مارکٹس

اسرائیل کے لبنان پر حملے، خام تیل کی قیمتیں 3 ڈالر سے زائد بڑھ گئیں

  • برینٹ کروڈ کے نرخ 96.24 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئے
شائع June 8, 2026 اپ ڈیٹ June 8, 2026 11:04am

خام تیل کی قیمتوں میں پیر کو 3 ڈالر فی بیرل سے زائد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ابتدا میں اسرائیل کی جانب سے ایک روز قبل لبنان پر نئے حملوں کے آغاز سے مارکیٹ میں تشویش پھیلی، بعد ازاں ایران میں دھماکوں کی آوازیں سنائی دینے کی اطلاعات کے بعد قیمتوں میں مزید تیزی آگئی۔

مقامی میڈیا نے پیر کی علی الصبح رپورٹ کیا کہ تہران، تبریز اور اصفہان میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں جس نے بڑے پیمانے پر جاری اس جنگ کے فوری خاتمے اور آبنائے ہرمز کے ذریعے خام تیل کی سپلائی دوبارہ شروع ہونے کی امیدوں پر پانی پھیر دیا۔

صبح 03:33 بجے تک برینٹ کروڈ کے نرخ 3.20 ڈالر یا 3.39 فیصد اضافے کے ساتھ 96.24 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئے جب کہ امریکی خام تیل کے فیوچرز 2.87 ڈالر یا 3.17 فیصد کی تیزی کے ساتھ 93.41 ڈالر فی بیرل پر جاپہنچے۔

یہ اضافہ جمعہ کے نقصانات کو ختم کرنے کے لیے کافی ثابت ہوا جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی کی امید پر تیل کی قیمتیں گر گئی تھیں حالانکہ مارچ سے اب تک اس تنازع کے باعث تیل کی قیمتوں میں 50 فیصد سے زائد اضافہ ہوچکا ہے۔

اگرچہ ایران نے اتوار کو جوابی کارروائی کرتے ہوئے اسرائیلی اہداف پر میزائلوں کی بارش کی تاہم امریکی صدر نے اصرار کیا کہ وسیع تر جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدہ اب بھی ممکن ہے۔

رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو کو مزید حملوں سے باز رہنے کی تاکید بھی کی۔

ٹرمپ نے فنانشل ٹائمز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس کا معاہدے پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ فیصلے میں کرتا ہوں، تمام فیصلے میں ہی کرتا ہوں، وہ (نیتن یاہو) فیصلے نہیں کرتا۔

دوسری جانب ایران نے واشنگٹن کے ساتھ امن معاہدے کے لیے لبنان کے ساتھ جنگ بندی کو شرط قرار دیا ہے۔

اسرائیل نے مارچ میں حزب اللہ کی جانب سے سرحد پار راکٹ اور ڈرون حملوں کے بعد لبنان پر چڑھائی کی تھی۔ لبنان اور اسرائیل نے 3 جون کو کہا تھا کہ وہ واشنگٹن میں ہونے والے مذاکرات کے بعد جنگ بندی پر راضی ہو گئے ہیں۔

دونوں ممالک نے اس سے قبل اپریل میں بھی دشمنی کے خاتمے پر اتفاق کیا تھا لیکن تشدد کا سلسلہ جاری رہا۔

اپریل کے اوائل میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر اپنے حملے روکنے کے بعد سے یہ وسیع تر جنگ تعطل کا شکار ہے، جبکہ تہران نے دنیا کے پانچویں حصے کے تیل کی نقل و حمل کے اہم ترین راستے آبنائے ہرمز سے زیادہ تر بحری جہازوں کی آمد و رفت کو روک رکھا ہے۔ دوسری جانب واشنگٹن نے ایرانی بندرگاہوں کی اپنی سطح پر ناکہ بندی کر رکھی ہے۔“

اس کے نتیجے میں اوپیک پلس نے اتوار کو چار مہینوں میں چوتھی بار تیل کی پیداوار میں اضافے پر اتفاق کیا۔ لیکن تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کا کوئی خاص اثر نہیں پڑے گا کیونکہ اوپیک پلس کے بیشتر ارکان آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث اپنے پیداواری اہداف پورے نہیں کر پا رہے یا روس کے معاملے میں انفرااسٹرکچر پر ہونے والے حملوں نے اس کی پیداواری صلاحیت کو نقصان پہنچایا ہے۔