اکنامک سروے میں مالی سال 26-2025 کے لیے 3.7 فیصد کی شرح نمو کا تخمینہ، جو کہ نو ماہ کے اعداد و شمار (جولائی تا مارچ) تک محدود ہے، موجودہ سال میں ایک اندازے سے زیادہ کچھ نہیں ہے، خاص طور پر اس لیے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع کا دورانیہ تمام تر ابتدائی پیشگوئیوں سے تجاوز کر چکا ہے، اگرچہ آئی ایم ایف کی ٹیم نے 15 مئی کو اپنے تیسرے جائزے کی دستاویزات میں یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ تنازع کے اثرات محدود رہے ہیں۔

تاہم جو چیزیں قابو میں نہیں رہیں ان میں رواں سال اپریل میں ہیڈلائن انفلیشن (عام اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ) کا 10.9 فیصد تک پہنچ جانا، تجارتی خسارے کا اپریل 2025 کے مقابلے میں اپریل 2026 میں 5.6 ارب ڈالر تک بڑھ جانا اور ترسیلاتِ زر کی آمد میں مارچ گزشتہ سال کے مقابلے میں رواں سال مارچ میں 7.5 فیصد کمی شامل ہے۔ اسی طرح جاری اخراجات بھی قابو میں نہیں تھے، کیونکہ مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کی وجہ سے رسد میں خلل کے بعد عوام کو غیر بجٹی اور غیر ہدف شدہ سبسڈی دی گئی، جس کے نتیجے میں اپریل سے جون 2026 کے دوران غیر سودی جاری اخراجات میں اضافہ ہوا۔ آئی ایم ایف نے رپورٹ کیا ہے کہ پاکستان نے ان سبسڈیوں کو نہ بڑھانے پر اتفاق کیا ہے کیونکہ یہ بنیادی طور پر معاشی بگاڑ کا باعث بنتی ہیں۔

اکنامک سروے میں دیگر باتوں کے علاوہ، گزشتہ سال اسی مدت کے مقابلے میں جاری اخراجات میں 4.2 فیصد کمی کو نوٹ کیا گیا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ زیادہ شرح سود پر لیے گئے مختصر مدتی قرضوں (بشمول وہ دور جب پالیسی ریٹ 22 فیصد کے قریب تھا) کو کم شرح سود والے طویل مدتی قرضوں میں تبدیل کرنا تھا۔ تاہم، اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ قرض لینے پر انحصار کم ہوا ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان، پاکستان بیورو آف شماریات اور فنانس ڈویژن کی ویب سائٹس پر موجود ڈیٹا ظاہر کرتا ہے کہ جولائی تا مئی 2025-26 کے دوران حکومت نے کمرشل بینکوں سے 3.5 کھرب روپے کے قرضے لیے، یہ وہ رقم ہے جس میں غالباً توانائی شعبے کے گردشی قرضوں کی ادائیگی کیلئے لیے گئے 1.25 کھرب روپے شامل نہیں ہیں جنہیں ون آف اقدام قراردیا گیا ہے۔

مجموعی طور پر حکومت نے رواں سال مئی تک کمرشل بینکوں سے 4.75 کھرب روپے کے قرضے لیے جبکہ مالی سال کے اختتام میں صرف ایک ماہ باقی تھا۔ دوسری جانب یکم جولائی 2025 سے 3 اپریل 2026 تک نجی شعبے (پرائیویٹ سیکٹر) کو فراہم کردہ کریڈٹ 864.3 ارب روپے رہا (اوسطاً تقریباً 96 ارب روپے ماہانہ)۔ اس طرح رواں سال جولائی سے مئی تک نجی شعبے کے لیے کل کریڈٹ کا تخمینہ زیادہ سے زیادہ 1.05 کھرب روپے لگایا جا سکتا ہے۔ تاہم جولائی تا مارچ غیر سود جاری اخراجات میں 18 فیصد اضافہ ہوا جس کی وجہ دفاعی اخراجات اور گرانٹس میں اضافہ تھا جو بنیادی طور پر سرحد پار سے دہشت گردانہ حملوں میں اضافے کے باعث آپریشنل لاگت بڑھنے کی وجہ سے ہوا۔ اس کے علاوہ اضافی گرانٹس کی تفصیلات کا تعین نہیں کیا گیا۔ حکومت کی جانب سے قرضوں میں یہ اضافہ ترقیاتی مقاصد کے لیے مختص نہیں کیا گیا، حالانکہ سروے میں ترقیاتی بجٹ میں 26.8 فیصد اضافے کا ذکر موجود ہے، تاہم پلاننگ منسٹری کی ویب سائٹ کے اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ جولائی تا اپریل 2026 کے دوران 633.34 ارب روپے کی منظوری دی گئی تھی جبکہ اصل رقوم کا اجرا 469.85 ارب روپے تک رہا۔

سروے میں ایف بی آر کی بہتر کارکردگی کا ذکر کیا گیا ہے۔ وزیر خزانہ نے روایتی سروے پریزنٹیشن بریفنگ میں نشاندہی کی کہ چینی اور سیمنٹ پر فیکٹری کی سطح پر سیلز ٹیکس کے آڈٹ سے محصولات کی وصولی میں اضافہ ہوا ہے (جو کہ ایک بالواسطہ ٹیکس ہے جسے مکمل طور پر صارفین پر منتقل کر دیا جاتا ہے)۔ جولائی تا مئی 2026 کے دوران ایف بی آر کی جانب سے 12.09 کھرب روپے کے نظر ثانی شدہ ہدف کے مقابلے میں 868 ارب روپے کے متوقع شارٹ فال (کمی) کی ایک وجہ جی ڈی پی کی شرح نمو کا بجٹ میں دیے گئے 4.2 فیصد کے تخمینے سے کم ہونا ہے۔ وزیر خزانہ نے نشاندہی کی کہ یہ ہدف تین بیرونی عوامل کی وجہ سے متاثر ہوا: مشرقِ وسطیٰ کا تنازع، ستمبر میں آنے والے سیلاب، اور ٹرمپ ٹیرف۔

نان ٹیکس محصولات میں اضافہ بڑی حد تک پیٹرولیم لیوی اور اسٹیٹ بینک کے منافع کی وجہ سے ہوا۔ مینوفیکچرنگ شعبے میں 6.6 فیصد نمو دیکھی گئی جس میں بڑی صنعتوں کا حصہ 6.1 فیصد رہا۔ تاہم اس سال کل سرمایہ کاری جی ڈی پی کا 14.4 فیصد رہی جو کہ بالکل پچھلے سال کی شرح کے برابر ہے جبکہ قومی بچت کی شرح 14.9 فیصد سے کم ہو کر 14.1 فیصد رہ گئی۔

مذکورہ بالا تفصیلات سے یہ نتیجہ باآسانی اخذ کیا جا سکتا ہے کہ حکومت 4 فیصد یا اس سے زائد کی شرحِ نمو کی توقع کررہی تھی جو کہ پوری نہ ہو سکی، تاہم اگر ایران کی جاری جنگ 2025 کے سیلاب اور ٹرانزیکشنل (مفاداتی) تجارتی پالیسیوں کے نتیجے میں امریکی ٹیرف سے پیدا ہونے والی الجھنوں جیسے بڑے چیلنجوں کے پیمانے کو مدنظر رکھا جائے تو معیشت کی کارکردگی بہت مایوس کن نہیں رہی۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026