مارکٹس

تیل کی قیمتوں میں اضافے کے بعد معمولی کمی، ایران نے اسرائیل پر حملے بند کرنے کا اعلان کر دیا

  • عالمی مارکیٹ میں برینٹ کروڈ کی قیمت 1.01 ڈالر بڑھ کر 94.19 ڈالر فی بیرل ہو گئی
شائع اپ ڈیٹ

عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں تیزی کا رجحان اس وقت کچھ مدہم پڑ گیا جب ایرانی فوج نے یہ اعلان کیا کہ اپریل کی جنگ بندی کے بعد اسرائیل پر کیا جانے والا حملوں کا پہلا مرحلہ ختم ہو چکا ہے۔ اس سے قبل کاروباری سیشن کے آغاز میں تیل کی قیمتوں میں 5 فیصد سے زائد کا بڑا اضافہ دیکھا گیا تھا۔

تاہم ایران نے یہ انتباہ بھی جاری کیا ہے کہ اگر اسرائیل نے لبنان پر اپنے حملے جاری رکھے تو اسے اس سے بھی زیادہ سخت جوابی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

عالمی وقت کے مطابق صبح 11:51 بجے برینٹ خام تیل کے سودے 1.01 ڈالر (یا 1.2 فیصد) کے اضافے کے ساتھ 94.19 ڈالر فی بیرل پر دیکھے گئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیوٹی آئی) کے سودے 79 سینٹ (یا 0.9 فیصد) بڑھ کر 91.33 ڈالر فی بیرل پر بند ہوئے۔

قبل ازیں ایران پر اسرائیل کے تازہ فضائی حملوں اور لبنان پر بمباری کے باعث وسیع تر جنگ کے فوری خاتمے کی امیدیں دم توڑنے لگی تھیں، جس کے نتیجے میں قیمتیں 5 فیصد سے زیادہ بڑھ گئی تھیں۔ تقریباً 100 دن قبل شروع ہونے والے اس تنازع کے بعد سے اب تک برینٹ کی قیمتوں میں 30 فیصد جبکہ ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت میں 36 فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔ یاد رہے کہ اپریل میں برینٹ خام تیل کی قیمت 126 ڈالر فی بیرل کی بلند ترین سطح کو چھو گئی تھی۔

اسرائیل نے جنوب مغربی ایران میں ایک پیٹرو کیمیکل پلانٹ کو نشانہ بنایا اور دعویٰ کیا کہ اس پلانٹ کو بیلسٹک میزائل بنانے کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔ جواب میں ایران کی سپاہِ پاسدارانِ انقلاب نے بیان دیا کہ ملک نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے اسرائیل کے شہر حیفہ میں اسی نوعیت کی ایک تنصیب کو نشانہ بنایا ہے۔

حملوں کا یہ تبادلہ ہفتے اور اتوار کے روز بیروت میں ایران کی حمایت یافتہ تنظیم حزب اللہ کے ٹھکانوں پر اسرائیلی بمباری کے بعد دیکھنے میں آیا۔ تہران بارہا یہ کہہ چکا ہے کہ واشنگٹن کے ساتھ جنگ بندی کا کوئی بھی معاہدہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اسرائیل لبنان میں اپنی فوجی کارروائیاں بند نہیں کرتا۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو اسرائیل اور ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر ایک دوسرے پر فائرنگ بند کریں۔

یو بی ایس کے تجزیہ کار جیووانی سٹاوونو کے مطابق ان حملوں کی وجہ سے سرمایہ کار اس تشویش میں مبتلا ہیں کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی نقل و حمل (سپلائی چین) طویل عرصے تک متاثر رہ سکتی ہے۔

واضح رہے کہ فروری کے آخر میں امریکہ اور اسرائیل کے فضائی حملوں کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کی نئی لہر شروع ہونے سے پہلے دنیا بھر میں روزانہ سپلائی ہونے والے خام تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کا تقریباً پانچواں حصہ (20 فیصد) اسی آبنائے ہرمز سے گزرتا تھا۔

پیر کو ماسکو میں تعینات ایرانی سفیر کے حوالے سے بتایا گیا کہ یہ سمندری راستہ (آبنائے ہرمز) کھلا رہے گا لیکن اس کے لیے کچھ شرائط ہوں گی جو ایران اور عمان مل کر طے کریں گے، جس میں ٹرانزٹ فیس (گزرگاہ ٹیکس) بھی شامل ہے۔

ایس ای بی ریسرچ سے وابستہ ایرک میئرسن کے مطابق مارکیٹ کے لیے فوری طور پر ایک ایسا محدود معاہدہ سودمند رہے گا جو اصل تنازعات کو چھیڑے بغیر وقت حاصل کر سکے، تاکہ رسد کی بندش اور باہمی حملوں کا سلسلہ روکا جا سکے۔

اوپیک پلس پیداوار میں اضافہ کرے گا

سپلائی کے اس شدید بحران کے پیشِ نظر اوپیک پلس نے اتوار کے روز چار مہینوں میں چوتھی بار تیل کی پیداوار بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔ تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کا مارکیٹ پر کوئی خاص اثر نہیں پڑے گا، کیونکہ اوپیک پلس کے بیشتر اراکین آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے اپنے پیداواری اہداف پورے کرنے سے قاصر ہیں، جبکہ روس کے معاملے میں اس کے بنیادی ڈھانچے پر ہونے والے حملوں نے اس کی پیداواری صلاحیت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

رائسٹڈ انرجی کے جیو پولیٹیکل اینالیسس کے سربراہ جارج لیون نے اپنے کلائنٹس کے لیے جاری ایک نوٹ میں لکھا کہ موجودہ مارکیٹ کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے اس فیصلے کا زمینی سطح پر اثر تقریباً صفر کے برابر ہوگا۔