دنیا

ٹرمپ کی تنبیہ کے باوجود اسرائیل کا ایران کے پیٹروکیمیکل پلانٹ پر نیا حملہ

  • اسرائیلی فوج کے مطابق 8 اپریل کی جنگ بندی کے بعد پہلی بار ایران کے توانائی کے شعبے سے متعلق کسی تنصیب پر حملہ کیا گیا
شائع June 8, 2026 اپ ڈیٹ June 8, 2026 03:31pm

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کو مزید حملوں سے گریز کرنے کی ہدایت کی اطلاعات کے باوجود اسرائیل نے پیر کو ایران کے جنوب مغربی علاقے میں واقع ایک پیٹروکیمیکل پلانٹ سمیت مختلف فوجی اہداف کو نشانہ بنایا۔

اسرائیلی فوج کے مطابق 8 اپریل کی جنگ بندی کے بعد پہلی بار ایران کے توانائی کے شعبے سے متعلق کسی تنصیب پر حملہ کیا گیا۔ اسرائیل نے دعویٰ کیا کہ مہشہر پیٹروکیمیکل کمپلیکس میں اہم اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ ایرانی خبر رساں ادارے فارس کے مطابق پلانٹ کے بعض حصوں کو نقصان پہنچا ہے۔

دوسری جانب یمن کے حوثی باغیوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ بحیرہ احمر میں اسرائیل کی بحری نقل و حرکت کو روکیں گے اور جنگ بندی کے بعد اسرائیل پر کیے گئے پہلے میزائل حملے کی ذمہ داری بھی قبول کی۔ حوثیوں نے اپنے بیان میں کہا کہ دشمن کی تمام نقل و حرکت ہماری مسلح افواج کے لیے جائز فوجی اہداف ہیں۔

اس سے چند گھنٹے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ اسرائیل اور ایران کے تازہ حملے تہران کے ساتھ جاری امن مذاکرات پر اثر انداز نہیں ہوں گے۔ برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کو انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ فیصلے میں کرتا ہوں، نیتن یاہو نہیں۔

ادھر ایران نے اسرائیلی حملوں کے جواب میں متعدد بیلسٹک میزائل داغے، جبکہ اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے ان میں سے کئی میزائل تباہ کر دیے۔

تازہ کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تین فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا اور برینٹ خام تیل کی قیمت دوبارہ 96 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی۔

امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ مکمل طور پر کھولنے کے لیے مذاکرات جاری ہیں، تاہم دونوں فریق حالیہ دنوں میں ایک دوسرے پر حملے بھی کرتے رہے ہیں، جس سے خطے میں کشیدگی بدستور برقرار ہے۔