشی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے امکانات کا جائزہ لے رہی ہیں، تاہم انہوں نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی۔
’امن کی جانب موڑ‘
پرنسٹن یونیورسٹی کے معاشیات پروفیسرِ عاطف میاں نے کہا کہ پاکستان کو سفارت کاری کو ایک بار پھر صرف ڈپازٹس، قرضوں کی رول اوور سہولت یا آئی ایم ایف طرز کی امداد حاصل کرنے کے ذریعہ کے طور پر نہیں دیکھنا چاہیے۔
ان کے مطابق اصل انعام امن کی جانب موڑ ہے، خواہ وہ بیرونی سطح پر ہو یا داخلی سطح پر، جس کی بنیاد علاقائی تجارت، ایران کے ساتھ توانائی روابط، اور خلیجی ممالک و ترکیہ کے ساتھ برآمدات، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور مشترکہ صنعتی تعاون کے ذریعے گہری معاشی شمولیت پر ہو۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ نئے معاشی فوائد حاصل ہو سکتے ہیں، لیکن وہ پاکستان کی گہری ساختی مشکلات کو حل نہیں کر سکیں گے۔
آکسفورڈ یونیورسٹی میں ترقیاتی معاشیات کے ایسوسی ایٹ پروفیسر عدیل ملک نے خبردار کیا کہ اگر ساختی اصلاحات نافذ نہ کی گئیں تو آنے والی دہائیوں میں ملک شدید بحران کا شکار ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے نوجوانوں اور سکڑتے ہوئے متوسط طبقے میں حکمران اشرافیہ کے خلاف گہری بے چینی اور شکایات موجود ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ نظام نے حکمران اشرافیہ کو تو طویل عرصے تک اقتدار میں رہنے کا موقع دیا ہے، لیکن اس کے نتیجے میں ملک سماجی اور معاشی طور پر غیر محفوظ ہو گیا ہے۔